Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1315

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اِنْـطَلَقَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَـقُوا الْمُشْرِكِينَ اِلٰی بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَقْدُمَنَّ اَحَدٌ مِّنْكُمْ اِلَى شَيْءٍ حَتَّى اَكُوْنَ اَنَا دُوْنَهُ. فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:قُوْمُوا اِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ قَالَ:يَقُوْلُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْاَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَارَسُوْلَ اللهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ؟ قَالَ: نَعَمْ ! قَالَ:بَخٍ بَخٍ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ! اِلَّا رَجَاءَ اَنْ اَكُوْنَ مِنْ اَهْلِهَا قَالَ:فَاِنَّكَ مِنْ اَهْلِهَا فَاَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَاْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ اَنَا حَيِيْتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هٰذِهِ اِنَّـهَا لَحَياةٌ طَوِيلَةٌ فَرَمٰى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ .

عن انس رضي الله عنه قال: انـطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه حتى سبـقوا المشركين الی بدر وجاء المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا يقدمن احد منكم الى شيء حتى اكون انا دونه. فدنا المشركون فقال رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم:قوموا الى جنة عرضها السموات والارض قال:يقول عمير بن الحمام الانصاري رضي الله عنه: يارسول الله جنة عرضها السموات والارض؟ قال: نعم ! قال:بخ بخ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يحملك على قولك بخ بخ ؟ قال: لا والله يا رسول الله! الا رجاء ان اكون من اهلها قال:فانك من اهلها فاخرج تمرات من قرنه فجعل ياكل منهن ثم قال: لئن انا حييت حتى آكل تمراتي هذه انـها لحياة طويلة فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے صحابہ (جنگِ بدر کے لیے)چلےیہاں تک کہ مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے پھر مشرکین بھی آگئے۔رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم میں سے کوئی بھی کسی چیز کی طرف مجھ سے آگے نہ بڑھے۔“جب مشرکین نزدیک آئے تو رسولِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جنت کی طرف کھڑے ہوجاؤ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“حضرت عمیر بن حمامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا:کیا جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ہاں۔“حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےکہا:واہ واہ۔رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےپوچھا: ”تم نے واہ واہ کیوں کہا؟“حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!اس امید پر کہ میں بھی جنت والوں میں سے ہوجاؤں۔رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم انہی میں سے ہو۔“حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھیلے سے کھجوریں نکال کر کھانے لگے پھر کہا:اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ طویل زندگی ہے،چنانچہ انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوریں پھینک کر جہاد شروع کردیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔

شرح حدیث

نبیصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا سعیدوشقی کوجان لینا:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”( جنت کی طرف چلو!)یعنی اس عمل کی طرف چلو جو جنت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے وہاں جانا گویا جنت میں ہی جانا ہے جیسے فرمایا گیا ہے کہ جنت تلواروں کے سایہ میں ہے یا جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔عمومًا ہر چیز کی چوڑائی اس کی لمبائی سے چھوٹی ہوتی ہے،جنت کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے تو غورکرو کہ اس کی لمبائی کتنی ہوگی۔معلوم ہوا کہ اپنا عمل و اخلاص و نیت حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے عرض کرنا ریا کاری نہیں بلکہ اس سے عمل اور زیادہ قبول ہوجاتا ہے۔(حدیث میں حضرت عمیر بن حمام سے فرمایا کہ تم جنتی ہو)یہ ہے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ہر ایک کے سعیدوشقی ہونے پر مطلع ہونا کہ حضرت عمیر کے جنتی ہونے یعنی ایمان پر خاتمہ اور شہادت، حسابِ محشر میں کامیابی ،پل صراط سے بخیریت گزرنے کی خبر پہلے ہی سے دے رہے ہیں کیونکہ جنت میں داخلہ ان سب منزلوں سے گزرنے کے بعد ہوگا۔خیال رہے کہ جس کے ایمان و جنتی ہونے کی حضور رجسٹری فرمادیں اس کا جنتی ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسے ربّ کی وحدانیت یقینی ہے۔نیتِ خیر سے موت کی تمنا،موت کی دعا،موت حاصل کرنے کی ایسی کوشش بھی عبادت ہے۔‘‘شعر
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا۔
صحابی نے واہ واہ کیوں کہا؟اشعۃ اللمعات میں ہے:جنت کا تذکرہ سن کرصحابیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے”واہ !واہ“ کہا تو حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس کی وجہ پوچھی غالباً آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خیال فرمایا کہ حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ قول سوچے سمجھے بغیر صادر ہوا ہے جیسے کہ کوئی شخص اَزراہِ مزاح کوئی بات کہہ دے یا قتل اور جان دینے کے خوف اور اسے عظیم اور بعید سمجھتے ہوئے ایسی بات کہہ دے ،حضرت عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے اس قسم کے احتمالات کی اپنی ذات سے نفی کی اور کہا:مجھے شوق ہے کہ میں جنت میں جاؤں اور اس کا ثواب حاصل کروں( اس لئے جنت کے شوق میں واہ واہ کہا۔)مدنی گلدستہسیدنا’’عمیر‘‘کے4حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جنت کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے ۔
(2) اپنا عمل و اخلاص و نیت حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کرنا ریا کاری نہیں بلکہ اس سے عمل اور زیادہ مقبول ہوجاتا ہے۔
(3) جس کے ایمان و جنتی ہونے کی حضور اکرم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرجسٹری فرمادیں اس کا جنتی ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسے ربّ کی وحدانیت یقینی ہے۔
(4) اچھی نیت سے موت کی تمنا،موت کی دعااورموت حاصل کرنے کی کوشش بھی عبادت ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خلوصِ نیت کے ساتھ اپنی راہ میں جہاد کرنے اور شہادت جیسی نعمت پانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1315