Main Icon

باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 765

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی سَعِيْدٍ الْخُدْرِي رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَهٰی عَنِ النَّفْخ في الشَّرَابِ فَقَالَ رَجُلٌ:الْقَذَاةُ اَرَاهَا فِی الْاِناءِ فَقَالَ:اَهْرِقْهَا.قَالَ: اِنِّي لَا اَرْوٰى مِنْ نَفَسٍ وَاحدٍ قَالَ: فَاَبِنِِ القَدَحَ اِذًاعَنْ فِيْكَ.

عن ابی سعيد الخدري رضی اللہ عنہ ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم نهی عن النفخ في الشراب فقال رجل:القذاة اراها فی الاناء فقال:اهرقها.قال: اني لا اروى من نفس واحد قال: فابن القدح اذاعن فيك.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ۔ ایک شخص نے عرض کی:’’اگر برتن میں تنکا وغیرہ دیکھوں تو کیا کروں؟‘‘فرمایا:’’اسے انڈیل دو۔‘‘عرض کی:’’میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا۔‘‘فرمایا:’’توپھر پیالے کو منہ سے ہٹاکر سانس لےلیا کرو۔‘‘

شرح حدیث

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”پھونک مارنا پانی میں ہو یا دودھ میں یا کسی اور پینے کی چیز میں،پھر خواہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ہو یا تنکا وغیرہ دور کرنے کے لیے اور خواہ پانی میں پھونک مارے یا کھانے میں سب ممنوع ہے۔(حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے عرض کی:) اگر برتن میں کوڑا تنکا نظر آئے تو میں کیا کروں وہ تو پھونک سے ہی دفع ہوسکتا ہے اور آپ حضور پھونک سے منع فرماتے ہیں۔(ارشاد فرمایا: اسے انڈیل دو۔)اس طرح کہ برتن سے تھوڑا پانی گرادو جس سے وہ کوڑا بھی گر جائے یا چمچہ یا کسی تنکے سے الگ کردو بہرحال پھونک نہ مارو۔سائل کا مقصد یہ ہے کہ آپ برتن میں پھونک مارنے سے منع فرماتے ہیں اور میں ایک سانس میں پانی وغیرہ سے سیر نہیں ہوتا دوسری تیسری سانس ضرور لینا پڑتی ہے وہ سانس برتن ہی میں لی جاوے گی تو پھر پھونکنا ہوگیا۔جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ چند سانسوں میں (پینا)ہو مگر سانس برتن میں نہ لو برتن منہ سے ہٹا کرلو۔خیال رہے کہ تین سانس سے پینا بہتر ہے ایک سانس سے پینا جائز۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 765