- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- حدیث نمبر 1313
باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1313
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
- حدیث
-
- 1285
- 1286
- 1287
- 1288
- 1289
- 1290
- 1291
- 1292
- 1293
- 1294
- 1295
- 1296
- 1297
- 1298
- 1299
- 1300
- 1301
- 1302
- 1303
- 1304
- 1305
- 1306
- 1307
- 1308
- 1309
- 1310
- 1311
- 1312
- 1313
- 1314
- 1315
- 1316
- 1317
- 1318
- 1319
- 1320
- 1321
- 1322
- 1323
- 1324
- 1325
- 1326
- 1327
- 1328
- 1329
- 1330
- 1331
- 1332
- 1333
- 1334
- 1335
- 1336
- 1337
- 1338
- 1339
- 1340
- 1341
- 1342
- 1343
- 1344
- 1345
- 1346
- 1347
- 1348
- 1349
- 1350
- 1351
- 1352
- اگلا
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيْهِمْ فَذَكَرَ اَنَّ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَالْاِيْمَانَ بِاللهِ اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اَرَءَ يْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّيْ خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ اِنْ قُتِلْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ :اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِيْ سَبِيْلِِ اللهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:نَعَمْ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيرُ مُدْبِرٍ اِلَّا الدَّيْنَ فَاِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِيْ ذٰلِكَ.
عن ابي قتادة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فيهم فذكر ان الجهاد في سبيل الله والايمان بالله افضل الاعمال فقام رجل فقال: يا رسول الله ارء يت ان قتلت في سبيل الله اتكفر عني خطاياي ؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم ان قتلت في سبيل الله وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:كيف قلت ؟ قال :ارايت ان قتلت في سبيل الله اتكفر عني خطاياي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:نعم وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر الا الدين فان جبريل عليه السلام قال لي ذلك.
حدیث ترجمہ
”حضرت سَیِّدُنا ابوقتادہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کے درمیان کھڑے ہوئے اورفرمایا: ”ﷲ کی راہ میں جہاد اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانا تمام اعمال میں افضل عمل ہے۔“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی :یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں ﷲ کی راہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ مٹادیئے جائیں گے؟رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہاں! اگر تم ﷲ کی راہ میں اس حالت میں شہید ہوجاؤ کہ تم صبر کرنے والے، ثواب طلب کرنے والے ،آگے بڑھنے والےہو اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہ ہو۔“پھر نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاُس سے پوچھا:”تم نے کیا کہا تھا؟“اس نے عرض کی:حضور! اگر میں راہِ خدا میں شہید ہوجاؤں تو کیا میرے گناہ مٹادیئے جائیں گے؟ارشاد فرمایا:”ہاں! اگر تم ﷲ کی راہ میں اس حالت میں شہید ہوجاؤ کہ تم صبر کرنے والے، ثواب طلب کرنے والے ،آگے بڑھنے والے اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہ ہوالبتہ قرض معاف نہ ہوگا، جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ “
شرح حدیث
