Main Icon

خوف و امید کو جمع کرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 445

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْجَنَّةُ اَقْرَبُ اِلَى اَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذٰلِكَ. ( )

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : الجنة اقرب الى احدكم من شراك نعله والنار مثل ذلك. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سیدناابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے اورجہنم بھی اسی طرح قریب ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جنت بھی بہت قریب ہے اور جہنم بھی بہت قریب ہے ۔ جنت اور جہنم دونوں کی قربت کو بیان کرنے کا مقصود اَعمالِ صالحہ کی ترغیب اور گناہوں کو ترک نہ کرنے کی صورت میں عذابِ جہنم کی وعید ہے ، یقیناًاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے اُمید رکھنے والے نیکیوں میں مشغول رہتے ہیں اور خوفِ خدا سے عاری لوگ گناہوں پر جری ہوتے ہیں ۔ رحمتِ الٰہی سے امید رکھ کر نیکیوں میں مشغول رہنے والے اور خوفِ خدا کے سبب گناہوں سے کنارہ کشی کرنے والوں کا ٹھکانہ جنت ہے ، جبکہ رحمت الٰہی سے مایوس وخوفِ خدا سے عاری کفارِ بداطوار کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ گویا اس حدیث پاک میں رحمت الٰہی سے امید رکھنے والوں ، خوف خدا رکھنے والوں کا ٹھکانہ بیان فرمایا گیا ہے ۔ یہ باب بھی چونکہ خوفِ خدا سے ڈرنے اور رحمتِ الٰہی سے اُمید رکھنے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں ہے ۔ اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اِس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

¥
اِطاعت اِلٰہی جنت میں پہنچادیتی ہے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پرواضح دلیل موجودہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت وفرمابرداری انسان کوجنت تک پہنچادیتی ہے اوراس کی نافرمانی اورگناہ انسان کودوزخ کے قریب کردیتے ہیں ۔ مؤمن کو چاہیے کہ وہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہ چھوڑے اور نہ ہی کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر کرے کیونکہ مؤمن اس نیکی کو نہیں جانتاجس کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس پررحم فرمادے اور نہ ہی اس بُرائی کوجانتاہے جس کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے ناراض ہوجائے ۔ ‘‘ ( )ایک لفظ میں جنت و دوزخ ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’کبھی منہ سے بُری بات نکل جاتی ہے تو ساری عمر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں اور بندہ دوزخی ہوجاتا ہے اور کبھی منہ سے اچھی بات نکل جاتی ہے جو ربعَزَّ وَجَلَّکو پسند آجاتی ہے ، اس سے بندے کے عمر بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ جنتی ہوجاتا ہے ۔ غرضیکہ ایک لفظ میں جنت و دوزخ ہے ، چونکہ جنت ودوزخ اپنے عمل سے ملتی ہیں اور اُن کے راستے عمل کے قدموں سے طے ہوتے ہیں اس لیے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس قرب کو جوتے کے تسمے سے تشبیہ دی یعنی ایک قدم میں جنت ہے اور ایک قدم میں دوزخ ۔ ‘‘ ( )
¥
رحمت الٰہی سے امید کا صلہ :حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عالیشان ہے : ” جب کوئی بندہ گناہ کر لیتا ہے اورپھر کہتا ہے کہ اے مولا ! میں نے گناہ کر لیا ، مجھے معاف کر دے ۔ تواللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : ’’ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربعَزَّوَجَلَّہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے ۔ ( اے فرشتو ! گواہ ہوجاؤ کہ ) میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ۔ ‘‘ پھر جتنا رب چاہتا ہے بندہ ٹھہرا رہتا ہے ۔ ا س کے بعد پھر کوئی گناہ کر لیتا ہے توپھر عرض کرتا ہے : یا الٰہیعَزَّ وَجَلَّ! میں نے پھر گناہ کر لیا ، مجھے بخش دے ۔

تو رب
عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے کہ ’’میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربّ ہے جو گناہ معاف بھی کرتاہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے ۔ ( اے فرشتو ! گواہ ہوجاؤ کہ ) ’’میں نے اپنے بندے کی بخشش فرمادی ، اب جوچاہے کرے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’اَجمیر ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(6)
جنت اور دوزخ ایک قدم کے فاصلے پر ہے ، ایک چھوٹا سا گناہ جہنم میں پہنچا سکتا ہے اور ایک چھوٹی سی نیکی جنت میں پہنچا سکتی ہے ۔
(7) نیکی کوچھوٹا سمجھ کر ترک نہیں کرنا چاہیے اور گناہ کوچھوٹا سمجھ کر اس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے کہ کیا معلوم کس نیکی پر بخش دیا جائے اور کس گناہ پر پکڑ ہوجائے ۔
(8) بولنے میں احتیاط کرنی چاہیے کہ بعض باتوں سے عمربھرکی نیکیاں برباد ہوجاتی اور بندہ دوزخی ہوجاتا ہے جبکہ بعض باتیں رب تعالی کو پسند آجاتی ہیں ، عمر بھر کے گناہ معاف ہوجاتے اور بندہ جنتی ہوجاتا ہے ۔
(9) بندہ گناہ کرنے کے بعد جب بھی رب تعالی سے معافی مانگتا ہے تو
اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت کاملہ سے معاف فرمادیتا ہے ، اسے بخش دیتا ہے ۔
(10) اگر کسی بندے سے بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو وہ رحمت الٰہی سے مایوس ہوکر توبہ کو ترک نہ کرے بلکہ اپنے اس گناہ کی بارگاہ ربُّ العزت میں سچی پکی توبہ کرے اور رب تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھے کہ وہ پاک پروردگار
عَزَّ وَجَلَّاس کی توبہ کو قبول فرمالے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت سے مایوسی جیسی نحوست سے محفوظ فرمائے ، ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے ، نیکیوں پر استقامت اور گناہوں سے کنارہ کشی کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 445