Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 355

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيْرِنَا. ( ) وَفِی رِوَایَۃِ اَبِیْ دَاودٍ : ” حَقَّ کَبِیْرِنَا“. ( )

عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف شرف كبيرنا. ( ) وفی روایۃ ابی داود : ” حق کبیرنا“. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عَمرو بن شعیبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے اور اُن کے والد اِن کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ، صاحب لَولَاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے شرف و عزت کو نہیں پہچانتا وہ ہم میں سے نہیں ۔ “ ابو داود کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ” ہمارے بڑوں کے حق کو نہیں پہچانتا ۔ “

شرح حدیث

’’وہ ہم میں سے نہیں ‘‘ کا معنی :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘ کا مطلب ہے کہ ہماری سنت پر نہیں یا ہماری راہ پر نہیں یا ہمارے راستے پر نہیں ۔ ‘‘ ( ) علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ہم میں سے نہیں ۔ یعنی ہمارے کامل مسلمانوں میں سے نہیں ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ہم میں سے نہیں ۔ یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں ، یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہاں جو حضراتِ انبیاءِ کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارج ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
چھوٹوں پر رحم نہ کرنے سے مراد :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’چھوٹوں پر رحم نہ کرے ۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ چھوٹے بچوں پر شفقت نہ کرے ، اُن پر رحم نہ کرے ، ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے ، ان کے ساتھ خوش طبعی نہ کرے ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّر شہِیر،حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’چھوٹوں پر رحم نہ کرے ۔ یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے ، چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو ، خواہ علم کی ، خواہ درجہ کی ، یہ فرمان بہت عام ہے ۔ خیال رہے کہصَغِیْرَنَااورکَبِیْرَنَافرما کر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا ادب ان پر رحم چاہیے یہ قید بھی زیادتی اہتمام کے لیے ہے ، ورنہ کافر ماں باپ کا بھی مادری ادب کافر چھوٹے بھائی پر بھی قرابت داری کا رحم چاہیے جیسا کہ فقہاء کے فرامین اور دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے یوں ہی اُن کے حقوق قرابت ادا کرے ۔ ‘‘ ( )

¥
بڑوں کے شرف وعزت کی پہچان :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” ہمارے بڑوں کے شرف و عزت کو نہ پہچانے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بڑے جس تعظیم و توقیر کے مستحق ہیں انہیں وہ عزت نہ دے ۔ ‘‘ ( ) علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ہمارے بڑوں کے شرف وعزت کو نہ پہچانے ۔ یعنی جس تعظیم وتکریم کے وہ لائق ہیں اس کو نہ پہچانے ۔ اور تجھ پر لازم ہے کہ تو ساری مخلوق پر رحم کرے اور ان کی رعایت کرے چاہے وہ جیسے بھی ہوں کیونکہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور اس کی مخلوق ہیں اگرچہ وہ گنہگار یا نافرمان ہیں ، کیونکہ جب تو ایسا کرے گا تو تیری کوشش کامیاب ہوجائے گی اور تیری شان بلند ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ایمان ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
چھوٹوں پر شفقت کرنا ، بڑوں کے شرف ومرتبے کو پہچاننا کمال ایمان سے ہے ۔
(2) چھوٹا چاہے عمر میں چھوٹا ہو ، چاہے علم میں چھوٹا ہو چاہے مرتبے میں چھوٹا ہو ، اس پر رحم اور شفقت کرنی چاہیے ، یہ فرمانِ عالیشان عام ہے ۔
(3) گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہاں جو حضراتِ انبیاءِ کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارج ہے ۔
(4) بڑے جس مقام ومرتبے کے مستحق ہوں اُن کو وہی مقام ومرتبہ دینا چاہیے ۔
(5) کافرماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ بھی نرمی اور شفقت والا سلوک کرنا چاہیے ، جبکہ ایسے لوگ جن کے عقائد درست نہیں یا اسلام کے بعد کفر کرچکے اُن کا کوئی حق نہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے چھوٹوں پر شفقت کرنے ، رحم کرنے اور اپنے بڑوں کے ساتھ ادب واِحترام سے پیش آنے اور ان کی تعظیم وتکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 355