Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 351

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ ابِى حَثْمَةَ الْاَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : اِنْـطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ اِلٰى خَيْبَـرَ وَهِىَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا فَاَتَى مُحَيِّصَةُ اِلٰى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهْوَ يَتَشَحَّطُ فِى دَمِهِ قَتِيْلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْـطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ اِلَى النَّبِىِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ : كَبِّرْ كَبِّرْ وَهُوَ اَحْدَثُ الْقَوْمِ فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا فَقَالَ :

اَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّوْنَ قَاتِلَكُمْ. وَذَکَرَ تَمَامَ الْحَدِیْث. ( )

عن سهل بن ابى حثمة الانصاری رضی اللہ عنہ قال : انـطلق عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود الى خيبـر وهى يومئذ صلح فتفرقا فاتى محيصة الى عبد الله بن سهل وهو يتشحط فى دمه قتيلا فدفنه ثم قدم المدينة فانـطلق عبد الرحمن بن سهل ومحيصة وحويصة ابنا مسعود الى النبى صلی اللہ علیہ والہ وسلم فذهب عبد الرحمن يتكلم فقال : كبر كبر وهو احدث القوم فسكت فتكلما فقال :

اتحلفون وتستحقون قاتلكم. وذکر تمام الحدیث. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن ابو حثمہ انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سیدناعبداللہبن سہل اور حضرت سیدنا محیصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاخیبر کی طرف گئے ، یہ صلح کے دن چل رہے تھے ۔ ( یعنی جنگ بند تھی ) وہ دونوں جدا ہوگئے ، بعد میں حضرت سیدنا محیصہ حضرت سیدناعبداللہبن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ خون میں لَت پَت ہیں اور دم توڑ چکے ہیں ، حضرت سیدنا محیصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں دفن کیا اور مدینے آگئے ۔ پھر سیدنا عبد الرحمٰن بن سہل ، حضرت سیدنا محیصہ اور سیدنا حویصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْجو کہ مسعود کے بیٹے ہیں بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے ، حضرت سیدنا عبد الرحمٰنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبات کرنے لگے تو حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” بڑے کو بات کرنے دو ، بڑے کو بات کرنے دو ۔ “ سیدنا عبد الرحمٰن بن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاُن سب میں چھوٹے تھے تو وہ خاموش ہوگئے ۔ پھر حضرت سیدنا محیصہ اور سیدنا حویصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے سارا واقعہ بیان کیا تو تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : کیا تم اپنے مقتول کے قاتل پر قسم کھاسکتے ہو؟“ ( پھر امام بخاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مکمل حدیث ذکر فرمائی ۔ )

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب چند افراد کو کہیں بات کرنی ہوتو پہلے بڑے بات کریں ۔ جیسا کہ جب سیدنا عبد الرحمٰن بن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بات کرنا چاہی تورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے فرمایا : ” بڑوں کو بات کرنے دو ۔ “ اس سے پتہ چلا کہ بات کرنے میں بھی بڑوں کو مقدم رکھنا چاہیے ۔ یہ باب بھی اہل فضل کو مقدم رکھنے کے بارے میں ہے اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ۔ امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس حدیث پاک کو مکمل بیان نہیں فرمایا کیونکہ اُن کا مقصود فقط اتنی حدیثِ پاک سے حاصل ہوگیا تھا کہ بڑوں کو مُقَدَّم کرنا چاہیے ۔

