Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1303

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ عَبْسٍ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جَبْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ في سَبِيْلِ اللهِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ.

عن ابي عبس عبد الرحمن بن جبر رضي الله عنه قال: قال رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم :ما اغبرت قدما عبد في سبيل الله فتمسه النار.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو عبس عبد الرحمٰن بن جبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”یہ نہیں ہوسکتابندے کے قدماﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں غبار آلود ہوں پھر انہیں آگ چھوئے۔“

شرح حدیث

مُطلَقاًراہِ خدا سے کیا مراد ہوتی ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے مراد ہے کہ جو شخص رضائے الٰہی کے لیے کوئی راستہ طے کرے اور راستہ طے کرنے میں اس کے قدموں پر گرد و غبار پڑے۔ خیال رہے کہاﷲکی راہ حقیقت میں ہر اس چیز کو شامل ہے جس میں اس کی رضا ہے پس یہ حج،طلبِ عِلم،جنازہ کی حاضری، بیمار پُرسی، جماعتِ نماز میں حاضری سب ہی کو شامل ہے مگر مُطلقًااﷲکی راہ سے مراد سفرِ جہاد ہوتا ہے۔حضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنا اونٹ ﷲ کی راہ میں وقف کیا ہے وہ کہاں استعمال کیا جائے ؟فرمایا: ”حج میں۔“قرآنِ کریم میں جو مَصارِفِ زکوٰۃ میںفِیْ سَبِیْلِ اﷲواقع ہے امام ابو یوسفرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکے ہاں اس سے مجبور غازی مراد ہےاور امام محمدرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکے نزدیک مجبور حاجی۔“دوزخ کی آگ بجھانے میں اکسیر:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ایسے شخص کو دوزخ کی آگ جلانہیں سکتی جب راہِ خدا کے غبار کا یہ عالَم ہے تو غور کرو کہ خود جہاد کا فائدہ کیا ہوگا خوفِ خدا سے آنکھ کے آنسو،راہِ خدا کا غبار،دوزخ کی آگ بجھانے میں اکسیر ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1303