- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- حدیث نمبر 258
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُمْتُ عَلَى بَابِ الجَنَّةِ فَاِذًا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا المَسَاكِينُ وَاَصْحَابُ الجَدِّ مَحْبُوْسُونَ غَيْرَ اَنَّ اَصْحَابَ النَّارِ قَدْ اُمِرَ بِهِمْ اِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَاِذًا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ. ( )
وعن اسامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : قمت على باب الجنة فاذا عامة من دخلها المساكين واصحاب الجد محبوسون غير ان اصحاب النار قد امر بهم الى النار وقمت على باب النار فاذا عامة من دخلها النساء. ( )
حدیث ترجمہ
: حضرت سَیِّدُنا اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والے زیادہ تر لوگ مسکین ہیں اور مال داروں کو ابھی جنت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن جو جہنم کےحق دار ہیں انہیں آگ کی طرف جانے کا حکم دے دیا گیا ہےاور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس کے اندر داخل ہونے والے افراد میں زیادہ تر عورتیں ہیں۔ ‘‘
شرح حدیث
مشکل الفاظ کے معانی : اَلْجَدُّ : حصہ اور مالداری۔ مَحْبُوْسُوْنَ : یعنی انہیں مسکینوں کے بعد جنت میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی ۔
جنت و جہنم کے دروازے پر قیام:شارِحِ حدیث علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جنت و جہنم کے دروازے پر قیام فرمانا یا تو جسمانی معراج کی رات تھایا خواب میں یا بطور کشف تھا۔ ‘‘( )مال داروں سے قبل مساکین کا جنت میں داخلہ:اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ مسکین مسلمان مال داروں سے پہلے جنت میں جائیں گے اور جنت میں ان کی تعداد زیادہ ہو گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی مسکینی بہت محبوب تھی اسی لئے آپ اکثر مسکینی کی دعا مانگا کرتے اور مساکین کی قدر کرنے کی ترغیب دلایا کرتےتھے ، چنانچہ حضرت سَیّدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےیہ دعا مانگی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں ہی وفات دےاور قیامت کے دن مسکینوں کے زمرہ میں میرا حشر فرما۔ ‘‘ تو اُمّ المومنین حضرت سَیِّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ یہ دعا کیوں فرما رہے ہیں؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’مسکین لوگ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اے عائشہ! مسکین (کے سوال)کو کبھی رد نہ کرنا اگرچہ کھجور کا ایک ٹکرا ہی ہواور انہیں قریب کرو (ایسا کرنے سے ) قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اپنا قرب نصیب فرمائے گا۔‘‘( )
اورحضرت سَیّدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’(اے لوگو!)مسکینوں سے محبت کرو کیونکہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو(اکثر)یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ ، مسکینی کی حالت میں(دنیا سے) میری رحلت فرمااور قیامت کے دن میں
مسکینوں کی جماعت میں اٹھا۔ ‘‘( ) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی مسکینوں سے محبت اور اُن کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن ہمارا حشر بھی مغفرت یافتہ مسکینوں میں فرمائے۔ آمینمالداروں کوحساب کے لئے روکا جائے گا:مذکورہ حدیث پاک میں مال داروں کے جنت میں داخلے کی اجازت نہ ہونے کا ذکر ہے۔ شارح حدیث علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی اس کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’مال داروں اور منصب والوں کو میدان محشرمیں روکاجائے گا کیونکہ اُن کے اَموال کی کثرت ، منصب کی وُسعت ، دنیا میں مال و منصب سے لذت اٹھانے اور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق اِن سے لطف اندوز ہونے کی وجہ سے اُن کا حساب طویل ہو گا کہ دنیا کے حلال کا حساب ہے اور حرام کا عذاب ہے ، جبکہ فقراء اِس سے بری ہوں گے کہ نہ تو ان کا حساب ہو گا اور نہ ہی انہیں روکا جائے گابلکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور یہ اُن کے لئے آخرت میں اِس کی جزا ہے جو انہوں نے دنیامیں مال اور منصب نہ پایا۔ ‘‘( )جہنم میں عورتوں کی زیادتی کے اَسباب:جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہونے کے اَحادیث میں کئی اَسباب بیان فرمائے گئے ہیں ، چند اَسباب یہ ہیں : (1)عورتیں بہت زیادہ لعن طعن کرتی ہیں۔ (2) عورتیں شوہر کی ناشکری بہت کرتی ہیں۔ (3) عورتیں اِحسان فراموشی کرتی ہیں ۔ چنانچہ حضرت سَیّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد) عورتوں کے پاس سے گزرےتوارشاد فرمایا : ’’اے عورتوں کے گروہ!صدقہ دو کیونکہ میں نے جہنم میں تمہاری تعداد زیادہ دیکھی ہے۔ ‘‘خواتین نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِس کی وجہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا : ’’(اِس کی وجہ یہ ہے کہ )تم لعن طعن اور شوہر کی ناشکری زیادہ کرتی ہو۔ ‘‘( )
حضرت سَیّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں نے جہنم کو دیکھاتو آج جیسا دردناک منظر پہلے کبھی نہ دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم میں اکثر عورتیں ہیں۔ ‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’اُن کے کفر کے سبب۔ ‘‘عرض کی : ’’کیا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’یہ شوہر کی ناشکری اور اِحسان فراموشی کرتی ہیں ۔ اگر تم اِن میں سے کسی کے ساتھ عمر بھر نیکی کرتے رہو ، پھر اسے تمہاری طرف سے کوئی ذرا سی تکلیف پہنچ جائےتو کہتی ہے : میں نے تمہاری طرف سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔ ‘‘( )اسلامی بہنوں کے لیے لمحہ فکریہ:مذکورہ حدیث پاک میں اُن اسلامی بہنوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، جو رب تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کرتیں ، اپنے شوہر کے حقوق کا خیال نہیں کرتیں ، اُن کی نافرمانی کرتی ہیں ، بلا وجہ شرعی اُن کو ایذاء دیتی ہیں ، ایک دوسرے پر لعن طعن کرتی ہیں ، اُنہیں ڈر جانا چاہیے۔ ذرا غور تو کیجئے! دنیا کی آگ ہم سے برداشت نہیں ہوسکتی ، غلطی سے جلتی ہوتی ماچس کی تیلی اگر ہاتھ پر لگ جائے تو جلن سے چیخ اٹھتے ہیں ، جہنم کی آگ کیسے برداشت کریں گے؟جو دنیا کی آگ کے مقابلےمیں ستر گناہ زیادہ سخت ہے۔ اب بھی وقت ہے ، رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرلیجئے ، اگر اپنے شوہر کی بلا وجہ شرعی دل آزاری کی ہے تو اُن سے معافی مانگ لیجئے ، ایک دوسرے پر لعن طعن کرنا چھوڑ دیجئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا والے کاموں میں لگ جائیے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں جہاں میں بیڑا پار ہو جائے گا۔ اگر آپ نیک بننا چاہتی ہیں ، گناہوں سے جان چھڑانا چاہتی ہیں تو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس مدنی ماحول کی برکت سے پابندسنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا ذہن بنے گا اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ ۔ ربّ تعالیٰ ہمیں نیکیوں پر استقامت اور گناہوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’مسکین ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)مسکین لوگ بڑی فضیلت کے حامل ہیں کہ قیامت کے دِن مال داروں سے پہلے جنت میں جائیں گے اور اُن کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔
(2)سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مسکینی کی حالت بہت محبوب تھی اورآپ اِس کی دعا بھی مانگا کرتے تھے ۔
(3)مسکینوں سے محبت رکھنی اور اُن کی قدر کرنی چاہیے اور اگر یہ کسی چیز کا سوال کریں تو وہ انہیں دے دینی چاہیے ، جھڑکنا نہیں چاہیے۔
(4)کل بروزِ قیامت مالدار اپنے مال وغیرہ کے حساب کے سبب پیچھے رہ جائیں گے اور مسکین مال نہ ہونے کے سبب حساب کتاب سے آزاد ہوکر پہلے جنت میں پہنچ جائیں گے۔
(5)لعن طعن ، ناشکری اور اِحسان فراموشی جہنم میں لے جانے والے اَسباب ہیں ، تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو اِن بُرے افعال سے بچنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مساکین سے محبت رکھنے ، اُن کی قدر کرنے ، اُن کی مالی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور کل بروز ِقیامت ہمیں اُن کے ساتھ جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 258