Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1302

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ بَكْرِ بْنِ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ قَالَ:سَمِعْتُ اَبِيْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِحَضْرَةِ العَدُوِّ يَقُوْلُ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ: يَا اَبَا مُوسَى اَاَنْتَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ هٰذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ فَرَجَعَ اِلَى اَصْحَابِهِ فَقَالَ: اَقْرَاُ عَلَيْكُم ُالسَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيـْفِهِ فَاَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْـفِهِ اِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهٖ حَتّٰى قُتِلَ .

عن ابي بكر بن ابي موسى الاشعري قال:سمعت ابي رضي الله عنه وهو بحضرة العدو يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف فقام رجل رث الهيئة فقال: يا ابا موسى اانت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هذا ؟ قال : نعم فرجع الى اصحابه فقال: اقرا عليكم السلام ثم كسر جفن سيـفه فالقاه ثم مشى بسيـفه الى العدو فضرب به حتى قتل .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوبکر بن موسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”میں نے اپنے والد کو دشمن کے مقابل یہ فرماتے ہوئے سناکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بے شک! جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں۔“ایک خستہ حال شخص نے اٹھ کر عرض کی:”اے ابو موسٰی! کیا آپ نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ بات فرماتے ہوئے سناہے؟“آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا:”ہاں۔“یہ سن کر وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا اور کہنے لگا:”میں تمہیں سلام کہتا ہوں ۔“پھر اپنی تلوار کے میان کو توڑ کر پھینکا اور تلوار لے کر دشمن کی جانب چل پڑا اور اس تلوار سے لڑتا رہا حتّٰی کہ شہید ہوگیا۔“

شرح حدیث

تلواروں سے مراد:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں: ”(تلواروں کے سائے تلے جنت ہے)تلواروں سے مراد جہاد کے ہتھیار ہیں چونکہ اُس زمانہ میں جہاد میں زیادہ استعمال تلواروں کاہوتا تھا اس لیے خصوصیت سے تلواروں کا ہی ذکر فرمایا۔آج کل توپوں، بندوقوں، راکٹوں کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے نیچے جنت ہے جبکہ وہ جہاد میں استعمال ہورہے ہوں۔ان تلواروں سے مراد یا تو کفار کی تلواریں ہیں جو وہ غازی مسلمانوں کے مقابل کھینچیں یعنی ان تلواروں سے جنت بہت قریب ہے کہ مسلمان شہید ہوا اور جنت میں پہنچا۔جیسے فرمایا گیا کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یا مراد خود مجاہدین کی اپنی تلواریں ہیں یعنی جب مجاہدین تلوار سونتے کفار پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو گویا جنت ان تلواروں کے سایہ میں ہوتی ہے اور سایہ میں تو خود مجاہدین ہیں تو وہ اس وقت ہی جنت میں ہیں مگر پہلی توجیہ زیادہ قوی ہے۔“جہاد کی ترغیب:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”امام قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے فرمایا:”جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“یہ انتہائی نفیس کلام ہے ۔اس سے جہاں جہاد کی ترغیب دلائی گئی ہے وہیں اس پر ملنے والے ثواب کی بھی بشارت دی گئی ہےاور دشمن سے بڑھ چڑھ کر لڑنے پر ابھارا گیا ہے نیز جہاد میں تلواروں(یا اس طرح کے دیگر ہتھیاروں ) کے استعمال اور ان پر اعتماد کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور یہ بتایا گیا کہ لڑنے والے مڈبھیڑکے وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں حتّٰی کہ کسی کی تلوار دشمن پر پڑتی ہے اور کسی کی بلند ہوتی ہے گویا تلواروں نے لڑنے والوں پر سایہ کیا ہو۔مراد یہ ہے کہ تلوار سےلڑنے والا راہِ خدا میں ہے جواسے جنت میں داخل کردے گا۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حدیث پاک سن کر اُس شخص کا تلوار کے میان کو توڑ کر پھینک دینا اس بات کی علامت تھی کہ وہ خود کو آخرت پر پیش کرنے کے بعد اب دنیا کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتاچنانچہ وہ شخص لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1302