ایمان مدارِ نجات:مرآۃ المناجیح میں ہے:”خیال رہے کہ اِیمان دِل کا عمل ہے اور جہاد جسم کا عمل،ایمان تو مدار ِنجات ہے اور اَعمال ظاہری ذریعۂ ترقیٔ درجات،بعض حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے اور عام حالات میں نماز جہاد سے افضل ہے،یہاں وہ ہی خاص حالات مراد ہیں لہٰذا یہ حدیث اُن احادیث کے خلاف نہیں جن میں نماز کو افضل اعمال فرمایا گیا ہے۔حق یہ ہے کہ یہاں خطایاسے مراد سارے صغیرہ اور کبیرہ گناہ ہیں بلکہ تمامحقوق اﷲاورحقوقِ عباد جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔یہاں تمام گناہوں کی معافی کے لیے دو قیدیں ارشاد ہوئیں: ایک اخلاص سے جہاد کرنا،دوسرے وہاں سے گھبرا کر نہ بھاگنا،سینہ میں تیر یا گولی کھانا۔یہاں پیٹھ پھیرنے سے مراد بُزدلی کے طور پر بھاگنے کے ارادے سے پیٹھ پھیرنا ہے،اگر اکیلا رہ جانے والا غازی اپنے کیمپ کی طرف قوت حاصل کرنے کے لیے بھاگے یا جنگی چال کے طور پر پیچھے ہٹے تو اس کا یہ حکم نہیں،ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ﴾(پ۹،الانفال:۱۶)(ترجمہ ٔکنز الایمان:مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جا ملنے کو)لہٰذا یہ حدیث آیت کے خلاف نہیں۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّماس کا سوال بھول نہ گئے تھے،دوبارہ سوال کرنا اظہارِ اہتمام کے لیے ہے تاکہ اسے یہ جواب خوب یاد رہے۔ یہاں قرض کے متعلق شارِحین کے کئی قول ہیں:بعض نے فرمایا کہ قرض سے مراد بندے کے سارے مارے ہوئے حقوق ہیں چوری،خیانت،غصب،قتل وغیرہ۔(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ قرضہ سے وہ قرضہ مراد ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو،اگر ادا کرنے کی نیت تھی مگر موقعہ نہ ملا کہ شہید ہوگیا وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گا مگر دریا کا شہید اس کا قرضہ بھی معاف ہوجاتا ہے اور اس کی روح بلاواسطہ خود ربّ تعالیٰ قبض فرماتاہے حضرت ملک الموت کے سپرد نہیں فرماتا۔ (جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے یعنی )ابھی وحی الٰہی آئی جس میں مجھ سے یہ(یعنی قرض کے معاف نہ ہونے کا) فرمایا گیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:*ایک یہ کہ حضور پر صرف قرآن کریم کی ہی وحی نہ ہوئی اس کے علاوہ اور بھی وحی ہوئی ہیں۔*دوسرے یہ کہ ہر وحی کو صحابہ کرام دیکھا نہ کرتے تھے،بعض وقت ان حضرات نے وحی آتے دیکھی،بلکہ بعض اوقات جبرائیلِ امین کو بھی دیکھا اور بعض وقت کچھ بھی نہ دیکھا،ربّ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے باتیں کرلیں پاس والوں کو خبر بھی نہ ہوئی،اس وقت جو وحی آئی یہ اسی دوسری قسم کی تھی،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ وحی پہلے آچکی تھی مگر یہ درست نہیں،ورنہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّماس سائل سے یہ پہلے ہی فرمادیتے دوبارہ بلانے اور سوال پوچھنے کی حاجت نہ ہوتی۔“حقوق العباد کے علاوہ ہر چیز کا کفارہ:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ایمان تو ظاہر ہےکہ مطلقاً تمام اعمال سے افضل ہے اور جہاد اِعلائےکلمۃاﷲ(یعنی رب تعالیٰ کے نام اور دینِ اِسلام کو سربلند کرنے)،دُشمنانِ دِین کے قلع قمع کرنے اور جانوں کی قربانی دینے کے اعتبار سے دِین کے اَعمال میں سے ارفع واعلیٰ اور اکمل ہے۔علامہ تورپشتیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:قرض سے مراد اس جگہ مسلمانوں کے وہ حقوق ہیں جو شہید کے ذمہ سےمتعلق ہیں۔خلاصہ یہ ہےکہ جہاد حقوقُ العباد کے علاوہ ہر چیز کا کفارہ بن جاتا ہے ۔“مدنی گلدستہ’’جہاد‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قرض کے سواشہید کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
(2) سمندر میں شہید ہونے والے کے تمام گناہ حتّٰی کہ قرض بھی معاف کر دیا جاتاہے ۔
(3) سمندر میں شہید ہونے والے کی روح بِلاواسطہ خود ربّ تعالیٰ خود قبض فرماتاہے ۔
(4) ایمان مُطلقاً تمام اعمال سے افضل ہے اور جہاد اِعلائے کلمۃ اﷲ،دشمنانِ دِین کو ختم کرنے اور جانوں کی قربانی دینےکے اعتبار سے دِین کے اَعمال میں سے ارفع و اکمل ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان وعافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں شہادت کی موت نصیب فرمائے اور ہمارے تمام گناہ معاف فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1313