Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1339

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی سَعِيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُوْمُ يَوْمًا فِیْ سَبِيْلِ اللَّهِ اِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذٰلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِِ النَّارِ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا.

عن ابی سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما من عبد يصوم يوما فی سبيل الله الا باعد الله بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” جو بندہ راہِ خدا میں ایک دن کا روزہ رکھے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کے فاصلہ تک دور کردیتاہے۔“

شرح حدیث

دورانِ جہاد روزہ :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”علامہ مُہلِّبرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہےکہ تمام نیک اعمال میں روزہ رکھنا سب سے افضل عمل ہے سوائے اس صورت کے کہ روزہ رکھنے سے دشمن سے مقابلہ کے وقت انسان کو کمزوری محسوس ہوجیساکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک غزوہ میں دشمن سے مقابلہ سے چند دن پہلے صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا:”تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْیعنی اپنے دشمن سے مقابلہ کے لیے قوت حاصل کرو۔“چنانچہ اس غزوہ میں حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کو روزہ چھوڑنے کا حکم دیا کیونکہ روزہ دار کا جسم کمزور ہوجاتا ہے اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّنے اجسام کی فطری قوت غذا میں رکھی ہے۔اسی وجہ سے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا تھا:”سب سے افضل حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکے روزے ہیں ،وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن چھوڑتے اور دشمن سے مقابلہ کے وقت فرار نہ ہوتے۔“اس لیے اگر دشمن سے مقابلہ کے وقت کمزوری کا خطرہ ہو تو روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ جہاد کرنے اور مشرکین سے لڑنے کا اجر روزے کے اجر سے زیادہ ہے۔“اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث پاک میں راہِ خدا میں روزہ رکھنے کی فضیلت اس کےلیے ہے جسے روزہ رکھنے کے سبب کوئی ضررنہ پہنچتا ہو اور نہ ہی اس کی وجہ سے کوئی حق ضائع ہوتا ہو نیز جنگ کی مہمات میں بھی کوئی خلل نہ ہو۔“
شارِحِ بخاری علّامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”جوشخص جہاد میں روزہ سے ضعیف نہ ہو اس کے لیے روزہ رکھنا افضل ہےاور جوضعیف ہوجائے وہ افطارکرے۔(یعنی روزہ نہ رکھے) حدیث میں ستر سال دوزخ کی آگ سے دور کردینے کا ذِکر تحدید(حد بندی)کے لیے نہیں مُبالغہ کے لیے ہے اور اس سے کثرت مراد ہے ۔یعنی وہ دوزخ کی آگ سے غیر متناہی وقت (ہمیشہ کے لیے)دوررہے گا۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حدیث میں جو ستر سال کا ذکر ہے اگر اس سے حقیقی معنیٰ مراد لیے جائیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔مطلب یہ ہوگا کہ واقعیاﷲ عَزَّ وَجَلَّبحالتِ جہادروزہ رکھنے والے کو جہنم سے اتنا ہی دور فرمادے گا۔بعض روایات میں سترسال کی جگہ سوسال کا ذکر ہے اور ابنِ عدی کی روایت میں پانچ سو سال کا ذکر ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1339