Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 353

جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِیْ رَجُلَانِ اَحَدُهُمَا اَكْبَرُ مِنَ الْاخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْاَصْغَرَ فَقِيلَ لِي : كَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ اِلَى الْاَ كْبَرِ مِنْھُمَا . ( )

وعن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان النبی صلى الله عليه وسلم قال : اراني في المنام أتسوك بسواك فجاءنی رجلان احدهما اكبر من الاخر فناولت السواك الاصغر فقيل لي : كبر فدفعته الى الا كبر منھما . ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہاہوں ، پس میرے پاس دو شخص آئے ، اُن میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے چھوٹے کو مسواک دی تو مجھ سے کہا گیا : ” بڑے کودو ۔ “ پھر میں نے اُن میں سے بڑے کو مسواک دے دی ۔

شرح حدیث

انبیائے کرام کے خواب حق ہیں :واضح رہے کہ نبی کو جو چیز خواب میں بتائی جائے وہ بھی وحی ہوتی ہے اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال ہی نہیں ۔ کیونکہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب بالکل سچے ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک کے پارہ ۱۲ ، سورۂ یوسف کی آیت نمبر۳ میں حضرت سیدنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب کا بیان ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند انہیں سجدہ کررہے ہیں ۔ اور یہ خواب بالکل برحق تھا ۔حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب برحق ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
ہر اچھے کام میں بڑوں کو مقدم رکھا جائے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے پتہ چلا کہ جب کوئی جماعت موجود ہو تو اُن میں جو عمر میں بڑے ہوں اُنہیں مُقَدَّم رکھا جائے اور چھوٹوں کے بجائے اُن سے ابتدا کی جائے ، اسی طرح سلام کرنے ، کھانے پینے اور دوسرے اُمور میں بھی یہی سنت ہے کہ بڑوں سے ابتدا کی جائے ۔ ‘‘ ( ) دلیل الفالحین میںعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بھی یہی کلام فرمایا ہے ۔
¥
دائیں ہاتھ سے کب ابتدا کی جائے ؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’بڑوں سے ابتداء کرنا اسلامی آداب میں سے ہے ۔ امام مہلبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ ہر ذیشان کام میں بڑوں کو مُقَدَّم کرنا بہتر ہے لیکن یہ حکم اُس وقت ہے کہ جب سب لوگ ترتیب سے بیٹھے ہوئے نہ ہوں ۔ اگر لوگ مجلس میں ترتیب سے بیٹھے ہوئے ہوں تو پھر سیدھے ہاتھ سے پہل کرنا سنت ہے ۔ ( یعنی جو دائیں جانب بیٹھا ہو پہلے اُسے دیں ) جیسا کہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مجلس میں کم عمر لڑکے کو اپنا بچا

ہوا دودھ عطا فرمایا کیونکہ وہ سیدھی جانب بیٹھا ہوا تھا ۔ ‘‘ ( )
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے بھی عمدۃ القاری میں یہی کلام ذکر فرمایا ہے ۔
¥
مسواک کرنا سنت ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی کو مسواک عطا فرمائی ۔ واضح رہے کہ مسواک ہمارے پیارے نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیاری سنت مبارکہ ہے ، مسواک سے دنیوی واخروی دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مسواک کے فضائل وفوائد پرمشمل پانچ فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’مسواک میں منہ کی پاکیزگی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا ہے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’مسواک کیا کروکیونکہ مسواک میں منہ کی پاکیزگی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاہے ، جب بھی جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَاممیرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی وصیت کی یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر اور میری اُمَّت پر فرض نہ ہوجائے اور اگر مجھے اپنی اُمَّت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتومیں ان پر مسواک کرنا فرض کردیتا اور بے شک میں اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں اپنے اگلے دانت زائل نہ کرلوں ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’بلاشبہ مجھے مسواک کا اس قدر حکم دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں مسواک کے بارے میں میری طرف وحی نہ آجائے ۔ ‘‘ ( ) ( 4 ) ’’اگر مجھے اپنی اُمَّت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتو میں انہیں ہر ( نَماز کے وقت ) وضو کے ساتھ مسواک کرنے کاحکم دیتا ۔ ‘‘ ( ) (5 ) ’’بندہ جب مسواک کرتاہے پھر نَماز کے لئے کھڑا ہوتاہے تو اس کے پیچھے ایک فرشتہ بھی کھڑا ہوجاتاہے اوراس کی قراء ت کو غور سے سنتا ہے اور جب بھی وہ کوئی آیت یا کلمہ پڑھتا ہے تو فرشتہ اس سے قریب ہو جاتاہے یہاں تک کہ

اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیتاہے تو اس کے منہ سے جتنا قرآن نکلتا ہے فرشتے کے منہ میں داخل ہوجاتاہے ، اس لئے تم قرآن کیلئے اپنے منہ کو پاک رکھا کرو ۔ ‘‘ ( )
¥
دوسرے کی مسواک استعمال کرنا :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی مبارک مسواک کسی شخص کو عطا فرمائی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی استعمال والی مسواک کسی دوسرے کو دی جاسکتی ہے ، نیز کسی کی استعمال شدہ مسواک اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ دوسرے کی مسواک اس کی اجازت سے استعمال کرنا جائز ہے ، البتہ مستحب یہ ہے کہ پہلے اسے دھولے اور پھر استعمال کرے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’احترام ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب بھی وحی الٰہی ہوتے ہیں ۔
(2) اسلام میں بڑوں کے ادب واحترام کا درس عظیم دیا گیا ہے ۔
(3) ہراچھے کام میں بڑوں کو مقدم رکھا جائے کہ اس کی احادیث میں تعلیم دی گئی ہے ۔
(4) اگر کچھ لوگ بیٹھے ہوں تو ایسی صورت میں دائیں جانب سے ابتدا کی جائے ۔
(5) مسواک کرنا ہمارے پیارے نبی کریم ، رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیاری پیاری سنت ہے ، اس پر عمل کیجئے اور ڈھیروں ثواب کمائیے ۔
(6) اپنی مسواک بھی کسی کو دی جاسکتی ہے ، نیز کسی دوسرے کی استعمال شدہ مسواک بھی اپنے استعمال

میں لائی جاسکتی ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ اسے دھوکر استعمال کیا جائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بڑوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں ہر ہر معاملے میں مقدم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں مسواک جیسی پیاری سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 353