Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 358

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا فَكُنْتُ اَحْفَظُ عَنْهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا اَنَّ هَا هُنَا رِجَالًا هُمْ اَسَنُّ مِنِّي. ( )

عن ابی سعید سمرة بن جندب قال : لقد كنت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم غلاما فكنت احفظ عنه فما يمنعني من القول الا ان ها هنا رجالا هم اسن مني. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعیدسَمُرَہ بن جُندُبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں لڑکا تھااورمیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ( سن کر ) حدیثیں یاد کیا کرتا تھا ، مجھے وہاں گفتگو سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی سوائے اس بات کے کہ وہاں مجھ سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں ۔ ‘‘

شرح حدیث

چھوٹوں کا گفتگو میں پہل کرنا خلاف ادب :اِس حدیث پاک میں ادب کی تربیت دی گئی ہے کہ جب کسی جگہ بڑے موجود ہوں تو چھوٹوں کو بلا ضرورت کلام نہیں کرنا چاہیے بلکہ بڑوں کو بات کرنے کا موقع دینا چاہیے ، بڑوں کے سامنے چھوٹوں کا گفتگو میں پہل کرنا خلافِ ادب ہے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ اگر کسی جگہ بڑے مرتبے والا شخص ہو مثلاً علم میں ، ضبط میں ، حفظ میں یا عمر میں بڑا ہو تو چھوٹے مرتبے والے کو گفتگو کرنا مکروہ ہے ۔ ‘‘ ( ) حافظ عبدالرحمٰن

ابن جوزی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاِس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں گفتگو کرتے ہوئے بڑوں کا ادب کرنے پر تنبیہ فرمائی گئی ہے ۔ ‘‘ ( )بڑوں کے سامنے گفتگو نہ کرنا حسن ادب :حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاباس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’بڑی عمر والے بزرگوں اور زیادہ علم والوں کے سامنے تقدیم نہیں کرنی چاہیے اور یہ حُسنِ ادب میں سے ہے ۔ حضرت سیدنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیدنا سفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی موجودگی میں کلام نہیں فرمایا کرتے تھے ، جب انہوں نے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو سیدنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی : ’’جب تک آپ حیات ہیں میں کلام نہیں کروں گا ۔ ‘‘ ( )بڑوں کی مجلس میں چھوٹوں کی حاضری :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے حضرت سیدنا سمرہ بن جندبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکم عمر ہونے کے باوجود بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے احادیث مبارکہ سنتے اور انہیں یاد کرتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کم عمر سمجھدار بچوں کی بڑوں کی مجلس میں سیکھنے کی غرض سے حاضری بالکل جائز اور درست ہے ، بلکہ والد کو چاہیے کہ اپنے سمجھدار بچوں کو بزرگوں کی بارگاہ میں لے کر جائے ، علمائے کرام ، مفتیان کرام کی خدمت میں لے کر جائے تاکہ وہ بھی ان کے علوم سے استفادہ کریں ، ان کے فیضان سے فیض حاصل کریں ، وہ بھی بڑوں کی مجالس کے آداب سیکھیں ۔ نیز والد کو چاہیے کہ اپنے سمجھدار بچوں کی اس معاملے میں حوصلہ افزائی بھی کرے ۔ چنانچہ ،
¥
فاروقِ اعظم کم سن اصحاب کا حوصلہ بڑھاتے :امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنہ صرف علمی مباحثے کو پسند فرماتے

اور علمی مناظرے فرماتے بلکہ آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حلقۂ احباب میں جو کم عمر اصحاب حصول علم میں دلچسپی لیتے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُان کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے ۔ خصوصاً حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی یہ دونوں ہمہ وقت آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے زیر تربیت رہتے تھے ۔ چنانچہ ،
¥
سیِّدُناعبد اللہبن عمر کی حوصلہ افزائی :ایک بار سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبارگاہِ رسالت میں حاضر تھے ، سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بیٹے حضرت سیِّدُناعبد اللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے ۔ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو مخاطب کرکے ایک سوال پوچھااور ارشاد فرمایا : ’’اے میرے صحابہ ! بیشک ایک درخت ہے ، جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مؤمن کی مثل ہے ، بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے ؟ ‘‘ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میرے دل میں اس کا جواب آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ، لیکن میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی موجودگی میں بولنے سے جھجک محسوس کی کہ جب دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اتنے جلیل القدر صحابہ خاموش ہیں تو میں کیوں بولوں؟ ‘‘ پھر سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود ہی جواب ارشاد فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے ۔ بعد میں جب میں نے اپنے والد سے اس بات کا اظہار کیا کہ مجھے اس سوال کا جواب آتا تھا لیکن میں آپ لوگوں کی وجہ سے نہ بول سکاتو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھے ارشاد فرمایا : ’’اے بیٹے ! اگر تو حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے اپنے جواب کا اظہار کردیتا تو یہ مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب تھا ۔ ‘‘ ( )

