Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 354

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ مِنْ اِجْلَالِ اللہِ تَعَالٰی اِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْاٰنِ غَيْرِ الْغَالِيْ فِيْهِ وَالْجَافِيْ عَنْهُ وَاِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ. ( )

عن ابي موسى الاشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ان من اجلال اللہ تعالی اكرام ذي الشيبة المسلم وحامل القران غير الغالي فيه والجافي عنه واكرام ذي السلطان المقسط. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” بے شک بوڑھے مسلمان ، وہ حافظِ قران جو نہ تواس میں زیادتی کرے اور نہ اس سے دور رہے اور عادِل بادشاہ ، اِن تینوں کی تعظیم کرنااللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم میں سے ہے ۔ “

شرح حدیث

بزرگوں کی تعظیم کرو :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرو یعنی وہ شخص جس کے بال سفید ہوچکے ہوں اور اُس کی عمر اسلام اور ایمان کی حالت میں گزری ہو تو اُس کی تعظیم کرنا ، اگر اُن میں امامت کی شرائط پائی جاتی ہوں تو نماز میں انہیں مُقَدَّم کرنا ، اسی طرح دیگر محافل و مجالس اور قبر وغیرہ میں بھی نیز اُن پر نرمی و شفقت کا برتاؤ کرنا گویااللہ عَزَّوَجَلَّکی کمال تعظیم کرنا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
چاراَشخاص کی تعظیم سنت ہے :اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم و توقیر یہ

بھی ہے کہ اُس کے وقار کی عزت کی جائے اور وقار بوڑھا مسلمان ہے ، اسی وجہ سے حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم
خلیلُ اللہعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ دعا مانگی : ” اےاللہمیرے وقار میں اضافہ فرما ۔ “امام طاؤسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ چار شخصوں کی تعظیم کرنا سنت ہے : ( 1 ) عالم ( 2 ) عمر رسیدہ مسلمان ( 3 ) حاکم اور ( 4 ) باپ ۔ ‘‘ ( )
¥
حامِلِ قرآن کو ن ہے ؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حامل قرآن سے مراد قاری قرآن ، حافظ اور مفسِّر ہے ، ” اُس میں زیادتی کرنے والا نہ ہو“ یعنی قرآن کے لفظوں یا معنیٰ میں حد سے بڑھنے والا نہ ہو جیسا کہ بعض وہمی یا شکی مزاج لوگ یا ریاکاری کرنے والا یا قرآن میں تحریف کر کے خیانت کرنے والا جیسا کہ اکثر جاہل عوام اور بہت سے نام نہاد علماءیا غلط تاویل کرکے غلط معنیٰ بیان کرنے والے جیسے تمام بدعتی لوگ ۔ ” قرآن سے دور نہ ہو“ یعنی قرآن کی تلاوت ، اس کے اَحکام ، اس کے معانی سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے اعراض نہ کرے ۔ ‘‘ ( ) ایسے حافظ قرآن کی حدیث میں فضیلت بیان ہوئی ہے چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا مولا علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے قرآنِ مجید پڑھا ، اور اسے حفظ کیا ، اس کے حلال کو حلال جانا اور اس کے حرام کو حرام جانا تواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھروالوں میں سے ایسے دس افراد کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکا تھا ۔ ‘‘ ( )
¥
عادِل حکمراناللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت :حدیث پاک میں عادِل حاکم کی تعظیم کو بیان فرمایا گیا ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئےمُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’مُنصِف حاکِم عدل والا بادشاہاللہکی رحمت ہے جس کے سایہ میںاللہکی مخلوق آرام پاتی ہے وہ رِعایا کے لیے مثل مہربان والد کے ہے

اس لیے اس کا احترام ضروری ہے ۔ ‘‘ ( ) عادِل حکمران کے بھی احادیث مبارکہ میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، چنانچہ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’سات افراد ایسے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دے گا جس دناللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : ( 1 ) عادل حکمران ( 2 ) وہ نوجوان جس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں اپنی زندگی گزار دی ۔ ( 3 ) وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہے ۔ ( 4 ) وہ دو شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرتے ہوئے جمع ہوئے اور محبت کرتے ہوئے جدا ہوگئے ۔ ( 5 ) وہ شخص جسے کوئی صاحب مال وجمال عورت گناہ کیلئے بلائے اور وہ کہے کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہو ۔ ( 6 ) وہ شخص جو اس طرح چھپاکر صدقہ دے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے جو صدقہ دیا بائیں ہاتھ کو اس کا پتہ نہ چلے ۔ ( 7 ) وہ شخص جس کی آنکھیں تنہائی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتے ہوئے بہہ پڑیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’احادیث ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
بوڑھے اور بزرگ مسلمانوں کا بہت ادب واحترام کرنا چاہیے ، جہاں تک ممکن ہو انہیں ہر ہر معاملے میں آگے کرنا چاہیے ۔
(2) بوڑھے اور بزرگ مسلمانوں کے ساتھ نہایت ہی تعظیم اور شفقت والا برتاؤ کرنا چاہیے کہ ان کی تعظیم کرنا گویا
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تعظیم کرنا ہے ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تعظیم یہ بھی ہے کہ اس کے وقار کی تعظیم کی جائے اور اس کا وقار بوڑھا مسلمان ہے ۔

(4) عالم ، عمررسیدہ مسلمان ، حاکم اور والد ان چاروں کی تعظیم کرنا سنت ہے ۔
(5) حامل قرآن کی بھی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے ، مگر اس سے مراد وہ حافِظ یا قارِیٔ قرآن یا مفسرہے جو قرآن کے حلال کو حلال جانے ، حرام کوحرام اور اس پر عمل کرے کہ ایسے حافظ کی احادیث میں فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(6) انصاف کرنے والا بادشاہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے جس کے سائے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق آرام پاتی ہے ، ایسے عادل حاکم کی بھی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بوڑھے اور بزرگ مسلمانوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں ہر معاملے میں مُقَدَّم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، قرآن وسنت پر عمل کرنے والے حافظ ، قارِی یا مُفَسِّر اور عادِل بادشاہ کی بھی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 354