Main Icon

باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 766

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَهٰى اَنْ يُتَنَفَّسَ فِی الْاِنَاءِ اَوْ يُنْفَخَ فِيهِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما:ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم نهى ان يتنفس فی الاناء او ينفخ فيه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عبا سرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برتن میں سانس لینے اور پھونک مارنے سے منع فرمایا۔

شرح حدیث

کھانے پینے کی اشیاء میں پھونک مارنا :کھانے پینےکی اشیاء میں پھونک مارنا،اسی طرح کوئی چیز پیتے وقت برتن ہی میں سانس لینا منع ہے۔ اس ممانعت میں کئی حکمتیں ہیں۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”مشروبات میں پھونک مارنے اور سانس لینے کی ممانعت اس لئے ہے تاکہ تھوک وغیرہ اُڑ کرکھانے پینے کی اشیاء میں نہ گرے۔ بسااوقات منہ میں بدبو پیدا ہوجاتی ہےاور پھونک مارنے کی صورت میں مشروب بھی بدبو دار ہوسکتا ہے کیونکہ پانی میں رِقَّت ولَطافت ہوتی ہے اس لئے وہ چیزوں کو جلد جذب کر لیتاہے۔پانی میں سانس لینا جانوروں کا طریقہ ہے، جب وہ برتن وغیرہ میں پانی پیتے ہیں تو گھونٹ بھرنے کے بعد اسی میں سانس لیتے ہیں،پھر دوبارہ پینا شروع کر دیتے ہیں۔پانی پیتے وقت سانس لینے کی حاجت ہو تو برتن منہ سے ہٹا کر سانس لیا جائے۔ گرم اشیاء کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بھی پھونک نہ ماری جائے بلکہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جا ئے ۔پانی میں تنکا وغیرہ ہو تو انگلی کے علاوہ کسی چیز سے نکال دیا جائے یا اتنا پانی بہا دیا جائے کہ تنکا بہہ جائے ۔ انگلی سے نہ نکالا جائے کہ اس سے طبیعت کو گِھن محسوس ہوتی ہے۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”برتن میں سانس لینا جانوروں کا کام ہے،نیز سانس کبھی زہریلی ہوتی ہے اس لیے برتن سے الگ منہ کرکے سانس لو۔گرم دودھ یا چائے کو پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرو بلکہ کچھ ٹھہرو قدرے ٹھنڈی ہوجائے پھر پیو،اگر پانی میں تنکا وغیرہ ہو تو کچھ گرادو پھونک سے الگ نہ کرو۔بعض لوگوں کو گندہ دہنی (منہ میں بدبو)کی بیماری ہوتی ہے ان کی پھونک سے پانی میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے اس لیے ہرشخص ان دونوں سے پرہیز کرے برتن میں سانس لینے اوراس میں پھونک مارنے سے۔“مدنی گلدستہ’’آبِ کوثر ‘‘کے6حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) اِنسا ن کو ہر اُس کام سے بچنا چاہیے جو لوگوں کے لئےنفرت کا باعِث ہو۔
(2) کھانے پینے کی اَشیاء میں پھونک مارنا ممنوع ومکروہ ہے۔
(3) کوئی چیزپیتے وقت گلاس وغیرہ میں سانس نہیں لینا چاہیے، برتن کو منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے۔
(4) کھانے پینے کی اشیاء کو ٹھنڈاکرنے کیلئے ان میں پھونک نہ ماری جائے بلکہ ٹھنڈاہونے کا انتظار کیا جائے۔
(5) پانی میں رِقَّت ولطافت ہوتی ہے اس لئے وہ چیزوں کو جلد جذب کر لیتاہے ۔
(6) پانی میں کوئی تنکا وغیرہ ہو تو پھونک مارنے کی بجائے کسی چیز سے نکال دیا جائے یا پانی کے ساتھ بہا دیا جائے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے اور سانس لینے سے بچائے اور ہمیں کھانے پینے کے آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 766