Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1323

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا يَجِدُ الشَّهِيْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا كَمَا يَجِدُ اَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ الْقَرْصَةِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما يجد الشهيد من مس القتل الا كما يجد احدكم من مس القرصة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”شہید کو شہادت کے وقت محض چیونٹی کے کاٹنے جنتی تکلیف ہوتی ہے ۔“

شرح حدیث

راہِ خدا میں جان دینے کی لذت:مرآۃ المناجیح میں ہے:”ظاہر یہ ہے کہ یہاں شہید سے مراد حقیقی شہید یعنی ظلمًا مقتول خصوصًا جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہید یعنی شہید کو نَزع کی شدت نہیں،نہایت معمولی چَسَک سی ہوتی ہے اور راہِ خدا میں جان دینے کی جو لذت ہے وہ تو ایسی ہے جو بیان میں نہیں آ سکتی،حتّٰی کہ شہید بارگاہِ الٰہی میں پہنچ کر اس لذت کو حاصل کرنے کے لیے پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے۔(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں شہیدِ حکمی بھی داخل ہو۔خیال رہے کہ بعض عُشاق کو مرتے وقت حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا جمال دکھایا جاتا ہے جس میں وہ ایسے وارفتہ ہوجاتے ہیں کہ انہیں نزع کی شدت محسوس نہیں ہوتی۔دیکھو مصر کی عورتوں نے جمالِ یوسفی میں مَحو ہو کر اپنے ہاتھ کاٹ لیے مگر ہائے وائے نہ کی کہ انہیں کچھ تکلیف محسوس نہ ہوئی،جمالِ محمدی میں مَحوِیَّت کا کیا عالَم ہوگا،ربّ ہی جانے۔جب دہلی میں غازی عبدالرشید کو ایک گستاخ آریہ کے قتل کے عوض پھانسی دی گئی تو اَوَّلًا اس نے پھانسی کو چوما پھر جان نکلنے پر آیہ کریمہ:﴿كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ(۲۷)﴾(پ۲۷،الرحمن:۲۷،۲۶)( ترجمۂ کنز الایمان:زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا۔)پڑھی اور ہنستے ہوئے جان خدا کے حوالے کردی۔عاشقوں کے حال نیارے،لہٰذا حدیث بالکل ظاہری معنیٰ پر ہے اور ایسے مرنے والوں کو مرتے دیکھا بھی گیا ہے۔“
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”علّامہ طیبیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:یہ اس شہید کے بارے میں ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جان دینے سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اس کی روح اس سےخوش ہوتی ہے ۔میں کہتا ہوں :یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ موت کے بعد حاصل ہونے والی لذت وراحت کے مقابلے میں شہید کو قتل کی جو تکلیف ہوتی ہے اس کی حیثیت ایسی ہے جیسے چیونٹی کاٹ لے۔“نزع کی سختیوں سے حفاظت :عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّشہید پر موت آسان کردیتا ہےاور اسے سکرات و موت کی تکلیف سے بچاتا ہے بلکہ کتنے ہی شہید ایسے ہیں جنہیں اپنی جان راہِ خدا میں دینے سے لذت ملتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’ شہادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضور سرورِ عالَم
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو غیب کا علم عطا فرمایا ہے ۔
(2) میت یا مقتول کے ہاتھ پاؤں،آنکھ ناک وغیرہ کاٹنے کو مُثلہ کہتے ہیں،قصاص میں ایسا کرنا جائز ہے لیکن بطورِ سزا ایسا کرنا منع ہے۔
(3) سچے دل سے شہادت مانگنےوالے کو درجۂ شہادت عطا کیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ ہوا ہو۔
(4) سچی نیت مطلب ومقصد تک پہنچنے کا اہم ذریعہ ہے،جو نیک کام کی نیت کرے مگرکسی مجبوری سے وہ کام نہ کر سکے تب بھی اسے ثواب ملتاہے۔
(5) بعض عاشقانِ رسول کو مرتے وقت حضورنبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جمال دکھایا جاتا ہے جس میں وہ ایسے گم ہوجاتے ہیں کہ انہیں نزع کی شدت محسوس نہیں ہوتی۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں شہادت کی سچی تڑپ پیدا فرمائےاورایمان وعافیت کے ساتھ شہادت کی موت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1323