Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1313

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيْهِمْ فَذَكَرَ اَنَّ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَالْاِيْمَانَ بِاللهِ اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اَرَءَ يْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّيْ خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ اِنْ قُتِلْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ :اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِِ اللهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:نَعَمْ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيرُ مُدْبِرٍ اِلَّا الدَّيْنَ فَاِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِيْ ذٰلِكَ.

عن ابي قتادة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فيهم فذكر ان الجهاد في سبيل الله والايمان بالله افضل الاعمال فقام رجل فقال: يا رسول الله ارء يت ان قتلت في سبيل الله اتكفر عني خطاياي ؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم ان قتلت في سبيل الله وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:كيف قلت ؟ قال :ارايت ان قتلت في سبيل الله اتكفر عني خطاياي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:نعم وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر الا الدين فان جبريل عليه السلام قال لي ذلك.

حدیث ترجمہ

”حضرت سَیِّدُنا ابوقتادہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کے درمیان کھڑے ہوئے اورفرمایا: ”ﷲ کی راہ میں جہاد اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانا تمام اعمال میں افضل عمل ہے۔“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی :یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں ﷲ کی راہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ مٹادیئے جائیں گے؟رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہاں! اگر تم ﷲ کی راہ میں اس حالت میں شہید ہوجاؤ کہ تم صبر کرنے والے، ثواب طلب کرنے والے ،آگے بڑھنے والےہو اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہ ہو۔“پھر نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاُس سے پوچھا:”تم نے کیا کہا تھا؟“اس نے عرض کی:حضور! اگر میں راہِ خدا میں شہید ہوجاؤں تو کیا میرے گناہ مٹادیئے جائیں گے؟ارشاد فرمایا:”ہاں! اگر تم ﷲ کی راہ میں اس حالت میں شہید ہوجاؤ کہ تم صبر کرنے والے، ثواب طلب کرنے والے ،آگے بڑھنے والے اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہ ہوالبتہ قرض معاف نہ ہوگا، جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ “

شرح حدیث

ایمان مدارِ نجات:مرآۃ المناجیح میں ہے:”خیال رہے کہ اِیمان دِل کا عمل ہے اور جہاد جسم کا عمل،ایمان تو مدار ِنجات ہے اور اَعمال ظاہری ذریعۂ ترقیٔ درجات،بعض حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے اور عام حالات میں نماز جہاد سے افضل ہے،یہاں وہ ہی خاص حالات مراد ہیں لہٰذا یہ حدیث اُن احادیث کے خلاف نہیں جن میں نماز کو افضل اعمال فرمایا گیا ہے۔حق یہ ہے کہ یہاں خطایاسے مراد سارے صغیرہ اور کبیرہ گناہ ہیں بلکہ تمامحقوق اﷲاورحقوقِ عباد جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔یہاں تمام گناہوں کی معافی کے لیے دو قیدیں ارشاد ہوئیں: ایک اخلاص سے جہاد کرنا،دوسرے وہاں سے گھبرا کر نہ بھاگنا،سینہ میں تیر یا گولی کھانا۔یہاں پیٹھ پھیرنے سے مراد بُزدلی کے طور پر بھاگنے کے ارادے سے پیٹھ پھیرنا ہے،اگر اکیلا رہ جانے والا غازی اپنے کیمپ کی طرف قوت حاصل کرنے کے لیے بھاگے یا جنگی چال کے طور پر پیچھے ہٹے تو اس کا یہ حکم نہیں،ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ﴾(پ۹،الانفال:۱۶)(ترجمہ ٔکنز الایمان:مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جا ملنے کو)لہٰذا یہ حدیث آیت کے خلاف نہیں۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّماس کا سوال بھول نہ گئے تھے،دوبارہ سوال کرنا اظہارِ اہتمام کے لیے ہے تاکہ اسے یہ جواب خوب یاد رہے۔ یہاں قرض کے متعلق شارِحین کے کئی قول ہیں:بعض نے فرمایا کہ قرض سے مراد بندے کے سارے مارے ہوئے حقوق ہیں چوری،خیانت،غصب،قتل وغیرہ۔(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ قرضہ سے وہ قرضہ مراد ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو،اگر ادا کرنے کی نیت تھی مگر موقعہ نہ ملا کہ شہید ہوگیا وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گا مگر دریا کا شہید اس کا قرضہ بھی معاف ہوجاتا ہے اور اس کی روح بلاواسطہ خود ربّ تعالیٰ قبض فرماتاہے حضرت ملک الموت کے سپرد نہیں فرماتا۔ (جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے یعنی )ابھی وحی الٰہی آئی جس میں مجھ سے یہ(یعنی قرض کے معاف نہ ہونے کا) فرمایا گیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:*ایک یہ کہ حضور پر صرف قرآن کریم کی ہی وحی نہ ہوئی اس کے علاوہ اور بھی وحی ہوئی ہیں۔*دوسرے یہ کہ ہر وحی کو صحابہ کرام دیکھا نہ کرتے تھے،بعض وقت ان حضرات نے وحی آتے دیکھی،بلکہ بعض اوقات جبرائیلِ امین کو بھی دیکھا اور بعض وقت کچھ بھی نہ دیکھا،ربّ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے باتیں کرلیں پاس والوں کو خبر بھی نہ ہوئی،اس وقت جو وحی آئی یہ اسی دوسری قسم کی تھی،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ وحی پہلے آچکی تھی مگر یہ درست نہیں،ورنہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّماس سائل سے یہ پہلے ہی فرمادیتے دوبارہ بلانے اور سوال پوچھنے کی حاجت نہ ہوتی۔“حقوق العباد کے علاوہ ہر چیز کا کفارہ:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ایمان تو ظاہر ہےکہ مطلقاً تمام اعمال سے افضل ہے اور جہاد اِعلائےکلمۃاﷲ(یعنی رب تعالیٰ کے نام اور دینِ اِسلام کو سربلند کرنے)،دُشمنانِ دِین کے قلع قمع کرنے اور جانوں کی قربانی دینے کے اعتبار سے دِین کے اَعمال میں سے ارفع واعلیٰ اور اکمل ہے۔علامہ تورپشتیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:قرض سے مراد اس جگہ مسلمانوں کے وہ حقوق ہیں جو شہید کے ذمہ سےمتعلق ہیں۔خلاصہ یہ ہےکہ جہاد حقوقُ العباد کے علاوہ ہر چیز کا کفارہ بن جاتا ہے ۔“مدنی گلدستہ’’جہاد‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قرض کے سواشہید کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
(2) سمندر میں شہید ہونے والے کے تمام گناہ حتّٰی کہ قرض بھی معاف کر دیا جاتاہے ۔
(3) سمندر میں شہید ہونے والے کی روح بِلاواسطہ خود ربّ تعالیٰ خود قبض فرماتاہے ۔
(4) ایمان مُطلقاً تمام اعمال سے افضل ہے اور جہاد اِعلائے کلمۃ اﷲ،دشمنانِ دِین کو ختم کرنے اور جانوں کی قربانی دینےکے اعتبار سے دِین کے اَعمال میں سے ارفع و اکمل ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان وعافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں شہادت کی موت نصیب فرمائے اور ہمارے تمام گناہ معاف فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1313