- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- علماء کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 359
علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 359
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ اِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ. ( )
عن انس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما اكرم شاب شيخا لسنه الا قيض الله له من يكرمه عند سنه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو بھی جوان کسی بوڑھے کی اس کی عمر کی وجہ سے تعظیم کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّاُس کے لیے اُسے پیدا فرمادیتا ہے جو بڑھاپے میں اُس کی عزت کرے گا ۔ “
شرح حدیث
جیسی کرنی ویسی بھرنی :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں ایک وعدے کی
طرف اشارہ ہے کہ جوشخص کسی بزرگ کا ادب و احترام کرے گا وہ لمبی عمر پائے گا یہاں تک کہ جب وہ خود بوڑھا ہوگا تواللہ عَزَّ وَجَلَّایک شخص کو مقرر فرمادے گا جو اُس کی عزت کرے گا پس جیسا اُس نے کیا تھا اس کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا ۔ ‘‘ ( )
¥درازیٔ عمر پانے کا طریقہ :مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی جو شخص بوڑھے مسلمان کا صرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے ، اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں ، یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے تواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے ۔ اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا آدمی دراز عمر بھی پائے گا دنیا میں مال ، عیش ، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے ۔ خود اس حدیث کے راوی حضرت انس (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی دس سال خدمت کی ، دیکھ لو کہ ان کی عمر ایک سو تین سال ہوئی ۔ ان کی زندگی میں ان کی اولاد کی تعداد ایک سو ہوئی یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد ۔ ایک مخلوق نے ان سے احادیث روایت کیں ، جہاں پہنچ جاتے تھے لوگ ان کی زیارت کے لیے جمع ہوجاتے تھے ۔ یہ ہے اس حدیث کا ظہور اور اس وعدہ نبوی کی جیتی جاگتی تصویر و تفسیر ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی آدمی جیسا کرتا ہے ویسا ہی بھرتا ہے ، یعنی آج اگر ہم کسی بزرگ کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ، اپنے ماں باپ کی بڑھاپے میں خدمت کریں گے ، ان کا ادب واحترام کریں گے تواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکل ہماری اولاد بھی ہمارا ادب واحترام کرے گی ، ہمارے بڑھاپے میں بھی وہ ہماری خدمت کرے گی ۔ جو لوگ بوڑھوں کی عزت نہیں کرتے ، اپنے بوڑھے والدین کی خدمت نہیں کرتے ، ان کا ادب واحترام نہیں کرتے ، ان کی بھی بڑھاپے میں کوئی عزت نہیں کرتا ۔ ترغیب وترہیب کے لیے چند
واقعات پیش خدمت ہیں :
¥پیرومرشد کی خدمت کا نتیجہ :خراسان سے ایک مرید اپنے پیر صاحب کی خدمت و زیارت کی غرض سے سفر پر روانہ ہوااور مصر پہنچا اور ایک مدت تک پیر صاحب کی خدمت میں رہا ۔ ایک دن پیرصاحب کے پاس کچھ اکابرین زیارت کی غرض سے حاضر ہوئے تو پیر صاحب نے مرید سے کہا کہ’’ ان کی سواریوں کی دیکھ بھال کرو ۔ ‘‘ مرید ان کی دیکھ بھال کرنے لگا لیکن اس کے دل میں ایک خیال آیا کہ میں اتنا طویل سفر کر کے آیا اور اتنے عرصے پیر صاحب کی خدمت کی اُس کا یہ صلہ ملا ہے ۔ جب اکابرین زیارت کر کے چلے گئے تو مرید شیخ صاحب کے پاس حاضر ہوا ۔ شیخ صاحب نے اس سے فرمایا : ” اے بیٹے ایک دن آئے گا جب تیرے پاس بڑے بڑے لوگ زیارت کے لیے آئیں گے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّایک شخص کو مقدر فرمادے گا جو اُن کی خدمت کرے گا ۔ “ شیخ الاسلام ندیم الباریعبداللہالانصاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ’’جیسا شیخ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ ہم نے دیکھا کہ اس مرید کے دروازے پر ہر وقت زیارت کرنے والوں کے خچر اور گھوڑے کھڑے رہتے تھے ۔ ( )ماں کو تنہا چھوڑ دینے والے کی عبرتناک موت :شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ صفحہ ۴۳۴ پرایک عبرت ناک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی ماں سخت بیمار ، موت کے بچھونے پر پڑی تھی ، اِس کے باوُجُود نالائق بیٹے نے اُس کے ساتھ بد تمیزی کی اور بے چاری کو تنہا چھوڑ دیا اور وہ غریب اِسی حالتِ تنہائی میں انتِقال کر گئی ۔ وقت گزرتا گیا ۔ 30سال بعد اُس ’’نالائق بیٹے ‘‘ کو دست لگ گئے اور نہایت کمزور ہو گیا ۔ ہاتھوں کا کِیا یوں آڑے آیا کہ رو رو کر کہتا سنا گیا : ’’ میرے تین بیٹے ہیں مگر میری بِالکل پرواہ نہیں کرتے ، میں کئی روز سے بیمار پڑا
