Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 352

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى اُحُدٍ یَعْنِی فِی الْقَبْرِ ثُمَّ يَقُولُ : اَيُّهُمْ اَكْثَرُ اَخْذًا لِلْقُرْاٰنِ؟ فَاِذَا اُشِيرَ لَهُ اِلَى اَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِى اللَّحْدِ. ( )

عن جابررضی اللہ عنہ ان رسول الله صلی اللہ علیہ والہ وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد یعنی فی القبر ثم يقول : ايهم اكثر اخذا للقران؟ فاذا اشير له الى احدهما قدمه فى اللحد. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہدائے اُحُد میں سے دو دوکو جمع کرتے یعنی قبر میں ۔ پھر دریافت فرماتے کہ ’’اِ ن میں سے زیادہ قرآن کس کو یاد تھا؟ ‘‘ جب اُن میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

وَسَلَّم
اُسے لحد میں پہلے اُتارتے ۔

شرح حدیث

جنگِ اُحُداورمسلمانوں کی کسمپرسی :غزوۂ اُحُد3 ہجری میں پیش آیا ، اِس غزوہ میں ستّر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانشہید ہوئے ، مسلمانوں کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ اُن شہداء کرام کے کفن کے لیے کپڑا بھی نہیں تھا ۔ شہدائے کرام خون میں لتھڑے ہوئے تھے دو دو شہید ایک ایک قبر میں دفن کیے گئے جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا اس کو آگے رکھتے ۔ ‘‘ ( )
¥
حافظ قرآن کی دنیا وآخرت میں تقدیم :حدیثِ مذکور میں اس بات کا ذکر ہے کہ جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے لحد میں پہلے اُتارتے ۔ اِس سے حافظِ قرآن کی فضیلت معلوم ہوئی کہ جو حافظ ہو اُسے مقدم کرنا چاہیے ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا اس کو قبر میں پہلے اُتارا جاتا ، بے شک قرآن تمام مسلمانوں کا امام ہے تو اِس کے قاری کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ دنیا و آخرت میں اُسے مقدم رکھا جائے اور جنت میں بھی اس کے درجے بلند ہوں گے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’قاریٔ قرآن کا یہ حق ہے کہ اُس کی حیات میں اسے اس کے غیر سے امامت کے معاملے میں مقدم رکھا جائے ، اسی طرح اس کی وفات کے بعد قبر میں بھی اسے مُقَدَّم رکھا جائے ۔ ‘‘ ( )
¥
باعمل حافظ قرآن کے فضائل :باعمل حافِظِ قرآن کے فضائل پر مشتمل تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’جس نے قرآنِ مجید پڑھا ، اور اُسے حفظ کیا ، اُس کے حلال کو حلال جانا اور اُس کے حرام کو حرام جانا تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اُس کے گھروالوں میں سے ایسے دس افراد کے حق میں اُس کی شفاعت

قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکا تھا ۔ ‘‘ ( ) (
2 ) ’’صاحب قرآن قیامت کے روز آئے گااور قرآن عرض کرے گا : اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! اسے خلعت عطافرما ۔ ‘‘ تو اس شخص کو کرامت کا تاج پہنایا جائے گا ۔ قرآن پھر عرض کرے گا : ’’اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! اور زیادہ کر ۔ ‘‘ تو اسے بزرگی کا حلہ پہنایا جائے گا ۔ قرآن پھر عرض کرے گا : ’’اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! اس سے راضی ہوجا ۔ ‘‘ تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے راضی ہوجائے گا ۔ پھر اس شخص سے کہا جائے گا : ’’پڑھتے رہواور ( درجات ) چڑھتے جاؤ اور ہر آیت پر ایک نیکی زیادہ کی جائے گی ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’صاحب قرآن کو حکم ہوگا کہ پڑھتے رہو اور ( درجات ) چڑھتے جاؤ اور ٹھہر ٹھہر کرپڑھو جیسے تم اسے دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے کہ تمہارا مقام اس آخری آیت کے نزدیک ہے جسے تم پڑھو گے ۔ ‘‘ ( )قبر میں لحد بنانا سنت ہے :مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قبر میں لحد بنانا سنت سے ثابت ہے ۔ حضرت سیدنا عیسیٰ بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے نزدیک لحد بنانا زیادہ محبوب ہے کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر مبارک بھی لحد والی بنائی گئی تھی ، اسی طرح خود رسولِ اکرم ، نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے شہزادے حضرت سیدنا ابراہیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لیے بھی لحد بنائی ، شیخین کریمین یعنی امیر المؤمنین ، خلیفہ ٔرسول اللہحضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی قبور میں بھی لحد بنائی گئی ، سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تو اپنے گھروالوں کو وصیت فرمائی کہ جب مجھے لحد میں رکھنا تو میرے گال کو زمین کے ساتھ لگادینا ، اسی طرح جلیل القدر صحابی حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے بھی اپنے لیے لحد بنانے کی وصیت فرمائی ۔ سیدنا امام نخعی ، سیدنا امام مالک ، سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاور آپ کے دیگر اصحاب کے نزدیک بھی لحد بنانا مستحب ہے ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’قرآن ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
حافظِ قرآن کو قرآنِ پاک کی عظمت کی وجہ سے ترجیح دی گئی ہے ۔
(2) حافظِ قرآن کا یہ حق ہے کہ اس کی زندگی میں امامت کے معاملے میں اس کے غیر کے مقابلے میں اسے ترجیح دی جائے ۔
(3) جب اُحُد کے شہداء کرام کی تدفین کی گئی تو حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حفاظ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تدفین کے معاملے میں تقدیم فرمائی ۔
(4) لحد والی قبر بنانا سنت سے ثابت ہے اور علمائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے نزدیک مستحب ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے وہ ہمیں قرآن وسنت کے اَحکام پر صحیح طرح سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 352