¥
سیِّدُناعبد اللہبن عباس کی حوصلہ افزائی :ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں سے ایک آیت مبارکہ کی تفسیر کے متعلق استفسار فرمایا تو لوگوں نے انکار کیا لیکن آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے شاگرد رشید حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا کہ اس کے متعلق میرے ذہن میں کچھ ہے ۔ تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اے میرے بھتیجے ! اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر ( یعنی چھوٹا ) نہ سمجھو ۔ ‘‘ ( )علم وحکمت کے مدنی پھول :تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘ جلددوم ، ص۴۸۴سے کم عمر سمجھدار بچوں کی بڑوں کی مجلس میں حاضری ، بڑوں کی مجلس کے آداب اور ان کم عمر سمجھدار بچوں کی علمی حوصلہ افزائی سے متعلق علم وحکمت کے چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں :
( 1 ) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسیِّدُناعبد اللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے ، جب آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کے اندر شرافت ، ذہانت وفطانت کی علامات دیکھیں تو ان پر خصوصی توجہ دینا شروع کردی ، آپ انہیں اپنے علمی حلقوں میں بٹھاتے ، اُن سے مشورے بھی کرتے ، قرآنی آیات میں اِشکال ہوتا تو اُن سے استفسار فرماتے ۔ سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُچونکہ ابھی نوجوان تھے اس لیے سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شفقتوں سے آپ کو آگے بڑھنے اور علم حاصل کرنے کا حوصلہ اور جذبہ ملتا ۔
( 2 ) انہی حوصلہ افزا اقدام کو دیکھتے ہوئے ایک بار آپ کے والد گرامی حضرت سیِّدُنا عباس
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ سے ارشاد فرمایا : ’’اے میرے بیٹے ! میں دیکھ رہاہوں کہ امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتمہیں بلا لیتے ہیں ، تمہیں تنہائی میں بھی اپنا قرب دیتے ہیں ، دیگر اصحاب کی موجودگی میں تم سے مشورہ لیتے ہیں ، لہٰذا میری تین باتیں ہمیشہ یاد رکھنا :اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتے رہنا ، امیر المؤمنین کا کوئی راز فاش نہ کرنا ، وہ کبھی تم کو جھوٹا نہ پائیں ، ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا ۔ ‘‘ ( )
( 3 ) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اکابر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی علمی مجالس میں بھی لے جایا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کی ذات مبارکہ میں موجود ’’فہم ‘‘ یعنی بات کو جلدی سمجھنے کی صلاحیت ، اسے یاد رکھنے کی قوت ، استنباط کی باریکیوں کو پہچاننے کی قابلیت جیسے اَوصاف کو جانچ لیا تھا ۔ سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخود فرماتے ہیں کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدیگر اَصحاب پر میری رائے کو مقدم رکھتے تھے اور مجھ سے فرمایا کرتے تھے : ’’تم اُس وقت تک کوئی رائے نہ دیا کرو جب تک یہ لوگ اپنی کوئی رائے نہ دے دیں ۔ ‘‘ میں اس پر عمل کرتا اور جب اپنی رائے دیتا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے : ’’ تم سب مل کر بھی وہ رائے نہ دے سکے جو اس کم عمر لڑکے نے دی ہے ۔ ‘‘ ( )
( 4 ) سیِّدُنا
عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُچونکہ کم عمر تھے اس لیے اکابر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی مجالس میں شرکت کے وقت آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُانتہائی ادب واحترام کے ساتھ خاموشی اختیار فرمایا کرتے تھے ، اُن کی اجازت کے بغیر ایک لفظ بھی نہ بولتے ، یہی وجہ ہے کہ جب سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے صحابہ کرا معَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے سورۃُ النصر کی تفسیر کے بارے میں استفسار کیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبالکل خاموش بیٹھے رہے ۔ جب سب نے اپنا مؤقف بیان کردیا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے آپ سے استفسار فرمانے پر ہی جواب دیا ۔ ( )( 5 ) سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ایک علمی مجلس تھی جس میں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنوجوانوں

کی علمی باتیں سنتے اور اُن کی اصلاح فرماتے تھے ، سیِّدُنا
عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاُس میں پیش پیش رہتے تھے ، سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنمازِ اِشراق سے فارغ ہو کر کھجوریں خشک کرنے کے لیے اپنے باغ میں جاتے اور قرآنِ پاک پڑھنے والے نوجوانوں کو بلواتے ، ان میں سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ہوتے تھے ، ایک مرتبہ دورانِ تلاوت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے قرآنِ پاک کی تفسیر بیان کی تو سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اے ابنِ عباس ! تمہارے علم کی کیا بات ہے ۔ ‘‘
( 6 ) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خصوصی شفقتوں ، محبتوں اور عنایتوں ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کئی خصوصیتیں وسعادتیں نصیب ہوئیں ، نیز علمی میدان خصوصاً تفسیرِ قرآن میں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حوصلہ اَفزائی سے وہ ترقیاں ملیں کہ آج سب لوگ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو’’مُفَسِّر قرآن ‘‘ ، ’’ترجمان القرآن ‘‘ ، ’’حبر الامت ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ( )مدنی گلدستہ
’’حُسنِ ادب ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
جب کسی مجلس میں چھوٹے اور بڑے دونوں موجود ہوں تو چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں سے پہلے گفتگو میں پہل نہ کریں ۔
(2) بڑوں سے گفتگو میں پہل کرنا خلافِ ادب اور پہل نہ کرنا حسن ادب ہے ۔
(3) کم عمر سمجھدار بچوں کا اصحاب علم بڑوں کی مجلس میں حاضر ہونا مستحسن ہے تاکہ وہ بڑوں کی مجالس کے آداب سیکھیں ، ضروری دینی مسائل سے آگاہی حاصل کریں ۔

(4) والد کو چاہیے کہ وہ اپنے کم عمر سمجھداربچوں کو اصحاب علم کی مجالس میں لے کر جائے اور ان کی اس معاملے میں حوصلہ افزائی کرے ۔
(5) امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکم عمر اصحاب کی حصول علم کے معاملے میں بہت حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے ۔
(6) حضرت سیدنا
عبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سیدناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکم عمر تھے لیکن جب یہ دونوں بڑے اصحاب علم کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کے ادب واحترام کی وجہ سے کچھ نہ بولتے تھے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی بڑوں کی مجالس کا ادب کرنے ، ان سے پہلے گفتگو شروع نہ کرنے ، اصحاب علم کی مجالس میں حصولِ علم کیلئے بیٹھنے ، ان کی مجلس کے آداب سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 358