- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- علماء کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 356
حدیث مبارکہ
عَنْ مَيْمُونِ بْنِ اَبِيْ شَبِيْبٍ رَحِمَہُ اللہُ اَنَّ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا مَرَّ بِهَا سَائِلٌ فَاَعْطَتْهُ كِسْرَةً وَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَهَيْئَةٌ فَاَقْعَدَتْهُ فَاَكَلَ فَقِيْلَ لَهَا فِي ذٰلِكَ؟ فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ “ رَوَاہُ اَبُو دَاوُدَ : لٰکِنْ قَالَ : ” مَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ“. ( ) وَقَدْ ذَکَرَہُ مُسْلِمٌ فِی اَوَّلِ صَحِیْحِہِ تَعْلِیْقًا فَقَالَ وَذُکِرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ : ” اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَنْ نُنْزِلَ النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ“ وَ ذَکَرَہُ الْحَاکِمُ اَبُو عَبْدِ اللہِ فِی کِتَابِہِ ” مَعْرِفَۃُ عُلُوْمِ الْحَدِیْثِ“ وَلَمْ یَذْکُرْ لَہُ سَنَدًا وَقَالَ : ھُوَ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ.
عن ميمون بن ابي شبيب رحمہ اللہ ان عائشة رضی اللہ عنھا مر بها سائل فاعطته كسرة ومر بها رجل عليه ثياب وهيئة فاقعدته فاكل فقيل لها في ذلك؟ فقالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ” انزلوا الناس منازلهم “ رواہ ابو داود : لکن قال : ” ميمون لم يدرك عائشة“. ( ) وقد ذکرہ مسلم فی اول صحیحہ تعلیقا فقال وذکر عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت : ” امرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان ننزل الناس منازلھم“ و ذکرہ الحاکم ابو عبد اللہ فی کتابہ ” معرفۃ علوم الحدیث“ ولم یذکر لہ سندا وقال : ھو حدیث صحیح.
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا میمون بن ابو شبیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس ایک فقیر آیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اُسے ایک ٹکڑا دے دیا پھر آپ کے پاس ایک ایسا آدمی آیا جو کہ اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھا ، آپ نے اُسے بٹھایا پھر اُس نے کھانا کھایا ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے اِس فرق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جواب دیا کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” لوگوں کے ساتھ اُن کے مرتبے کے لحاظ سے سلوک کرو ۔ “اِس حدیث پاک کو امام ابو داودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا اور فرمایا : ’’حضرت سیدنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ملاقات نہیں کی ۔ ‘‘
امام مسلم نے اسے اپنی ” صحیح مسلم “کے شروع میں تعلیقا ًذکر کیا ہے پس انہوں نے کہا کہ حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے وہ فرماتی ہیں : ”رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حکم دیا لوگوں کے ساتھ اُن کے مَراتب کے لحاظ سے سلوک کیا جائے ۔ “حاکم ابوعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
نے اِس حدیث پاک کو اپنی کتاب ” معرفۃ علوم حدیث“ میں بھی ذکر کیا ہے ، لیکن اِس کی سند ذکر نہیں کی اور فرمایا کہ ’’یہ حدیث صحیح ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
لوگوں سے اُن کی حیثیت کے مطابق سلوک :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اِس بات پر ابھارا گیا ہے کہ لوگوں کو اُن کے مرتبے اور منصب کے درجے میں رکھا جائے ، محفل و قیام اور خطاب و کتابت میں اُن کے منصب کا اِعتبار کرتے ہوئے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی جائے ۔ ‘‘ امام مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ لہٰذا با وقار شخص کو کم تر درجے میں اور کسی کم تر کو بلند درجے میں نہ رکھاجائے ، نیز ہر ذی حق کو اس کا حق دیا جائے ۔ ‘‘ ( )
¥سب کو برابر مت ٹھہراؤ :علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’لوگوں کو ان کے مرتبے میں رکھو ۔ “یعنی ہر ایک کی حرمت کی اس کے مطابق حفاظت کرو ، جو اس کی عمر ، دِین ، علم اور شرف کے مناسب ہو ۔ اس حدیث مبارکہ میں عوام وخواص سب کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ علامہ عسکری نے اس حدیث پاک کو امثال اور حکم میں شمار کیا ہے اور فرمایا : ’’یہ وہ ادب ہے جو حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی امت کو سکھایا تاکہ وہ لوگوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرسکے ، علمائے کرام ، اولیائے عظام کی تعظیم اور بزرگوں کا ادب واحترام وغیرہ کرے ۔ ‘‘ ( )
