- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- علماء کی تعظیم کا بیان
علماء کی تعظیم کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو مسعود عقبہ بن عَمرو بدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور تاجدار رسالت ، شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” قوم کی اِمامت وہ شخص کرے جو اُن میں زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اگر سب قرآن پڑھنے میں برابر ہوں تو پھر سنت کو زیادہ جاننے والا ، اگر سنت کو جاننے میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت میں سب سے مقدم ہو وہ اِمامت کرائے ، اگر ہجرت میں بھی سب یکساں ہوں تو جو عمر میں بڑا ہووہ امامت کرائے ، اور کوئی شخص ( بغیر اجازت ) کسی کی جگہ امامت نہ کرے اور نہ ہی کسی کے گھر میں اس کے بغیر اجازت اعلیٰ مقام پر بیٹھے ۔ “ ایک روایت میں : ” جو عمر میں بڑا ہو“ کے بجائے یہ فرمایا : ” جو پہلے اسلام لایا ہو ۔ “ ایک روایت میں ہے کہ’’ لوگوں کی امامت وہ کرے جو ان میں زیادہ
کتابُ اللہپڑھنے والا ہو اور زیادہ قراءت جانتا ہو ، پھر اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو وہ امامت کرے جو ہجرت کرنے میں مقدم ہو ، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو پھروہ امامت کرے جو عمر میں بڑا ہو ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرِو الْبَدَرِیِّ الْاَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ فَاِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَاَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَاِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَاَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَاَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ اِلَّا بِاِذْنِهِ. وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ : ” فَاَقْدَمُہُمْ سِلْمًا“ بَدَلَ ” سِنًّا“ اَیْ اِسْلَامًا. وَفِی رِوَایَۃٍ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَاَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَاِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَاِنْ كَانُوْا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 348 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز کے وقت ہمارے کندھے پکڑ کر فرماتے : ” سیدھے رہو اور الگ الگ نہ رہو ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہوجائیں گے ، بالغ اورعقلمند لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ، پھر وہ کھڑے ہوں جو اُن سے قریب ہوں پھر وہ جو اُن سے قریب ہوں ۔ “
عَنْ اَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرِو قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَ يَقُوْلُ : اِسْتَوُوْا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 349 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” تم میں سے بالغ اورعقلمند لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ۔ “پھر تین بار فرمایا : ” پھر وہ لوگ جو اُن کے قریب ہوں اور تم لوگ بازاروں کے شور و غل سے بچو ۔ “
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ” لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا وَ اِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْاَسْوَاق.“ ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 350 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن ابو حثمہ انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سیدناعبداللہبن سہل اور حضرت سیدنا محیصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاخیبر کی طرف گئے ، یہ صلح کے دن چل رہے تھے ۔ ( یعنی جنگ بند تھی ) وہ دونوں جدا ہوگئے ، بعد میں حضرت سیدنا محیصہ حضرت سیدناعبداللہبن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ خون میں لَت پَت ہیں اور دم توڑ چکے ہیں ، حضرت سیدنا محیصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں دفن کیا اور مدینے آگئے ۔ پھر سیدنا عبد الرحمٰن بن سہل ، حضرت سیدنا محیصہ اور سیدنا حویصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْجو کہ مسعود کے بیٹے ہیں بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے ، حضرت سیدنا عبد الرحمٰنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبات کرنے لگے تو حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” بڑے کو بات کرنے دو ، بڑے کو بات کرنے دو ۔ “ سیدنا عبد الرحمٰن بن سہلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاُن سب میں چھوٹے تھے تو وہ خاموش ہوگئے ۔ پھر حضرت سیدنا محیصہ اور سیدنا حویصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے سارا واقعہ بیان کیا تو تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : کیا تم اپنے مقتول کے قاتل پر قسم کھاسکتے ہو؟“ ( پھر امام بخاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مکمل حدیث ذکر فرمائی ۔ )