¥
حدیث پاک میں مذکورمکمل واقعہ :امام طحاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہبن سہل اور حضرت سیدنا محیصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاخیبر کی طرف گئے ، پھر کسی کام سے دونوں جدا ہوگئے ۔ بعد میں حضرت سیدنا سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخیبر کے قلب میں ایک کنوئیں میں مقتول پائے گئے ، اُن کے بھائی حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور اُن کے دو چچا زاد بھائی سیدنا محیصہ اور سیدنا حویصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجو کہ مسعود کے بیٹے تھے بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُگفتگو کرنے لگے ، چونکہ یہ اِن سب میں چھوٹے تھے اِس لیے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا : ” بڑوں کو بات کرنے دو ۔ “ تو وہ خاموش ہوگئے اور حضرت سیدنا محیصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سارا واقعہ بیان کیااور یہ ذکر کیا کہ یہود اُن سے عداوت رکھتے تھے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اگر یہودپچاس قسمیں کھالیں کہ ہم نے قتل نہیں کیا تو کیا تم اُن کو بَری کردو گے ؟ ‘‘ تو انہوں نے عرض کی : ’’ہم مشرکوں کی قسموں کا اعتبار کیسے کرسکتے ہیں؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’پھر تم میں سے پچاس آدمی یہ قسم کھائیں کہ یہود نے اس کو قتل کیا ہے ۔ ‘‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اُس چیز کی قسم کیسے کھائیں جس کو ہم نے دیکھا ہی نہیں ۔ ‘‘ پھر تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے پاس سے اُن کی دیت ادا کردی ۔ ( )
¥
بڑی عمروالے کو مُقَدَّم کیا جائے :عَلَّامَہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مقتول کے بھائی سیدنا عبد الرحمٰن بن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور ان کے دو چچا زاد بھائی سیدنا محیصہ اور سیدنا حویصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔ مقتول کے بھائی سیدنا عبد الرحمٰنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بات کرنا چاہی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ’’تم میں سے بڑا بات کرے ۔ ‘‘ بے شک حقِ دعویٰ تو سیدنا

عبدالرحمٰن بن سہل
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہی کو تھا ، نہ کہ اُن کے چچازاد بھائیوں کو ۔ لیکن حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن میں بڑے کو کلام کرنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ سارا واقعہ معلوم کریں ۔ اس حدیث میں بڑے کی فضیلت کا ذکر ہے کہ جب کچھ لوگ فضائل میں برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو اسے مُقَدَّم کیا جائے جیسا کہ اِمامت ، ولایتِ نکاح میں بڑے کو مُقَدَّم کیا جاتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
بڑوں کا ادب ہرحال میں کرنا چاہیے :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی تم میں جو سب سے بڑے ہیں انہیں پہلے گفتگو کرنے دو پھر تم کچھ کہنا ۔ بڑے حویصہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) تھے ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ بڑوں کا ادب ہر حال میں چاہیے اور عمر کی بڑائی بھی معتبر ہے ، بڑائی بہت سی قسم کی ہوتی ہے : رشتہ کی بڑائی ، علم کی بڑائی ، تقویٰ کی بڑائی ، عمر کی بڑائی ، یہاں عمر کی بڑائی مراد ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل :( 1 ) اِس حدیث پاک سے ہمیں ایک درس یہ بھی ملتا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوجائے تو اسے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے بلکہ قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے حاکم وقت یا مقررہ حکام کے پاس جانا چاہیے ۔ جیسا کہ مذکورہ واقعے میں حضرت سیدناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو قتل کردیا گیا حالانکہ وہ صلح کے دن چل رہے تھے ، اس کے باوجود اُن کے بھائی اور چچازاد بھائیوں نے کسی قسم کا کوئی جذباتی فعل یا غیر قانونی کام نہیں کیا بلکہ سیدھے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور قتل کا دعویٰ دائر کیا ۔ ( 2 ) یہ بھی معلوم ہوا کہ جب تک کسی شخص کے بارے میں تصدیق نہ ہوجائے کہ فلاں کام اس نے کیا ہے تب تک اس کو موردِ اِلزام نہیں ٹھہرانا چاہیے ۔ ( 3 ) یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے جھوٹی قسم نہیں کھانی چاہیے ۔ جھوٹی قسم کو سرکارِمدینہ راحت

قلب وسینہ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے ۔ ( )مدنی گلدستہ
’’رحمت ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں کی موجودگی میں خود کلام نہ کریں پہلے بڑوں کو بات کرنے کا موقع دیں ۔
(2) بڑوں کا ہر حال میں ادب و احترام کرنا چاہیے ۔
(3) اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے حاکم وقت یا متعلق حکام سے بالمشافہ رابطہ کرے ۔
(4) جھوٹی قسم نہیں کھانی چاہیے کہ سرکار
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بڑوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں جھوٹی قسم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 351