Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1297

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:مَرَّ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِيْهِ عُيَيْنَةٌ مِّنْ مَاءٍ عَذْبَۃٍ فَاَعْجَبَتْهُ فَقَالَ:لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَاَقَمْتُ فِيْ هَذَا الشِّعْبِ وَلَنْ اَفْعَلَ حَتَّى اَسْتَاْذِنَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَا تَفْعَلْ فَاِنَّ مُقَامَ اَحَدِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِيْ بَيْتِهِ سَبْعِينَ عَامًا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ ؟ اغْزُوا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ مَنْ قَاتَلَ في سَبِيلِ اللهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:مر رجل من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بشعب فيه عيينة من ماء عذبۃ فاعجبته فقال:لو اعتزلت الناس فاقمت في هذا الشعب ولن افعل حتى استاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:لا تفعل فان مقام احدكم في سبيل الله افضل من صلاته في بيته سبعين عاما الا تحبون ان يغفر الله لكم ويدخلكم الجنة ؟ اغزوا في سبيل الله من قاتل في سبيل الله فواق ناقة وجبت له الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےایک صحابی کا ایسی گھاٹی سے گزر ہوا جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا اسے وہ پسند آیا تو کہنے لگا اگر میں لوگوں سے الگ ہوکر اس گھاٹی میں ٹھہر جاؤں(تو کیسا ہے)؟لیکن میں حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا ۔چنانچہ اس نے بارگاہِ رسالت میں اس بات کا تذکرہ کیا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ایسا نہ کرو کیونکہ راہِ خدا میں تمہارا کھڑا ہونا گھر میں سترسال نماز ادا کرنے سے بہتر ہے،کیا تمہیں پسند نہیں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہیں بخش دے اور جنت میں داخل کرے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرو، جس نےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اونٹنی کے دو دفعہ دوہنے کی مقدار جتنابھی جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔“

