Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 350

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ” لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا وَ اِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْاَسْوَاق.“ ( )

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم : ” ليلني منكم اولو الاحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثلاثا و اياكم وهيشات الاسواق.“ ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” تم میں سے بالغ اورعقلمند لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ۔ “پھر تین بار فرمایا : ” پھر وہ لوگ جو اُن کے قریب ہوں اور تم لوگ بازاروں کے شور و غل سے بچو ۔ “

شرح حدیث

ہر مجلس میں اہل فضل کی تقدیم :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ افضل شخصیات کو مقدم کرنا چاہیے اور اُنہیں امام کے قریب کھڑا کرنا چاہیے کیونکہ اس میں اُن کی عزت ہے اس لیے کہ بعض اوقات امام کو خلیفہ بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو افضل شخص کو خلیفہ بنانا زیادہ بہتر ہے اور اس لیے بھی کہ جو افضل شخص ہوگا وہ نماز کے مسائل جانتا ہوگا اور امام کو ایسے سہو ( غلطی ) پر متنبہ کرے گا جس کو غیر عالِم نہیں جانتا ۔ اُن کو مُقَدَّم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے تاکہ وہ نماز کے اوصاف کو ضبط کریں ، انہیں یاد کرکے دوسروں تک پہنچائیں اور لوگوں کو نماز سکھائیں اور جو لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں وہ ان کے افعال کی پیروی کرسکیں اور یہ حکم صرف نماز کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ سنت یہ ہے کہ اہلِ فضل حضرات کو ہر مجلس میں مُقَدَّم رکھا جائے جیسے کہ علم ، قضاء ، ذِکر ، مُشاوَرَت ، جہاد ، اِمامت ، تدریس ، اِفتاء اور سماعِ حدیث کی محافل میں صدرِ مجلس کے قریب بٹھایا جائے اور لوگ علم ، دِین ، عقل ، شرف ، عمر اور کُفو کے لحاظ سے اپنے مرتبے کے مطابق بیٹھیں ۔ ‘‘ ( )
¥
کون لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں؟حدیث پاک میں فرمایا : ”اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى“ میرے قریب رہیں ۔ اِن سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میںعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اَحْلَامجمع ہےحِلْمکی اورحِلْمکا مطلب ہے سکون ، وقار ۔ یعنی باوقار لوگ اور معاملات میں ثابت قدم رہنے والے لوگ ، غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھنے والے لوگ ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد عقل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد بالغ ہیں اورالنُّهَىکا مطلب عقل ہے ۔ ( مطلب یہ ہوا ) بالغ ، عقلمند لوگ میرے قریب رہیں ، اپنے شرف و رُتبہ ، زیادہ سمجھداری ، غور سے نماز پڑھنے اور نماز کو یاد رکھنے کی وجہ سے اور اگر امام کو کوئی حدث لاحق ہوجائے تو وہ اس کے خلیفہ بن سکتے ہیں ۔ علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : عقلمند اور بالغ

لوگوں کو آگے رکھنے کا حکم اس لیے ارشاد فرمایا تاکہ وہ لوگ حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نماز کو سیکھیں ، اس کے احکام و سنن کو یاد کریں اور اپنے بعد والوں کو یہ اَحکام پہنچائیں ۔ پھر وہ کھڑے ہوں جو اُن سے قریب ہوں ۔ یعنی جو قریب البلوغ ہیں یا پھر مراد یہ ہے کہ جو لوگ عقل و حلم میں اُن سے قریب ہیں ۔ پھر وہ جو اُن سے قریب ہوں ۔ یعنی سمجھ دار بچے یا پھر یہ مراد ہے کہ وہ لوگ جو عقل و حلم میں ان سے کم ہیں ۔ ‘‘ ( )نماز میں بھی تعلیمرسولُ اللہ:مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’صفِ اَوّل میں مجھ سے قریب فقہاء صحابہ ہوں جیسے خلفائے راشدین اورعبدﷲبن عباس وعبدﷲبن مسعود وغیرہم تاکہ وہ میری نماز دیکھیں اور نماز کی سنتیں وغیرہ یاد کرکے اَوروں کو سمجھائیں اور بوقتِ ضرورت ہماری جگہ مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھا سکیں ۔ ان کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و عقل میں ان کے بعد ہوں تاکہ ان صحابہ سے یہ نماز سیکھیں ۔سُبْحٰنَ اﷲ! حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعلیم نماز میں بھی جاری رہتی تھی ۔ ‘‘ ( )
¥
امیراہلسنت کا حدیث پاک پرعمل :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک اور اُس کی شرح میں اِس بات کی بھی تعلیم دی گئی ہے کہ اَہل عِلم حضرات کو ہر مجلس میں مُقَدَّم رکھنا چاہیے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّشیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہبھی اس حدیث پاک کے عامل ہیں ، دیکھا گیا ہے کہ آپ اپنے مدنی مذاکروں میں عموماً علمائے کرام ، مفتیانِ کرام ، مدنی اسلامی بھائیوں کو اپنے قریب بٹھاتے ہیں ، بلکہ اپنے متعلقین ، مریدین اور محبین کو بھی اس بات کی ترغیب دلاتے ہیں کہ ہر ہر معاملے میں علمائے کرام کی شرعی رہنمائی لیں ، بغیر شرعی رہنمائی کے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھائیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّامیراہلسنت کے صدقے ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

ہم کو اے عطار سنی عالموں سے پیار ہے
اِنْ شَآءَ اللہدو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہےمدنی گلدستہ
’’عُلَمَاء ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور
ان کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
اسلام میں ہر دینی اور دُنیوی مقام ومرتبے والے اشخاص کا بہت خیال رکھا گیا ہے ۔
(2) علمائے کرام ، مفتیان کرام ودیگر تمام معظم شخصیات کو ہر مجلس میں مُقَدَّم رکھنا چاہیے ۔
(3) جو لوگ دِین کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں انہیں نماز میں اگلی صفوں میں کھڑا ہونا چاہیے ۔
(4) علماء و مشائخ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو رکھیں جو دین کے معاملے میں سمجھدار ہوں اور علماء سے کچھ سیکھ سکیں تاکہ یہ لوگ علماء سے اوربعد میں دوسرے لوگ اِن سے فائدہ اُٹھائیں ۔
(5) ہمیں بھی چاہیے کہ ہم علماء اور صلحاء کی صحبت میں بیٹھیں تاکہ اُن کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں اور اُن سے کچھ سیکھ سکیں ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں علمائے اہلسنت اور دیگر بزرگانِ دین کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 350