عَنْ سَهْلِ بْنِ ابِى حَثْمَةَ الْاَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : اِنْـطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ اِلٰى خَيْبَـرَ وَهِىَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا فَاَتَى مُحَيِّصَةُ اِلٰى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهْوَ يَتَشَحَّطُ فِى دَمِهِ قَتِيْلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْـطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ اِلَى النَّبِىِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ : كَبِّرْ كَبِّرْ وَهُوَ اَحْدَثُ الْقَوْمِ فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا فَقَالَ :
اَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّوْنَ قَاتِلَكُمْ. وَذَکَرَ تَمَامَ الْحَدِیْث. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 351 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہدائے اُحُد میں سے دو دوکو جمع کرتے یعنی قبر میں ۔ پھر دریافت فرماتے کہ ’’اِ ن میں سے زیادہ قرآن کس کو یاد تھا؟ ‘‘ جب اُن میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّماُسے لحد میں پہلے اُتارتے ۔
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى اُحُدٍ یَعْنِی فِی الْقَبْرِ ثُمَّ يَقُولُ : اَيُّهُمْ اَكْثَرُ اَخْذًا لِلْقُرْاٰنِ؟ فَاِذَا اُشِيرَ لَهُ اِلَى اَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِى اللَّحْدِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 352 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہاہوں ، پس میرے پاس دو شخص آئے ، اُن میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے چھوٹے کو مسواک دی تو مجھ سے کہا گیا : ” بڑے کودو ۔ “ پھر میں نے اُن میں سے بڑے کو مسواک دے دی ۔
وَعَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِیْ رَجُلَانِ اَحَدُهُمَا اَكْبَرُ مِنَ الْاخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْاَصْغَرَ فَقِيلَ لِي : كَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ اِلَى الْاَ كْبَرِ مِنْھُمَا . ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 353 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” بے شک بوڑھے مسلمان ، وہ حافظِ قران جو نہ تواس میں زیادتی کرے اور نہ اس سے دور رہے اور عادِل بادشاہ ، اِن تینوں کی تعظیم کرنااللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم میں سے ہے ۔ “
عَنْ اَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ مِنْ اِجْلَالِ اللہِ تَعَالٰی اِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْاٰنِ غَيْرِ الْغَالِيْ فِيْهِ وَالْجَافِيْ عَنْهُ وَاِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 354 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عَمرو بن شعیبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے اور اُن کے والد اِن کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ، صاحب لَولَاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے شرف و عزت کو نہیں پہچانتا وہ ہم میں سے نہیں ۔ “ ابو داود کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ” ہمارے بڑوں کے حق کو نہیں پہچانتا ۔ “
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيْرِنَا. ( ) وَفِی رِوَایَۃِ اَبِیْ دَاودٍ : ” حَقَّ کَبِیْرِنَا“. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 355 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا میمون بن ابو شبیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس ایک فقیر آیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اُسے ایک ٹکڑا دے دیا پھر آپ کے پاس ایک ایسا آدمی آیا جو کہ اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھا ، آپ نے اُسے بٹھایا پھر اُس نے کھانا کھایا ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے اِس فرق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جواب دیا کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” لوگوں کے ساتھ اُن کے مرتبے کے لحاظ سے سلوک کرو ۔ “اِس حدیث پاک کو امام ابو داودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا اور فرمایا : ’’حضرت سیدنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ملاقات نہیں کی ۔ ‘‘
امام مسلم نے اسے اپنی ” صحیح مسلم “کے شروع میں تعلیقا ًذکر کیا ہے پس انہوں نے کہا کہ حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے وہ فرماتی ہیں : ”رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حکم دیا لوگوں کے ساتھ اُن کے مَراتب کے لحاظ سے سلوک کیا جائے ۔ “حاکم ابوعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
نے اِس حدیث پاک کو اپنی کتاب ” معرفۃ علوم حدیث“ میں بھی ذکر کیا ہے ، لیکن اِس کی سند ذکر نہیں کی اور فرمایا کہ ’’یہ حدیث صحیح ہے ۔ ‘‘
