Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1327

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا خَافَ قَومًا قَالَ:اَللَّهُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ.

عن ابي موسى رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خاف قوما قال:اللهم انا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم.

حدیث ترجمہ

حضرت ابو موسٰیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم سے خطرہ محسوس کرتےتو یوں دعا فرماتے:”اَللَّهُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْیعنی اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ! ہم ان کے مقابل تجھے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ لیتے ہیں۔“

شرح حدیث

خوف کی اقسام:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم سے خطرہ محسوس کرتے)اس طرح کہ آپ کو پتہ چلتا کہ فلاں قوم ہمارے خلاف سازش یا جنگی تیاری کررہی ہے۔خیال رہے کہ خوف بہت طرح کا ہے خوفِ اطاعت وبندگی صرف ربّ تعالیٰ کا ہی ہونا چاہیے اور خوفِ نفرت شیطان وغیرہ دشمنوں سےاور خوف بمعنیٰ خطرہ تکلیف ہر خطرناک چیز سے ہوسکتا ہے۔(حدیث میں بیان کی گئی دعا کے الفاظ میں لفظنُحُوْرِھِم)نحرسینہ کو بھی کہتے ہیں اور جانور ذبح کرنے کو بھی﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)﴾(پ۳۰، الکوثر:۲)(ترجمۂ کنزالایمان:تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔)چونکہ دشمن کے مقابلہ میں سینہ تان کر ہی کھڑے ہوتے ہیں اس مقابلہ کو اس لفظ سےتعبیر فرمایا،نیز اس میں نیک فال بھی ہے کہ خدایا دشمن کو ذبح کردے کہ وہ ہمارے مقابلہ کے لائق ہی نہ رہے۔ یہ دعا بہت ہی مُجَرَّب ہے،ایک دشمن کے مقابل بھی کام آتی ہے اور بہت دشمنوں کے مقابل بھی،فقیر اس کا عامل ہے اور اس کی برکت سے شرِِاَعدا(دشمنوں کے شر)سے محفوظ ہے۔“ہر بُرائی سے امان:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”معنیٰ یہ ہے کہ الٰہی !ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان دشمنوں کے سینے ہم سے پھیر دے،ان کا شر دور کر اور ہمارے اور دشمن کے شر کے درمیان آڑ ہوجا تاکہ ان کا شر ہم تک نہ پہنچ سکے۔حاصل یہ ہے کہ الٰہی !ہم ان کے دفع کرنے میں تیری مدد چاہتے ہیں۔ ”حصن حصین“ میں ہے دشمن وغیرہ کے خوف کے وقت﴿لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ﴾پڑھنا ہر بُرائی سے امان ہے۔ امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاپنی کتاب ”الاذکار“میں فرماتے ہیں : یہ بات صاحبِ کرامات امام ابو الحسن قزوینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے ذِکر فرمائی ہے۔”حصن حصین“میں ہے کہ جب مدد درکار ہو تو تین مرتبہ کہے:”یَا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْیعنی اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو۔“طبرانی میں حضرت سَیِّدُنا عُتبہ بن غزوانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی کوئی شے گم ہوجائے یا اسے مدد درکار ہو اور وہ ایسی جگہ ہو جہاں اس کا کوئی ساتھی نہ ہو تو وہ کہے:یَا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْیعنی اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو کہاﷲکے کچھ بندے ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھتے(وہ اس کی مدد کریں گے)۔“یہ حدیثیَا عِبَادَاﷲحدیث حسن ہےاورمسافروں کو اس کی بہت حاجت ہےنیز مشائخ سے مروی ہے کہ یہ بہت مُجَرَّب ہے۔دعاتوکُّل کے منافی نہیں :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”اس حدیث میں اَسماءِ باری تعالیٰ سے ان چیزوں کےمتعلق پناہ مانگی گئی ہےجن سے انسان ڈرتا ہے اوریہ توکل کےمُنافی نہیں۔“مدنی گلدستہ’’اجمیر‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اذان کے فوراً بعد اور اور جہاد میں لڑائی کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔
(2) خوف بمعنیٰ اطاعت وبندگی صرف ربّ تعالیٰ کا ہی ہونا چاہیے جبکہ خوف بمعنیٰ نفرت شیطان وغیرہ دشمنوں سے ہو اور خوف بمعنی خطرہ ہر خطرناک چیز سے ہوسکتا ہے۔
(3) دشمن کے خوف کے وقت سورۂ قریش پڑھنا ہر بُرائی سے امان ہے۔
(4) مدد کی ضرورت ہو اور کوئی مدد گارنظر نہ آئے تو یہ کہے:
یَا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْیعنی اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو۔ اِنْ شَآءَ اﷲعَزَّ وَجَلَّ اسے مدد پہنچے گی کیونکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے ۔
(5) دشمن سے خوف کے وقت
اﷲعَزَّ وَجَلَّکی مدد چاہنا توکل کے مُنافی نہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر خوف سے امن دے کر اپنا خوف عطا کرے اور دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1327