Main Icon

خوف و امید کو جمع کرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 444

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا النَّاسُ اَوِ الرِّجَالُ عَلَى اَعْنَاقِهِمْ فَاِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ : قَدِّمُوْنِي قَدِّمُوْنِي وَاِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا ! اَيْنَ تَذْهَبُوْنَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ اِلَّا الْاِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهُ صَعِقَ. ( )

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : اذا وضعت الجنازة واحتملها الناس او الرجال على اعناقهم فان كانت صالحة قالت : قدموني قدموني وان كانت غير صالحة قالت : يا ويلها ! اين تذهبون بها؟ يسمع صوتها كل شيء الا الانسان ولو سمعه صعق. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابوسعیدخدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جب جنازے کورکھاجاتاہے اورلوگ یا مرد اسے اپنے کندھوں پر اُٹھاتے ہیں تو اگروہ نیک ہوتوکہتاہے : مجھے آگے بڑھاؤ ، مجھے آگے بڑھاؤ اور اگر نیک نہ ہوتووہ کہتا ہے : ہائے افسوس ! تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟انسان کے علاوہ ہرچیزاس کی آوازسنتی ہے اگر انسان سنے تو بے ہوش ہوجائے ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میں نیک اور بدکار دومُردوں کے احوال کا ذکر ہے ، نیک مردے کا حال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے ناامید ومایوس نہیں ہونا چاہیے کہ رب تعالیٰ جس پر چاہے اپنا فضل فرمادے اور اس کو دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرمادے ۔ بدکار مردے کا حال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات سے کبھی بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے ، ہروقت خوفِ خدا میں لرزاں وترساں رہنا چاہیے کہ ربّ تعالیٰ کا غضب اور جلال جس شخص پر نازل ہوتا ہے وہ دنیا وآخرت میں ذلیل وخوار ہوجاتا ہے ، تباہی وبربادی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر بن جاتی ہے لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید بھی رکھے اور اس کی ذا ت کا خوف بھی رکھے ۔ یہ باب بھی چونکہ خوفِ خدا اور اُمید دونوں کو جمع کرنے کے بارے

میں ہے ۔ اسی لیے علامہ نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥
نیک شخص کا جنتی مقام کو دیکھنا :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’جب نیک شخص مرجاتاہے تووہ جنت میں اپنا اعلیٰ مقام دیکھ رہا ہوتاہے اورو ہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہاہوتاہے کہ مجھے میری منزل تک جلدی لے چلو ۔ میت کایہ کلام کرناحقیقتاً بھی ہوسکتا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس بات پرقادرہے کہ وہ مردے کواس طرح زندہ کردے جس طرح وہ قبرمیں سوال وجواب کے لیے زندہ کیا جاتاہے اورسرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ بات بھی ثابت ہے کہ منکرنکیر کے قبر میں آنے سے پہلے مردہ سنتاہے جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ ” مردہ دفن کرکے جانے والوں کی جوتوں کی آوازسنتا ہے پھر اس کے پاس ( منکرنکیر ) دو فرشتے آتے ہیں ۔ “حضرت سیدنا ابو سعیدخدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ میت اپنے غسل دینے والے ، اٹھانے والے ، کفن دینے والے اور قبر میں اتارنے والے سب کو پہچانتی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
مُردے کاجوتوں کی آہٹ سننا :مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’جنازے سے مراد میت ہے اور اس کے رکھے جانے سے مراد گھر سے باہر نکال کر لوگوں کے سامنے قبرستان لے جانے کے لیے رکھا جانا ہے ۔ ظاہر یہی ہے کہ مُردہ بزبانِ قال یہ گفتگو کرتا ہے کیونکہ اسے نزع میں ہی اپنے آئندہ حال کا پتہ چل جاتا ہے ، اب اسے یہاں ٹھہرنا وبال معلوم ہوتاہے ۔ اس لیے کہتا ہے : جلدی پہنچاؤ ۔ ‘‘ ( )
¥
اعمال کے سبب خوف میں مبتلا ہونا :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ نیک و صالح انسان وفات کے بعد اپنی آخری منزل کی طرف جانے کے لیے بیتاب ہوتا ہے جبکہ گنہگار و بدکار کافر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے ہیبت و خوف میں مبتلا ہوتا ہے ۔ علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ کافر یہ جانتاہے کہ اس نے کوئی نیک کام نہیں