¥ساری مخلوق کی حالتیں ایک جیسی نہیں :ایک اور مقام پرعلامہ عبدالرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیایک نکتہ بیان کرتے ہیں جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ : ’’تعظیم وتکریم بندے کی غذا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی مخلوق کی حالت ایک جیسی نہیں رکھی ،
بعضوں کو غنی بنایا ، بعضوں کو فقراءبنایا ، بعضوں کو پستی عطا کی ، بعضوں کو بلندی عطا فرمائی تاکہ یہ جانچ ہو کہ کون زیادہ شکر گزار ہے ۔ پساللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت رکھنے والا دنیا والوں کے ساتھ انہی مختلف حالتوں کے موافق معاشرتی اُمور سراَنجام دے گا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے مقررفرمائی ہیں ، جب وہ کسی کو اس کے اس مقام ومرتبے میں نہیں رکھے گا جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے لیے رکھا ہے اور اس کے ساتھ اچھے اَخلاق سے پیش نہیں آئے گا تو گویا وہ رب تعالیٰ کے ساتھ جفا کرنے والا ہوگااور وہ اس کے بندوں کی حالتوں میں رب تعالیٰ کی موافقت کو ترک کرنے والا ہوگا ، پس جب وہ شریف اور کمینے ، غنی اور فقیر کو کسی مجلس میں برابر مرتبہ دے گا یا کوئی چیز برابر عطا کرے گا تو اس سے صلح کم اور فساد زیادہ برپا ہوگا ، کیونکہ غنی کی نشست کو جب دُور رکھا جائے گا یا اسے کوئی حقیر تحفہ دیا جائے گا تو وہ دشمنی اور عداوت رکھے گا کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے لیے اس چیز کو مقدرنہیں فرمایا اور جب کوئی حکام والا معاملہ رعایا کے ساتھ کرے گا تو گویا اس نے اپنے آپ کو مصیبتوں کے لیے پیش کردیا ۔ ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’جس نے لوگوں کو اُن کے مقام ومرتبے میں رکھا تو اس نے اپنے آپ سے مشقت کو دور کردیااور جس نے اپنے بھائی کو اس کے مقام ومرتبے سے زیادہ بلند کیا تو گویا کہ اس نے اپنے اس بھائی کی دشمنی کو اپنی جانب کھینچا ۔ ‘‘ ( )معاملات ، عقائد ، عبادات میں فرقِ مراتب :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی تمہارے پاس جس حیثیت کا آدمی آوے ، اس کی تواضع خاطر ، اِعزاز و اِکرام اُس کی حیثیت کے لائق کرو ، اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکھانا کھارہی تھیں ، ایک اجنبی سائل دروازے سے گزرا ، آپ نے اسے روٹی کا ٹکڑا بھیج دیا ، ایک اجنبی گھوڑا سوار گزرا تو آپ نے اس سے کہلا کر بھیجا کہ اگر آپ کو کھانے کی خواہش ہو تو کھانا حاضر ہے ۔ کسی نے اُمّ ا لمؤمنین سے اس فرق کی وجہ پوچھی تو آپ نے یہ ہی حدیث پڑھی ۔ معاملات عقائد بلکہ عبادات میں فرقِ مراتب کرنا ضروری ہے ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’حسن سلوک ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)اسلام میں ہرشخص کے ساتھ اس کے مقام ومرتبے کے مطابق حُسنِ سلوک کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ، اسلام میں کسی بھی مسلمان کی توہین وتذلیل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ۔
(2) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی لوگوں سے اُن کے مقام ومرتبے کے مطابق ہی پیش آتے تھے ۔
(3) اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانہایت ہی سخی تھیں ، امیر وغریب ہرشخص کو عطا فرمایا کرتی تھیں ، آپ کے در سے کوئی بھی محروم نہیں جاتا تھا ۔
(4) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی لوگوں کے مقام ومرتبے کا لحاظ رکھتیں اور ان کے اسی مقام ومرتبے کے اعتبار سے حُسنِ سلوک سے پیش آتی تھیں ۔
(5) معاملات ، عقائد ، عبادات وغیرہ ہرہر معاملے میں مقام ومرتبے کا خیال رکھنا چاہیے ۔
(6)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی یہ مشیت ہے کہ اس نے لوگوں کے احوال ایک جیسے نہیں بنائے ، بلکہ مختلف بنائے ، کسی کو غریب ، کسی کو امیر ، کسی کو زیادہ رتبے والا ، کسی کو کم رتبے والا ، لہذا لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق معاملات کرنے والا دراصلاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مشیت کے مطابق معاملات کرنے والا ہے اور جو لوگوں سے ان کے مراتب کے خلاف معاملات کرتا ہے تو گویا وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے جفا کرنے والا اور اس کی موافقت کو ترک کرنے والا ہے ۔
(7) لوگوں سے اُن کے مقام ومرتبے کے مطابق معاملات کرنے میں بہت فوائد ہیں ، جو اس کے خلاف کرتا ہے وہ لوگوں کی دشمنیوں کو مول لیتا اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہرایک کے ساتھ اس کے مقام ومرتبے کے مطابق حُسنِ سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 356