ہوں مگر ایک بار بھی ملنے نہیں آئے ۔ ‘‘ آخِر کار وہ اپنی ماں کی طرح رات کو اکیلا مَر گیا ۔ صُبح مَحَلّے والوں نے دیکھاکہ اکیلی لاش پر چِیونٹیاں اکٹّھی ہوچکی تھیں اور اُس کو کاٹ رہی تھیں ۔
دل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ ہے اِس میں خسارہ آپ کا
یہ حقیقت ہے کہ ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں بھی سزا پاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’سب گناہوں کی سزااللہ عَزَّ وَجَلَّچاہے تو قِیامت کیلئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کی سزا جیتے جی پہنچاتاہے ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں دُنیوی مَفادات کیلئے نہیں بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَحکامات کی بجا آوَری کی نیّت سے والِدَین کی اِطاعت کرنی چاہئے ۔
غیر اسلامی مُمالِک میں بکثرت اولڈہاؤس ہیں او ر افسوس اب ان کی دیکھا دیکھی اسلامی ملکوں حتّٰی کہ پاکستان میں بھی اس کا آغاز ہو چکا ہے ! دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں 16ربیعُ النور شریف۱۴۳۲ہجری ( 19.2.2011 ) کو مُعمَّرحضرات ( یعنی بوڑھوں ) کا مَدَنی مذاکرہ ہوا تھا جس میں مُلک بھر سے ہزاروں سِن رَسیدہ بزرگوں نے شرکت کی تھی اوریہ مدنی مذاکرہ ’’مدنی چینل ‘‘ پر براہِ راست ٹیلی کاسٹ ( TELECAST ) کیا گیا تھا ۔ کسی پاکستانی اولڈہاؤس میں مقیم دو نہایت کمزور بزرگوں نے اسلامی بھائیوں سے نہایت غمگین لہجے میں اپنا درد بیان کیا اور اولڈ ہاؤس میں چھوڑ کر چلے جانے پر اپنے عزیزوں کے متعلّق نہایت تَأَ سُّف و حسرت کا اِظہارکیا اور کہاکہ ہماری آرزو ہے کہ ہمارے خاندان والے ہمیں گھر واپس لے چلیں ہم یہاں کافی دُکھی ہیں ۔ ہائے ! ہائے ! وہ اولاد کتنی احسان فراموش اور ناخَلَف و نالائق ہے جو بچپن میں ماں باپ کی طرف سے کئے جانے والے تمام اِحسانات کو فراموش کر کے بُڑھاپے میں انہیں ٹھکرا دیتی ہے حالانکہ بڑھاپے میں تو بے چاروں کو ہمدردیوں کی زیادہ حاجت ہوتی ہے ۔ میٹھے اسلامی بھائیو ! آپ عہد کیجئے کہ چاہے
کچھ بھی ہو جائے ماں باپ کو عمر بھر نِبھائیں گے اور اُن کی خدمت کرکے خود کو جنَّت کا حقدار بنائیں گے ۔ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّہمارے معاشرے پر اپنا خصوصی فضل وکرم فرمائے ، ہماری جوان اَولاد کو اپنے بوڑھے ماں باپ ، بوڑھے بزرگوں کا ادب واحترام نصیب فرمائے ۔ آمینمدنی گلدستہ
اِسم جلالت ’’اللہ ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)بزرگوں کا ادب واحترام کرنے کی برکتیں دنیا وآخرت دونوں میں نصیب ہوتی ہیں ۔
(2) جو شخص کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے ادب واحترام کرتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اس کے بڑھاپے میں بھی ادب واحترام نصیب فرماتا ہے ۔
(3) بوڑھے بزرگوں کا ادب واحترام درازیٔ عمر بالخیر کا سبب ہے ۔
(4) یہ بالکل سچ ہے کہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ‘‘ یا ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘‘ جو جس کے ساتھ جیسا سلوک کرے گا بعد میں اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے گا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین اور دیگر بزرگوں کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ہمیں ان کے ساتھ نہایت ہی حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔دِل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ ہے اس میں خسارہ آپ کاصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 359