عَنْ مَيْمُونِ بْنِ اَبِيْ شَبِيْبٍ رَحِمَہُ اللہُ اَنَّ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا مَرَّ بِهَا سَائِلٌ فَاَعْطَتْهُ كِسْرَةً وَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَهَيْئَةٌ فَاَقْعَدَتْهُ فَاَكَلَ فَقِيْلَ لَهَا فِي ذٰلِكَ؟ فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ “ رَوَاہُ اَبُو دَاوُدَ : لٰکِنْ قَالَ : ” مَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ“. ( ) وَقَدْ ذَکَرَہُ مُسْلِمٌ فِی اَوَّلِ صَحِیْحِہِ تَعْلِیْقًا فَقَالَ وَذُکِرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ : ” اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَنْ نُنْزِلَ النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ“ وَ ذَکَرَہُ الْحَاکِمُ اَبُو عَبْدِ اللہِ فِی کِتَابِہِ ” مَعْرِفَۃُ عُلُوْمِ الْحَدِیْثِ“ وَلَمْ یَذْکُرْ لَہُ سَنَدًا وَقَالَ : ھُوَ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 356 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہعُیَیْنَہبن حِصْن آئے اور اپنے بھتیجے حضرت حُربن قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس ٹھہرے ۔ حضرت حربنْ قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُامیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مُقَرَّبِیْن میں سے تھے ۔ میر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ بیٹھنے والے اورمُشِیْر( یعنی مشورہ دینے والے ) نوجوان وبڑی عمر والے علماءحضرات ہوتے تھے ۔عُیَیْنَہنے اپنے بھتیجے سے کہا : ’’اے بھتیجے ! امیر المؤمنین کے ہاں تیری عزت ہے ، میرے لیے وہاں جانے کی اجازت طلب کرو ۔ ‘‘ انہوں نے اجازت مانگی تو امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اجازت دے دی ، جبعُیَیْنَہحاضر ہوئے تو عرض کی : ” اے ابنِ خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ!اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! آپ ہمیں نہ زیادہ دیتے ہیں اورنہ ہی ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں ۔ “ یہ سن کر سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجلال میں آگئے اور قریب تھا کہ اُنہیں سزا دیتے لیکن حضرت حُر بن قیسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’اے امیر المؤمنینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ!اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرمایا : ” اے محبوب ! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو
اور جاہلوں سے منہ پھیر لو“اور یہ نا سمجھ لوگوں میں سے ہیں ۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! اس آیت کی تلاوت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کوئی کاروائی نہ کی ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاللہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب پر بہت عمل کرنے والے تھے ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ اَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ وَ كَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيْهِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ اَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ كُهُوْلًا كَانُوا اَوْ شُبَّانًا. فَقَالَ عُيَيْنَةُ لاِبْنِ اَخِيهِ يَا ابْنَ اَخِى لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هٰذَا الْاَمِيْرِ فَاسْتَاْذِنْ لِى عَلَيْهِ فَاسْتَاْذَنَ لَهُ فَاَذِنَ لَهُ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ : هِىَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِيْنَا الْجَزْلَ وَلَا تَحْكُمُ فِيْنَا بِالْعَدْلِ فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ حَتَّى هَمَّ اَنْ يُّوْقِعَ بِهِ فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ يَا اَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ) وَ اِنَّ هٰذَا مِنَ الْجَاهِلِيْنَ وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِيْنَ تَلاَهَا عَلَيْهِ وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ . ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 357 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعیدسَمُرَہ بن جُندُبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں لڑکا تھااورمیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ( سن کر ) حدیثیں یاد کیا کرتا تھا ، مجھے وہاں گفتگو سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی سوائے اس بات کے کہ وہاں مجھ سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں ۔ ‘‘
عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا فَكُنْتُ اَحْفَظُ عَنْهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا اَنَّ هَا هُنَا رِجَالًا هُمْ اَسَنُّ مِنِّي. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 358 ، علماء کی تعظیم کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو بھی جوان کسی بوڑھے کی اس کی عمر کی وجہ سے تعظیم کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّاُس کے لیے اُسے پیدا فرمادیتا ہے جو بڑھاپے میں اُس کی عزت کرے گا ۔ “
عَنْ اَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ اِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 359 ، علماء کی تعظیم کا بیان