Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 359

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ اِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ. ( )

عن انس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما اكرم شاب شيخا لسنه الا قيض الله له من يكرمه عند سنه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو بھی جوان کسی بوڑھے کی اس کی عمر کی وجہ سے تعظیم کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّاُس کے لیے اُسے پیدا فرمادیتا ہے جو بڑھاپے میں اُس کی عزت کرے گا ۔ “

شرح حدیث

جیسی کرنی ویسی بھرنی :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں ایک وعدے کی

طرف اشارہ ہے کہ جوشخص کسی بزرگ کا ادب و احترام کرے گا وہ لمبی عمر پائے گا یہاں تک کہ جب وہ خود بوڑھا ہوگا تو
اللہ عَزَّ وَجَلَّایک شخص کو مقرر فرمادے گا جو اُس کی عزت کرے گا پس جیسا اُس نے کیا تھا اس کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا ۔ ‘‘ ( )
¥
درازیٔ عمر پانے کا طریقہ :مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی جو شخص بوڑھے مسلمان کا صرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے ، اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں ، یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے تواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے ۔ اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا آدمی دراز عمر بھی پائے گا دنیا میں مال ، عیش ، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے ۔ خود اس حدیث کے راوی حضرت انس (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی دس سال خدمت کی ، دیکھ لو کہ ان کی عمر ایک سو تین سال ہوئی ۔ ان کی زندگی میں ان کی اولاد کی تعداد ایک سو ہوئی یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد ۔ ایک مخلوق نے ان سے احادیث روایت کیں ، جہاں پہنچ جاتے تھے لوگ ان کی زیارت کے لیے جمع ہوجاتے تھے ۔ یہ ہے اس حدیث کا ظہور اور اس وعدہ نبوی کی جیتی جاگتی تصویر و تفسیر ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی آدمی جیسا کرتا ہے ویسا ہی بھرتا ہے ، یعنی آج اگر ہم کسی بزرگ کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ، اپنے ماں باپ کی بڑھاپے میں خدمت کریں گے ، ان کا ادب واحترام کریں گے تو
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکل ہماری اولاد بھی ہمارا ادب واحترام کرے گی ، ہمارے بڑھاپے میں بھی وہ ہماری خدمت کرے گی ۔ جو لوگ بوڑھوں کی عزت نہیں کرتے ، اپنے بوڑھے والدین کی خدمت نہیں کرتے ، ان کا ادب واحترام نہیں کرتے ، ان کی بھی بڑھاپے میں کوئی عزت نہیں کرتا ۔ ترغیب وترہیب کے لیے چند

واقعات پیش خدمت ہیں :
¥
پیرومرشد کی خدمت کا نتیجہ :خراسان سے ایک مرید اپنے پیر صاحب کی خدمت و زیارت کی غرض سے سفر پر روانہ ہوااور مصر پہنچا اور ایک مدت تک پیر صاحب کی خدمت میں رہا ۔ ایک دن پیرصاحب کے پاس کچھ اکابرین زیارت کی غرض سے حاضر ہوئے تو پیر صاحب نے مرید سے کہا کہ’’ ان کی سواریوں کی دیکھ بھال کرو ۔ ‘‘ مرید ان کی دیکھ بھال کرنے لگا لیکن اس کے دل میں ایک خیال آیا کہ میں اتنا طویل سفر کر کے آیا اور اتنے عرصے پیر صاحب کی خدمت کی اُس کا یہ صلہ ملا ہے ۔ جب اکابرین زیارت کر کے چلے گئے تو مرید شیخ صاحب کے پاس حاضر ہوا ۔ شیخ صاحب نے اس سے فرمایا : ” اے بیٹے ایک دن آئے گا جب تیرے پاس بڑے بڑے لوگ زیارت کے لیے آئیں گے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّایک شخص کو مقدر فرمادے گا جو اُن کی خدمت کرے گا ۔ “ شیخ الاسلام ندیم الباریعبداللہالانصاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ’’جیسا شیخ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ ہم نے دیکھا کہ اس مرید کے دروازے پر ہر وقت زیارت کرنے والوں کے خچر اور گھوڑے کھڑے رہتے تھے ۔ ( )ماں کو تنہا چھوڑ دینے والے کی عبرتناک موت :شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ صفحہ ۴۳۴ پرایک عبرت ناک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی ماں سخت بیمار ، موت کے بچھونے پر پڑی تھی ، اِس کے باوُجُود نالائق بیٹے نے اُس کے ساتھ بد تمیزی کی اور بے چاری کو تنہا چھوڑ دیا اور وہ غریب اِسی حالتِ تنہائی میں انتِقال کر گئی ۔ وقت گزرتا گیا ۔ 30سال بعد اُس ’’نالائق بیٹے ‘‘ کو دست لگ گئے اور نہایت کمزور ہو گیا ۔ ہاتھوں کا کِیا یوں آڑے آیا کہ رو رو کر کہتا سنا گیا : ’’ میرے تین بیٹے ہیں مگر میری بِالکل پرواہ نہیں کرتے ، میں کئی روز سے بیمار پڑا

