- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- حدیث نمبر 1297
باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1297
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
- حدیث
-
- 1285
- 1286
- 1287
- 1288
- 1289
- 1290
- 1291
- 1292
- 1293
- 1294
- 1295
- 1296
- 1297
- 1298
- 1299
- 1300
- 1301
- 1302
- 1303
- 1304
- 1305
- 1306
- 1307
- 1308
- 1309
- 1310
- 1311
- 1312
- 1313
- 1314
- 1315
- 1316
- 1317
- 1318
- 1319
- 1320
- 1321
- 1322
- 1323
- 1324
- 1325
- 1326
- 1327
- 1328
- 1329
- 1330
- 1331
- 1332
- 1333
- 1334
- 1335
- 1336
- 1337
- 1338
- 1339
- 1340
- 1341
- 1342
- 1343
- 1344
- 1345
- 1346
- 1347
- 1348
- 1349
- 1350
- 1351
- 1352
- اگلا
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:مَرَّ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِيْهِ عُيَيْنَةٌ مِّنْ مَاءٍ عَذْبَۃٍ فَاَعْجَبَتْهُ فَقَالَ:لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَاَقَمْتُ فِيْ هَذَا الشِّعْبِ وَلَنْ اَفْعَلَ حَتَّى اَسْتَاْذِنَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَا تَفْعَلْ فَاِنَّ مُقَامَ اَحَدِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِيْ بَيْتِهِ سَبْعِينَ عَامًا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ ؟ اغْزُوا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ مَنْ قَاتَلَ في سَبِيلِ اللهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:مر رجل من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بشعب فيه عيينة من ماء عذبۃ فاعجبته فقال:لو اعتزلت الناس فاقمت في هذا الشعب ولن افعل حتى استاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:لا تفعل فان مقام احدكم في سبيل الله افضل من صلاته في بيته سبعين عاما الا تحبون ان يغفر الله لكم ويدخلكم الجنة ؟ اغزوا في سبيل الله من قاتل في سبيل الله فواق ناقة وجبت له الجنة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےایک صحابی کا ایسی گھاٹی سے گزر ہوا جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا اسے وہ پسند آیا تو کہنے لگا اگر میں لوگوں سے الگ ہوکر اس گھاٹی میں ٹھہر جاؤں(تو کیسا ہے)؟لیکن میں حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا ۔چنانچہ اس نے بارگاہِ رسالت میں اس بات کا تذکرہ کیا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ایسا نہ کرو کیونکہ راہِ خدا میں تمہارا کھڑا ہونا گھر میں سترسال نماز ادا کرنے سے بہتر ہے،کیا تمہیں پسند نہیں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہیں بخش دے اور جنت میں داخل کرے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرو، جس نےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اونٹنی کے دو دفعہ دوہنے کی مقدار جتنابھی جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔“
شرح حدیث
گھاٹی سے مراد:مرآۃ المناجیح میں ہے:” گھاٹی پہاڑ کے شگاف کو کہتے ہیں خواہ آر پار ہو یا آگے سے بندعرب میں ایسی جگہ بہت ہی قدر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے جہاں سبزہ بھی ہو اور میٹھے پانی کا چشمہ بھی اور جگہ محفوظ بھی۔ (اُن صحابی کا )دل چاہا کہ مدینہ منورہ چھوڑ کر اپنی بکریاں بھیڑیں لے کر یہاں آن بسیں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ تاکہ اطمینان سے عبادتِ الٰہی کرتا اور لوگوں کے اِختِلاط(میل جول)سے بچ جاتا،یہ اختلاط ہزار ہا غفلتوں گناہوں کا سبب ہے ان کا یہ ارادہ بھی نیت خیر سے تھا۔( نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” ایسا نہ کرو کیونکہ راہِ خدا میں تمہارا کھڑا ہونا گھر میں سترسال نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔)اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ بمقابلہ دیہات کے شہر میں رہنا بہتر ہے کہ شہر میں بعض وہ عبادات نصیب ہوجاتی ہیں جو گاؤں میں مُیَسَّر نہیں ہوتیں،ستر سال فرمانا بہت زیادہ کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا کہ صفِ جہاد یا صفِ نماز میں کھڑا ہونا ﷲکے نزدیک ستر سال کی عبادت سے افضل ہے۔ “فرض چھوڑ کر نفل میں مصروف ہونا گناہ ہے:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں:”یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ گوشہ نشینی کی نسبت لوگوں کےساتھ رہنا افضل ہے خصوصاً حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ سعادت میں، ہاں نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ مبارکہ کے بعد بعض اوقات فتنے اور آزمائش وامتحان کے خوف سے گوشہ نشینی افضل قرار پاتی ہے۔“معلوم ہوا کہ گوشہ نشینی ہرحال میں ممنوع نہیں بلکہ اس کے کچھ احکام ہیں بعض صورتوں میں گوشہ نشینی اختیار کرنے کا حکم ہے اور بعض صورتوں میں لوگوں سے میل جول کا، چنانچہ یہاں خَلْوَت وگوشہ نشینی کے بعض احکام بیان کئے جاتےہیں۔خَلْوت وگوشہ نشینی کے اَحکام:(1)مُطلقاً خَلْوَت رِضائے الٰہی پانے، خود کو نیکیوں میں لگانے،گناہوں سے بچانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔ہرمسلمان کو چاہیے کہ رضائے الٰہی کے حصول اور عبادات میں پختگی حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ وقت خَلْوَت اختیار کرے،البتہ مختلف اَفراد کے مختلف اَحوال کی وجہ سے اس کے اَحکام بھی مختلف ہیں، بعض کے لیے خلوت افضل اور بعض کے لیے جَلْوَت (یعنی لوگوں میں رہنا)افضل۔ (2)ایسا عالِمِ دِین جس سے لوگ علمِ دِین حاصل کرتے ہوں اور اگر یہ خَلْوَت اختیار کر لے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہوکر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالِم کے لیے کلیۃً خَلْوَت اِختیار کرنا ناجائز وممنوع ہے البتہ ایسا صاحبِ علم شخص جس کے پاس اپنی ضرورت کا علم موجود ہے اور اس کے خَلْوَت اختیار کرنے سے لوگوں کا بھی کوئی نقصان نہیں تو ایسے شخص کے لیے خَلْوَت اختیار کرنا جائز ہے۔(3)ایسا شخص جو ضروریاتِ دِین (فرائض وواجبات وسُنَنِ مؤکدہ)سے ناواقف ہو، اگر علم حاصل نہ کرے گا تو نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر گمراہی کے گڑھے میں گرجا ئے گا ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ فرض علوم کوحاصل کرے۔(4) اگر کسی شخص کو اچھی صحبت میسرنہیں ہے اور وہ خلوت اختیار نہیں کرے گا توگناہوں میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسے شخص پر لازم ہے کہحقوقُ اﷲوحقوقُ العبادکی ادائیگی کرتے ہوئے بقدرِ ضرورت خَلْوَت اختیار کرے اور خود کو گناہوں سے بچا کر عبادت میں مصروف ہو جائے۔ مرآۃالمناجیح میں ہے: صوفیائے کرام(رَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَام)فرماتے ہیں کہ ’’اب اس زمانہ میں جلوت (لوگوں میں رہنے)سے خلوت افضل،بری صحبت سے تنہائی افضل۔‘‘ بُرے لوگوں کی صحبت سے خلوت افضل اور خلوت سے اچھے لوگوں کی صحبت افضل۔ (5) اگر خلوت اختیار کرنے میں کسی بھی طرححقوقُ اﷲیا حقوقُ العباد کی تَلفی ہوتی ہو تو ایسی خَلْوَت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔ مثلاً کوئی شخص گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر اس طرح ذِکرو اَذکار وعبادت وغیرہ میں مصروف ہوجائے کہ جماعت بھی ترک کردے، جمعہ وعیدَین میں بھی سُستی ہوجائے،کسبِ حلال ترک کر دے اور اسے یا اس کے گھر والوں کو اس خلوت کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے تو ایسی خلوت ناجائز وحرام ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’مسلمان دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں خلوت بہتر ہے، بعض وہ جن کے لیے جلوت افضل، ان دونوں میں جلوت والے افضل ہیں کیونکہ خلوت والے صرف اپنی اِصلاح کرتے ہیں اور جلوت والے دوسروں کوبھی درست کرتے ہیں۔ حضرت علی (کَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) فرماتے ہیں کہ تم دنیا میں اپنے دوست زیادہ بناؤ کہ کل قیامت میں مومن دوست شفاعت کریں گے اور کفارِ مکہ اپنے لیے شفیع اور دوست نہ ملنے پر افسوس کریں گے، مگر خیال رہے کہ بعض لوگوں کے لیےبعض حالات میں بعض مقامات پر خلوت افضل ہوتی ہے،اگر جلوت میں خود اپنے آپ کےگناہوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہو تو خلوت بہتر۔حضرت وہب (رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں کہ حکمت دس حصے ہیں: نو خاموشی میں، ایک خلوت میں۔ بہتر یہ ہے کہ کبھی خلوت اختیارکرے کبھی جلوت،خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا(سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے)،عربی میں تنہائی کوعُزْلَۃکہتے ہیں،عارفین فرماتے ہیں کہعُزْلَۃمیں اگر علم کا ’’عین‘‘نہ ہو تو ذلت ہے اور اگر زُہد کی’’ز‘‘نہ ہو تو نِری عِلَّت ہے یعنی خلوت وہ اختیار کرے جس کے پاس علم بھی ہو زُہد بھی۔‘‘اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضاخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنسے جب خلوت نشینی کے متعلق سوال ہوا تو آ پرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:’’آدمی تین قسم کے ہیں: (1) مُفِیْد (2) مُسْتَفِیْد (3) مُنْفَرِد۔مفید وہ کہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے،مستفیدوہ کہ خود دوسرے سے فائدہ حاصل کرے، منفرد وہ کہ دوسرے سے فائدہ لینے کی اسے حاجت نہ ہو اور نہ دوسرے کو فائدہ پہنچاسکتا ہو۔ مفید اورمستفید کو عُزلت گز ینی(یعنی خلوت)حرام ہے اور منفرد کو جائز بلکہ واجب۔‘‘مدنی گلدستہ’’شبِ قدر‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اگر گوشہ نشینی اختیار کرنے میں کسی بھی طرح حقوقُ اﷲ یا حقوقُ العبادتلف ہوتے ہوں تو ایسی گوشہ نشینی شرعاً ناجائز وحرام ہے۔
(2) عالِمِ دِین جس سے لوگ علم دِین حاصل کرتے ہوں اگر یہ خلوت اختیار کر لے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہوکر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالم کوبالکل گوشہ نشین ہوجانا ناجائز وممنوع ہے۔
(3) بُرے لوگوں کی صحبت سے خلوت افضل اور خلوت سے اچھے لوگوں کی صحبت افضل ہے۔
(4) بروزِ قیامت مومن ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے جبکہ کفار اپنے لیے کوئی شفیع اور دوست نہ پائیں گے ۔
(5) گوشہ نشینی اختیار کرنے والا صرف اپنی اِصلاح کرتاہے جبکہ لوگوں میں رہنے والا ا پنے ساتھ دوسروں کی بھی اصلاح کا باعث بنتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسےدعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1297