- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- علماء کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 353
علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 353
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِیْ رَجُلَانِ اَحَدُهُمَا اَكْبَرُ مِنَ الْاخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْاَصْغَرَ فَقِيلَ لِي : كَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ اِلَى الْاَ كْبَرِ مِنْھُمَا . ( )
وعن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان النبی صلى الله عليه وسلم قال : اراني في المنام أتسوك بسواك فجاءنی رجلان احدهما اكبر من الاخر فناولت السواك الاصغر فقيل لي : كبر فدفعته الى الا كبر منھما . ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہاہوں ، پس میرے پاس دو شخص آئے ، اُن میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے چھوٹے کو مسواک دی تو مجھ سے کہا گیا : ” بڑے کودو ۔ “ پھر میں نے اُن میں سے بڑے کو مسواک دے دی ۔
شرح حدیث
انبیائے کرام کے خواب حق ہیں :واضح رہے کہ نبی کو جو چیز خواب میں بتائی جائے وہ بھی وحی ہوتی ہے اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال ہی نہیں ۔ کیونکہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب بالکل سچے ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک کے پارہ ۱۲ ، سورۂ یوسف کی آیت نمبر۳ میں حضرت سیدنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب کا بیان ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند انہیں سجدہ کررہے ہیں ۔ اور یہ خواب بالکل برحق تھا ۔حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب برحق ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥ہر اچھے کام میں بڑوں کو مقدم رکھا جائے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے پتہ چلا کہ جب کوئی جماعت موجود ہو تو اُن میں جو عمر میں بڑے ہوں اُنہیں مُقَدَّم رکھا جائے اور چھوٹوں کے بجائے اُن سے ابتدا کی جائے ، اسی طرح سلام کرنے ، کھانے پینے اور دوسرے اُمور میں بھی یہی سنت ہے کہ بڑوں سے ابتدا کی جائے ۔ ‘‘ ( ) دلیل الفالحین میںعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بھی یہی کلام فرمایا ہے ۔
¥دائیں ہاتھ سے کب ابتدا کی جائے ؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’بڑوں سے ابتداء کرنا اسلامی آداب میں سے ہے ۔ امام مہلبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ ہر ذیشان کام میں بڑوں کو مُقَدَّم کرنا بہتر ہے لیکن یہ حکم اُس وقت ہے کہ جب سب لوگ ترتیب سے بیٹھے ہوئے نہ ہوں ۔ اگر لوگ مجلس میں ترتیب سے بیٹھے ہوئے ہوں تو پھر سیدھے ہاتھ سے پہل کرنا سنت ہے ۔ ( یعنی جو دائیں جانب بیٹھا ہو پہلے اُسے دیں ) جیسا کہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مجلس میں کم عمر لڑکے کو اپنا بچا
ہوا دودھ عطا فرمایا کیونکہ وہ سیدھی جانب بیٹھا ہوا تھا ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے بھی عمدۃ القاری میں یہی کلام ذکر فرمایا ہے ۔
¥مسواک کرنا سنت ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی کو مسواک عطا فرمائی ۔ واضح رہے کہ مسواک ہمارے پیارے نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیاری سنت مبارکہ ہے ، مسواک سے دنیوی واخروی دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مسواک کے فضائل وفوائد پرمشمل پانچ فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’مسواک میں منہ کی پاکیزگی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا ہے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’مسواک کیا کروکیونکہ مسواک میں منہ کی پاکیزگی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاہے ، جب بھی جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَاممیرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی وصیت کی یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر اور میری اُمَّت پر فرض نہ ہوجائے اور اگر مجھے اپنی اُمَّت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتومیں ان پر مسواک کرنا فرض کردیتا اور بے شک میں اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں اپنے اگلے دانت زائل نہ کرلوں ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’بلاشبہ مجھے مسواک کا اس قدر حکم دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں مسواک کے بارے میں میری طرف وحی نہ آجائے ۔ ‘‘ ( ) ( 4 ) ’’اگر مجھے اپنی اُمَّت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتو میں انہیں ہر ( نَماز کے وقت ) وضو کے ساتھ مسواک کرنے کاحکم دیتا ۔ ‘‘ ( ) (5 ) ’’بندہ جب مسواک کرتاہے پھر نَماز کے لئے کھڑا ہوتاہے تو اس کے پیچھے ایک فرشتہ بھی کھڑا ہوجاتاہے اوراس کی قراء ت کو غور سے سنتا ہے اور جب بھی وہ کوئی آیت یا کلمہ پڑھتا ہے تو فرشتہ اس سے قریب ہو جاتاہے یہاں تک کہ
اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیتاہے تو اس کے منہ سے جتنا قرآن نکلتا ہے فرشتے کے منہ میں داخل ہوجاتاہے ، اس لئے تم قرآن کیلئے اپنے منہ کو پاک رکھا کرو ۔ ‘‘ ( )
¥دوسرے کی مسواک استعمال کرنا :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی مبارک مسواک کسی شخص کو عطا فرمائی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی استعمال والی مسواک کسی دوسرے کو دی جاسکتی ہے ، نیز کسی کی استعمال شدہ مسواک اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ دوسرے کی مسواک اس کی اجازت سے استعمال کرنا جائز ہے ، البتہ مستحب یہ ہے کہ پہلے اسے دھولے اور پھر استعمال کرے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’احترام ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب بھی وحی الٰہی ہوتے ہیں ۔
(2) اسلام میں بڑوں کے ادب واحترام کا درس عظیم دیا گیا ہے ۔
(3) ہراچھے کام میں بڑوں کو مقدم رکھا جائے کہ اس کی احادیث میں تعلیم دی گئی ہے ۔
(4) اگر کچھ لوگ بیٹھے ہوں تو ایسی صورت میں دائیں جانب سے ابتدا کی جائے ۔
(5) مسواک کرنا ہمارے پیارے نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیاری پیاری سنت ہے ، اس پر عمل کیجئے اور ڈھیروں ثواب کمائیے ۔
(6) اپنی مسواک بھی کسی کو دی جاسکتی ہے ، نیز کسی دوسرے کی استعمال شدہ مسواک بھی اپنے استعمال
میں لائی جاسکتی ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ اسے دھوکر استعمال کیا جائے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بڑوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں ہر ہر معاملے میں مقدم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں مسواک جیسی پیاری سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 353