کیااوراس کا آگے جانامصائب وبليات میں داخل ہوناہے ۔ اس لیے وہ آگے جانے کوبراجانتاہے اور واویلا کرتاہے اس کایہ واویلا اگر انسان سن لیں تو اس کی دہشت سے بے ہوش ہوجائیں ۔ ‘‘ ( )
¥
مُردے کی دردناک پکار :حدیث پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ اگر مردے کی یہ آواز انسان سن لیں تو وہ بے ہوش ہوجائیں مردے کی یہ آواز ” جانور ، فرشتہ ، کنکر ، پتھر سب سنتے ہیں انسان کو اس لیے نہ سنائی گئی کہ اولاً تو اس میں اس آواز کی برداشت کی طاقت نہیں ۔ دوسرے اس پر ایمان بالغیب لازم ہے اگر وہ آواز سن لے تو ایمان بالغیب نہ رہے ۔ “ ( )مولاعلی اور ایک قبر کے احوال :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ مردے کی آوازانسان کے علاوہ ہرچیز سن لیتی ہے لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے محبوب بندوں میں سے جسے چاہے یہ آواز سنا دیتا ہے چنانچہ ایک بار امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمزِیارتِ قُبُور کے لئے کوفہ کے قَبرِ ستان تشریف لے گئے ۔ وہاں ایک تازہ قَبرپر نظر پڑی ۔ آپکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو اُس کے حالات معلوم کرنے کی خواہِش ہوئی ۔ چُنانچِہ بارگاہِ خُداوندیعَزَّ وَجَلَّمیں عَرض گُزار ہوئے :یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! اِس مَیِّت کے حالات مجھ پرمُنْکَشِف(یعنی ظاہِر ) فرما ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں آپ کی اِلتجاء فوراً مَسْمُوع ہوئی ( یعنی سُنی گئی ) اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اُس مُردے کے درمیان جتنے پردَے حائل تھے تمام اٹھا دیے گئے ۔ اب اس قَبر کا بھیانک منظر آپ کے سامنے تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مُردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور رو روکرآپکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے اِس طرح فریادکررہا ہے : ’’یَاعَلِیُّ ! اَنَا غَرِیْقٌ فِی النَّارِ وَحَرِیْقٌ فِی النَّارِیعنیاے مولا علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم! میں آگ میں ڈوبا ہوا ہوں اور آگ میں جل رہا ہوں ۔ ‘‘ قَبْر کے دَہشتناک منظر اور مُردے کی درد نا ک پُکار نے حیدرِ کرّارکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو بے قرار کر دیا ۔ آپ نے اپنے رَحمت والے پروَردگارعَزَّ وَجَلَّکے دربار میں ہاتھ اُٹھادئیے اور نہایت ہی عاجِزی کے ساتھ اُس مَیِّت کی بخشش کیلئے درخواست پیش کی ۔ غیب سے

آواز آئی : ’’اے علی (
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) ! آپ اِس کی سِفارش نہ ہی فرمائیں کیوں کہ روزے رکھنے کے باوُجُودیہ شخص رمضان المبارک کی بے حُرمتی کرتا ، رمضان المبارک میں بھی گُناہوں سے بازنہ آتا تھا ۔ دن کو روزے تو رکھ لیتا مگر راتوں کو گُناہوں میں مبْتَلارہتا تھا ۔ ‘‘ مَولائے کائِنا ت سیدناعلیُّ المُرتَضٰی شیرِ خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمیہ سُن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سَجدے میں گِر کر رو رو کر عرض کرنے لگے : ’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے ، اِس بندے نے بڑی اُمّید کے ساتھ مجھے پُکارا ہے ، میرے مالِکعَزَّ وَجَلَّ! تُو مجھے اِس کے آگے رُسوا نہ فرما ، اِ س کی بے بَسی پر رَحم فرمادے اور اِس بیچارے کو بَخش دے ۔ ‘‘ سیدنا مولا علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمرو روکر مُناجات کر رہے تھے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رَحمت کا دریا جوش میں آ یا اور نِدا آئی : ’’اے علی ! ہم نے تمہاری شکستہ دِلی کے سَبَب اِسے بخش دیا ۔ ‘‘ چُنانچِہ اُس مُردے پر سے عذاب اُٹھا لیا گیا ۔ ( )
کیوں نہ مُشکِل کُشا کہوں تم کو …… تم نے بگڑی مِری بنائی ہے
مدنی گلدستہ
’’ اسلام ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(5)
مرنے کے بعد نیک وبدکار سب پر ان کا اخروی مقام ظاہر ہوجاتا ہے ۔
(6) جب نیک شخص دنیاسے پردہ کرتاہے تووہ جنت میں اپنااعلیٰ مقام دیکھ رہاہوتاہے اس لیے وہ یہ کہہ رہاہوتاہے کہ مجھے جلدی سے میری منزل تک پہنچادو ۔
(7) جب کافروبدکار شخص دنیا سے جاتا ہے تو وہ دوزخ میں اپنا مقام دیکھ رہا ہوتا ہے اس لیے وہ کہتا ہے کہ تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟
(8) مردہ اپنے غسل دینے والے ، اُٹھانے والے ، کفن دینے والے اورقبرمیں اتارنے والے سب ہی کوجانتا ہے یہاں تک کہ وہ دفنا کر جانے والوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتاہے ۔
(9) ∞نیک وبدکار مردوں کے کلام کو انسانوں کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے ، البتہ انسانوں میں سے بھی جسے
اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہتا ہے ان کا کلام سنادیتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہماری قبر و حشر کی تمام منزلوں کو آسان فرمائے اور ہمیں ہر قسم کی سختی اور تنگی سے محفوظ و مامون فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 444