Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 357

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ اَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ وَ كَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيْهِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ اَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ كُهُوْلًا كَانُوا اَوْ شُبَّانًا. فَقَالَ عُيَيْنَةُ لاِبْنِ اَخِيهِ يَا ابْنَ اَخِى لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هٰذَا الْاَمِيْرِ فَاسْتَاْذِنْ لِى عَلَيْهِ فَاسْتَاْذَنَ لَهُ فَاَذِنَ لَهُ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ : هِىَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِيْنَا الْجَزْلَ وَلَا تَحْكُمُ فِيْنَا بِالْعَدْلِ فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ حَتَّى هَمَّ اَنْ يُّوْقِعَ بِهِ فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ يَا اَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ) وَ اِنَّ هٰذَا مِنَ الْجَاهِلِيْنَ وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِيْنَ تَلاَهَا عَلَيْهِ وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ . ( )

عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال قدم عيينة بن حصن فنزل على ابن اخيه الحر بن قيس و كان من النفر الذين يدنيهم عمر رضی اللہ عنھ ، وكان القراء اصحاب مجلس عمر ومشاورته كهولا كانوا او شبانا. فقال عيينة لابن اخيه يا ابن اخى لك وجه عند هذا الامير فاستاذن لى عليه فاستاذن له فاذن له عمر رضی اللہ عنھ فلما دخل قال : هى يا ابن الخطاب فوالله ما تعطينا الجزل ولا تحكم فينا بالعدل فغضب عمر رضی اللہ عنھ حتى هم ان يوقع به فقال له الحر يا امير المؤمنين ان الله تعالى قال لنبيه صلى الله عليه وسلم : ( خذ العفو و امر بالعرف و اعرض عن الجهلین(۱۹۹) ) و ان هذا من الجاهلين والله ما جاوزها عمر حين تلاها عليه وكان وقافا عند كتاب الله . ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہعُیَیْنَہبن حِصْن آئے اور اپنے بھتیجے حضرت حُربن قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس ٹھہرے ۔ حضرت حربنْ قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُامیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مُقَرَّبِیْن میں سے تھے ۔ میر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ بیٹھنے والے اورمُشِیْر( یعنی مشورہ دینے والے ) نوجوان وبڑی عمر والے علماءحضرات ہوتے تھے ۔عُیَیْنَہنے اپنے بھتیجے سے کہا : ’’اے بھتیجے ! امیر المؤمنین کے ہاں تیری عزت ہے ، میرے لیے وہاں جانے کی اجازت طلب کرو ۔ ‘‘ انہوں نے اجازت مانگی تو امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اجازت دے دی ، جبعُیَیْنَہحاضر ہوئے تو عرض کی : ” اے ابنِ خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ!اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! آپ ہمیں نہ زیادہ دیتے ہیں اورنہ ہی ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں ۔ “ یہ سن کر سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجلال میں آگئے اور قریب تھا کہ اُنہیں سزا دیتے لیکن حضرت حُر بن قیسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’اے امیر المؤمنینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ!اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرمایا : ” اے محبوب ! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو

اور جاہلوں سے منہ پھیر لو“اور یہ نا سمجھ لوگوں میں سے ہیں ۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں : ’’
اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! اس آیت کی تلاوت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کوئی کاروائی نہ کی ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاللہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب پر بہت عمل کرنے والے تھے ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :( 1 ) اس حدیث مبارکہ میں اِس بات کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قریبی اور مشیر لوگ علماء حضرات ہوتے تھے ، یقیناً علماء کا یہ مقام ومرتبہ ہے کہ ان کو اپنے قریب کیا جائے ان ہی سے مشاورت کی جائے ۔ یہ باب بھی علماء کو ان کے مقام ومرتبے میں رکھنے ، ان کی مسند کو بلند کرنے کا ہے ۔ اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 2 ) اس حدیث پاک میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ حضرت عیینہ بن حصنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہوئے تو انہوں نے شکوہ کیا جسے سن کر امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجلال میں آگئے اور ہوسکتا تھا کہ انہیں سزا دیتے لیکن حضرت حر بن قیسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ کو عفوو درگزر کرنے اور جاہلوں سے اعراض کرنے کی ترغیب دلائی ، نیز یہ بھی بیان کیا کہ حضرت عیینہ بن حصنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُناسمجھ لوگوں میں سے ہیں ۔ یعنی انہوں نے آپ کی بارگاہ میں فقط اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ، لہٰذا ان کے ساتھ سزا والا معاملہ نہ کیا جائے تو سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی کیونکہ وہ عفوودرگزر کے لائق تھے ، اس لیے آپ نے انہیں درگزر کردیا ۔ یعنی جو بات ان کے مرتبے کے لائق تھی آپ نے ان کے ساتھ وہی فرمایااور یہ باب بھی اسی بات کے بیان میں ہے کہ جس کا جو مقام ومرتبہ ہو اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا جائے ۔ اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥
سیدنا فاروقِ اعظم کا صبراور قرآن پرعمل :مذکورہ حدیث پاک میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے عظیم الشان

