Main Icon

خوف و امید کو جمع کرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 443

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوْ بَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ اَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِهِ اَحَدٌ. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقو بة ما طمع بجنته احد ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من جنته احد. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اگرمؤمن جان لیتا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس کتناعذاب ہے توکوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اوراگر کافرجان لیتاکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۔ ‘‘

شرح حدیث

امیدوخوف دونوں ضروری ہیں :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور اس کے عذاب کی کثرت کوبیان کرنامقصودہے تاکہ مؤمن اس کی رحمت پراعتماد نہ کربیٹھے اور اس کے عذاب سے بالکل بے خوف نہ ہوجائے ۔ کافراس کی رحمت سے نااُمیدی اختیارنہ کرے اور توبہ کرنا نہ

چھوڑے ۔ حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ بندے کوچاہیے کہ خوف و امید کے درمیان رہے ۔ یعنی
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت پر اُمیدبھی رکھے اور اُس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : اگر قیامت کے دن یہ اعلان کیاجائے کہ ایک ہی شخص جنت میں داخل ہوگا تو مجھےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے امیدہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں ۔ اسی طرح اگر یہ اعلان کیا جائے کہ ایک ہی شخص جہنم میں جائے گا تو خوف خدا کے سبب میں یہ گمان کروں گاکہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں ۔ زندگی میں بندے پرخوف غالب ہوناچاہیے اورموت کے وقت امید ۔ ‘‘ ( )
¥
خوف وامید کے درمیان رہنا چاہیے :علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگر انسان کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی پوری رحمت کا علم ہوتووہ کبھی ناامیدنہ ہواوراگراس کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے پورے عذاب کاعلم ہوتووہ ہروقت ڈرتا رہے لہٰذا انسان کوبیم ورجاء ( خوف وامید ) کے درمیان رہناچاہیے اتنازیادہ اُمیدواربھی نہ ہوجائے کہ اس کایہ عقیدہ ہوجائے کہ ایمان لانے کے بعدکوئی معصیت اور گناہ ضررنہیں پہنچاسکتاجیسے مرجئہ کہتے ہیں اور نہ ہی اس قدرخائف رہے کہ اس کاعقیدہ یہ ہوجائے کہ کبیرہ گناہ کرنے والاجب توبہ کے بغیرمرجائے تو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا جیسے معتزلہ اور خارجیوں کا عقیدہ ہے لہٰذاانسان کوان دونوں حدوں کے مابین رہناچاہیےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کا امید وار بھی رہے اور اس کے عذاب سے ڈرتابھی رہے ۔ ‘‘ ( )
¥
لطف وقہر ، رحمت وغضب کا بیان :شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ کافروں میں سے بھی کوئی اس کی رحمت سے ناامیدنہ ہو ۔ اس حدیث کااندازاللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفت لطف وقہراور رحمت وغضب کے بیان کے لیے ہے کہ کوئی بھی شخص اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ۔ پس مؤمنین جوکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ولطف کا مظہر

ہیں اگروہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قہرکاتصورکرلیں توان میں سے کوئی بھی جنت کاتصورنہ کرسکے اورکفارجو غضب و قہرکامظہرہیں اگر یہ اس کی رحمت ولطف پرنگاہ ڈال لیں تو اس سے نا اُمید نہ ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥
اُمیدسے کیامرادہے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’امیدسے مقصودیہ ہے اگر کسی شخص سے کوئی گناہ ہوجائے تواللہ عَزَّ وَجَلَّسے یہ حسن ظن اور امیدرکھے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے گناہوں کومعاف فرما دے گا ، اسی طرح اگر اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت و فرمابرداری کی ہے تویہ امید رکھے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی اطاعت وفرمابرداری کوقبول فرمائے گا ۔ رہاوہ وہ شخص جوگناہ کرتارہے اور بغیر ندامت کے گناہوں کو ترک کئے بغیریہ امیدرکھتاہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی پکڑنہیں فرمائے گا تویہ غروراور دھوکہ ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
اسم جلالت’’
اللہ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(7)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت بہت وسیع ہے ، اسی طرح اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے ۔
(8) بندے کواگر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کامل رحمت کاعلم ہوجائے تو وہ کبھی اس کی رحمت سے ناامیدنہ ہواوراگر اس کے عذاب کاعلم ہوجائے توہروقت ڈرتارہے لہٰذا بندے کوچاہیے کہ وہ خوف واُمیدکے درمیان رہے یعنی اس کی رحمت پرامیدبھی رکھے اوراس کے عذاب سے ڈرتابھی رہے ۔
(9) اگرکسی سے کوئی گناہ ہوجائے تو وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے یہ حسن ظن اور امیدرکھے کہ وہ اس کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ۔
(10) جوشخص گناہ کرتاہے اورندامت کے بغیرگناہوں کونہیں چھوڑتااور یہ اُمیدرکھتاہے کہ
اللہ عَزَّوَجَلَّ
اس کے گناہوں کومعاف فرمادے گاتوایساشخص دھوکے میں ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت سے امید اور اپنی ذات کا خوف نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 443