ہوں مگر ایک بار بھی ملنے نہیں آئے ۔ ‘‘ آخِر کار وہ اپنی ماں کی طرح رات کو اکیلا مَر گیا ۔ صُبح مَحَلّے والوں نے دیکھاکہ اکیلی لاش پر چِیونٹیاں اکٹّھی ہوچکی تھیں اور اُس کو کاٹ رہی تھیں ۔
دل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ ہے اِس میں خسارہ آپ کا
یہ حقیقت ہے کہ ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں بھی سزا پاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفے ٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’سب گناہوں کی سزااللہ عَزَّ وَجَلَّچاہے تو قِیامت کیلئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کی سزا جیتے جی پہنچاتاہے ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں دُنیوی مَفادات کیلئے نہیں بلکہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَحکامات کی بجا آوَری کی نیّت سے والِدَین کی اِطاعت کرنی چاہئے ۔
غیر اسلامی مُمالِک میں بکثرت اولڈہاؤس ہیں او ر افسوس اب ان کی دیکھا دیکھی اسلامی ملکوں حتّٰی کہ پاکستان میں بھی اس کا آغاز ہو چکا ہے ! دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں 16ربیعُ النور شریف۱۴۳۲ہجری ( 19.2.2011 ) کو مُعمَّرحضرات ( یعنی بوڑھوں ) کا مَدَنی مذاکرہ ہوا تھا جس میں مُلک بھر سے ہزاروں سِن رَسیدہ بزرگوں نے شرکت کی تھی اوریہ مدنی مذاکرہ ’’مدنی چینل ‘‘ پر براہِ راست ٹیلی کاسٹ ( TELECAST ) کیا گیا تھا ۔ کسی پاکستانی اولڈہاؤس میں مقیم دو نہایت کمزور بزرگوں نے اسلامی بھائیوں سے نہایت غمگین لہجے میں اپنا درد بیان کیا اور اولڈ ہاؤس میں چھوڑ کر چلے جانے پر اپنے عزیزوں کے متعلّق نہایت تَأَ سُّف و حسرت کا اِظہارکیا اور کہاکہ ہماری آرزو ہے کہ ہمارے خاندان والے ہمیں گھر واپس لے چلیں ہم یہاں کافی دُکھی ہیں ۔ ہائے ! ہائے ! وہ اولاد کتنی احسان فراموش اور ناخَلَف و نالائق ہے جو بچپن میں ماں باپ کی طرف سے کئے جانے والے تمام اِحسانات کو فراموش کر کے بُڑھاپے میں انہیں ٹھکرا دیتی ہے حالانکہ بڑھاپے میں تو بے چاروں کو ہمدردیوں کی زیادہ حاجت ہوتی ہے ۔ میٹھے اسلامی بھائیو ! آپ عہد کیجئے کہ چاہے

کچھ بھی ہو جائے ماں باپ کو عمر بھر نِبھائیں گے اور اُن کی خدمت کرکے خود کو جنَّت کا حقدار بنائیں گے ۔ ( )
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمارے معاشرے پر اپنا خصوصی فضل وکرم فرمائے ، ہماری جوان اَولاد کو اپنے بوڑھے ماں باپ ، بوڑھے بزرگوں کا ادب واحترام نصیب فرمائے ۔ آمینمدنی گلدستہ
اِسم جلالت ’’اللہ ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
بزرگوں کا ادب واحترام کرنے کی برکتیں دنیا وآخرت دونوں میں نصیب ہوتی ہیں ۔
(2) جو شخص کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے ادب واحترام کرتا ہے تو
اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اس کے بڑھاپے میں بھی ادب واحترام نصیب فرماتا ہے ۔
(3) بوڑھے بزرگوں کا ادب واحترام درازیٔ عمر بالخیر کا سبب ہے ۔
(4) یہ بالکل سچ ہے کہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ‘‘ یا ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘‘ جو جس کے ساتھ جیسا سلوک کرے گا بعد میں اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے گا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین اور دیگر بزرگوں کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ہمیں ان کے ساتھ نہایت ہی حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔دِل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ ہے اس میں خسارہ آپ کا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 359