صبر کا بیان ہے کہ آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے اوپرسنگین الزامات سننے کے بعد قرآن پرعمل کرتے ہوئے عفوودرگزر سے کام لیا اور الزام لگانے والے کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کی ۔ اس حدیث کی مزید مزید شرح کے لیے ’’فیضانِ ریاض الصالحین ‘‘ کی جلد اوَّل ، باب الصبر ، حدیث نمبر۵۰ کا مطالعہ کیجئے ۔
¥
سیدنا فاروقِ اعظم کے مشیر :اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مشیر اور قریبی وہ لوگ تھے جو قاریٔ قرآن تھے ۔ یہاں قاری سے مراد عالِم ہے ۔ جیسا کہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیعمدۃ القاری میں فرماتے ہیں : ’’قراء سے مراد علماء اور عبادت گزار بندے ہیں ۔ ‘‘ ( ) اس سے معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعلماء ، اہلِ فضل اور نیک لوگوں کو اپنے قریب جگہ دیتے ، اُن کی تعظیم و توقیر کرتے اور انہی سے مشاورت کرتے تھے ۔
¥
سیدنا حُر بن قیس اور بارگاہِ فاروقی :حضورسید عالَم نور ِمجسم شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس غزوۂ تبوک کے بعد قبیلہ فزارہ کا وفد آیا اُن میں حضرت سیدنا حُرّ بن قیسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ۔ یہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی مجلس مشاورت کے رُکن اور مقرب تھے ۔ یہ عالِم اور بہت بڑے عابد تھے اسی لیے سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں اپنا قریبی کیا تھاکیونکہ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مشیر علماء ، قاری ، عابد اور نیک خو بوڑھے اور نوجوان ہوتے تھے ۔ تمام نیک سیرت اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والے تھے ۔ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی مجلس کے وقت اُن کا کوئی حاجب دربان نہ ہوتا تھا ۔ اُن کی مجلس میں داخل ہونے کے لیے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی البتہ جب تنہا ہوتے اور آرام کا وقت ہوتا اس وقت ان کے پاس جانے کے لیے اجازت لینا پڑتی تھی اس لیے حضرت سَیِّدُنَا عُیَیْنَہ بن حصنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو تنہائی کے وقت میں اجازت لینا پڑی ۔ ( )

¥
عفوودَرگُزر سے کام لینے کی ترغیب :حضرت سیدنا حُر بن قیسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو عفوودرگزر کی ترغیب دلائی تو سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فوراً اسے قبول فرمالیا اور حضرت سیدنا عیینہ بن حصنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو معاف فرمادیا ، ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ فرمائی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی معاف کرنے کی ترغیب دلائے اور معاف کرنا بندے کے اختیار میں ہوتو معاف کردینا چاہیے ۔ احادیث مبارکہ میں عفوودرگزر اور معاف کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے جنت میں محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تو اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرواللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں معاف فرمادے گا ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا : جس کا اجراللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہوجائے ۔ پوچھا جائے گا : کس کا اجر ہے ؟ وہ منادی کہے گا : ان لوگوں کا جو معاف کرنے والے ہیں ۔ تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ ‘‘ ( )جاہلوں سے اِعراض کرنے کی تعلیم :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس حدیث پاک سے جہاں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جس طرح معزز لوگوں کے مقام ومرتبے کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ ویسا ہی حُسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے اسی طرح جاہل لوگوں سے بحث مباحثہ کرنا یا ان کی کسی بات پر ان سے الجھنا یا ان سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے بلکہ جاہل لوگوں سے اَعراض کرنا چاہیے ۔ خود قرآنِ پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے :
خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)(پ۹ ،الاعراف: ۱۹۹ )ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو ۔مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی اپنے ذاتی دشمنوں کو معاف فرمادو اور جو تمہاری ذات سے جہالت کا برتاؤ کرے ، اس سے بے توجہی اور درگزر فرماؤ نہ کہاللہرسول کے دشمنوں سے ۔ لہٰذا یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے اور اس میں اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہے جس سے دشمن بھی دوست بن جاویں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’حُسْنِ خُلْق ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحق بات کہنے ، سننے والے تھے ، کسی بھی ناحق بات کو ہرگز قبول نہ فرمایا کرتے تھے ۔
(2) امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے قریب علماء اور نیک ومتقی لوگوں کو رکھا کرتے تھے جن میں جوان اور بوڑھے دونوں ہوتے تھے اور ان ہی سے مشورہ کرتے تھے ۔
(3) حضرت سیدنا حر بن قیس
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعالم اور بڑے عابد تھے اسی لیے انہیں بارگاہِ فاروقی کی قربت اور اعلیٰ مقام حاصل تھا ۔
(4) اپنی ذات کے خلاف کوئی بھی بات سن کر اس پر صبر کرنا چاہیے جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے صبر فرمایا ۔
(5) اسلام میں اپنے ذاتی دشمنوں سے بدلہ لینے کی نہیں بلکہ انہیں معاف کرنے اور عفوردرگزر سے کام لینے کی ترغیب دلائی گئی ہے ، یہ وہ تعلیم ہے جس سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں ۔

(6) جاہل لوگوں سے بحث مباحثہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی کرنی چاہیے کیونکہ اِسلام میں جاہلوں سے اِعراض کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عفوودرگزر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے ، جاہلوں سے بحث مباحثہ کرنے کے بجائے اُن سے اِعراض کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 357