شرح حدیث

گھاٹی سے مراد:مرآۃ المناجیح میں ہے:” گھاٹی پہاڑ کے شگاف کو کہتے ہیں خواہ آر پار ہو یا آگے سے بندعرب میں ایسی جگہ بہت ہی قدر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے جہاں سبزہ بھی ہو اور میٹھے پانی کا چشمہ بھی اور جگہ محفوظ بھی۔ (اُن صحابی کا )دل چاہا کہ مدینہ منورہ چھوڑ کر اپنی بکریاں بھیڑیں لے کر یہاں آن بسیں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ تاکہ اطمینان سے عبادتِ الٰہی کرتا اور لوگوں کے اِختِلاط(میل جول)سے بچ جاتا،یہ اختلاط ہزار ہا غفلتوں گناہوں کا سبب ہے ان کا یہ ارادہ بھی نیت خیر سے تھا۔( نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” ایسا نہ کرو کیونکہ راہِ خدا میں تمہارا کھڑا ہونا گھر میں سترسال نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔)اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ بمقابلہ دیہات کے شہر میں رہنا بہتر ہے کہ شہر میں بعض وہ عبادات نصیب ہوجاتی ہیں جو گاؤں میں مُیَسَّر نہیں ہوتیں،ستر سال فرمانا بہت زیادہ کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا کہ صفِ جہاد یا صفِ نماز میں کھڑا ہونا ﷲکے نزدیک ستر سال کی عبادت سے افضل ہے۔ “فرض چھوڑ کر نفل میں مصروف ہونا گناہ ہے:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں:”یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ گوشہ نشینی کی نسبت لوگوں کےساتھ رہنا افضل ہے خصوصاً حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ سعادت میں، ہاں نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ مبارکہ کے بعد بعض اوقات فتنے اور آزمائش وامتحان کے خوف سے گوشہ نشینی افضل قرار پاتی ہے۔“معلوم ہوا کہ گوشہ نشینی ہرحال میں ممنوع نہیں بلکہ اس کے کچھ احکام ہیں بعض صورتوں میں گوشہ نشینی اختیار کرنے کا حکم ہے اور بعض صورتوں میں لوگوں سے میل جول کا، چنانچہ یہاں خَلْوَت وگوشہ نشینی کے بعض احکام بیان کئے جاتےہیں۔خَلْوت وگوشہ نشینی کے اَحکام:(1)مُطلقاً خَلْوَت رِضائے الٰہی پانے، خود کو نیکیوں میں لگانے،گناہوں سے بچانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔ہرمسلمان کو چاہیے کہ رضائے الٰہی کے حصول اور عبادات میں پختگی حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ وقت خَلْوَت اختیار کرے،البتہ مختلف اَفراد کے مختلف اَحوال کی وجہ سے اس کے اَحکام بھی مختلف ہیں، بعض کے لیے خلوت افضل اور بعض کے لیے جَلْوَت (یعنی لوگوں میں رہنا)افضل۔ (2)ایسا عالِمِ دِین جس سے لوگ علمِ دِین حاصل کرتے ہوں اور اگر یہ خَلْوَت اختیار کر لے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہوکر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالِم کے لیے کلیۃً خَلْوَت اِختیار کرنا ناجائز وممنوع ہے البتہ ایسا صاحبِ علم شخص جس کے پاس اپنی ضرورت کا علم موجود ہے اور اس کے خَلْوَت اختیار کرنے سے لوگوں کا بھی کوئی نقصان نہیں تو ایسے شخص کے لیے خَلْوَت اختیار کرنا جائز ہے۔(3)ایسا شخص جو ضروریاتِ دِین (فرائض وواجبات وسُنَنِ مؤکدہ)سے ناواقف ہو، اگر علم حاصل نہ کرے گا تو نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر گمراہی کے گڑھے میں گرجا ئے گا ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ فرض علوم کوحاصل کرے۔(4) اگر کسی شخص کو اچھی صحبت میسرنہیں ہے اور وہ خلوت اختیار نہیں کرے گا توگناہوں میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسے شخص پر لازم ہے کہحقوقُ اﷲوحقوقُ العبادکی ادائیگی کرتے ہوئے بقدرِ ضرورت خَلْوَت اختیار کرے اور خود کو گناہوں سے بچا کر عبادت میں مصروف ہو جائے۔ مرآۃالمناجیح میں ہے: صوفیائے کرام(رَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَام)فرماتے ہیں کہ ’’اب اس زمانہ میں جلوت (لوگوں میں رہنے)سے خلوت افضل،بری صحبت سے تنہائی افضل۔‘‘ بُرے لوگوں کی صحبت سے خلوت افضل اور خلوت سے اچھے لوگوں کی صحبت افضل۔ (5) اگر خلوت اختیار کرنے میں کسی بھی طرححقوقُ اﷲیا حقوقُ العباد کی تَلفی ہوتی ہو تو ایسی خَلْوَت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔ مثلاً کوئی شخص گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر اس طرح ذِکرو اَذکار وعبادت وغیرہ میں مصروف ہوجائے کہ جماعت بھی ترک کردے، جمعہ وعیدَین میں بھی سُستی ہوجائے،کسبِ حلال ترک کر دے اور اسے یا اس کے گھر والوں کو اس خلوت کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے تو ایسی خلوت ناجائز وحرام ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’مسلمان دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں خلوت بہتر ہے، بعض وہ جن کے لیے جلوت افضل، ان دونوں میں جلوت والے افضل ہیں کیونکہ خلوت والے صرف اپنی اِصلاح کرتے ہیں اور جلوت والے دوسروں کوبھی درست کرتے ہیں۔ حضرت علی (کَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) فرماتے ہیں کہ تم دنیا میں اپنے دوست زیادہ بناؤ کہ کل قیامت میں مومن دوست شفاعت کریں گے اور کفارِ مکہ اپنے لیے شفیع اور دوست نہ ملنے پر افسوس کریں گے، مگر خیال رہے کہ بعض لوگوں کے لیےبعض حالات میں بعض مقامات پر خلوت افضل ہوتی ہے،اگر جلوت میں خود اپنے آپ کےگناہوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہو تو خلوت بہتر۔حضرت وہب (رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں کہ حکمت دس حصے ہیں: نو خاموشی میں، ایک خلوت میں۔ بہتر یہ ہے کہ کبھی خلوت اختیارکرے کبھی جلوت،خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا(سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے)،عربی میں تنہائی کوعُزْلَۃکہتے ہیں،عارفین فرماتے ہیں کہعُزْلَۃمیں اگر علم کا ’’عین‘‘نہ ہو تو ذلت ہے اور اگر زُہد کی‏’’ز‘‘نہ ہو تو نِری عِلَّت ہے یعنی خلوت وہ اختیار کرے جس کے پاس علم بھی ہو زُہد بھی۔‘‘اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضاخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنسے جب خلوت نشینی کے متعلق سوال ہوا تو آ پرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:’’آدمی تین قسم کے ہیں: (1) مُفِیْد (2) مُسْتَفِیْد (3) مُنْفَرِد۔مفید وہ کہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے،مستفیدوہ کہ خود دوسرے سے فائدہ حاصل کرے، منفرد وہ کہ دوسرے سے فائدہ لینے کی اسے حاجت نہ ہو اور نہ دوسرے کو فائدہ پہنچاسکتا ہو۔ مفید اور‏مستفید کو عُزلت گز ینی(یعنی خلوت)حرام ہے اور منفرد کو جائز بلکہ واجب۔‘‘مدنی گلدستہ’’شبِ قدر‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اگر گوشہ نشینی اختیار کرنے میں کسی بھی طرح حقوقُ اﷲ یا حقوقُ العبادتلف ہوتے ہوں تو ایسی گوشہ نشینی شرعاً ناجائز وحرام ہے۔
(2) عالِمِ دِین جس سے لوگ علم دِین حاصل کرتے ہوں اگر یہ خلوت اختیار کر لے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہوکر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالم کوبالکل گوشہ نشین ہوجانا ناجائز وممنوع ہے۔
(3) بُرے لوگوں کی صحبت سے خلوت افضل اور خلوت سے اچھے لوگوں کی صحبت افضل ہے۔
(4) بروزِ قیامت مومن ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے جبکہ کفار اپنے لیے کوئی شفیع اور دوست نہ پائیں گے ۔
(5) گوشہ نشینی اختیار کرنے والا صرف اپنی اِصلاح کرتاہے جبکہ لوگوں میں رہنے والا ا پنے ساتھ دوسروں کی بھی اصلاح کا باعث بنتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسےدعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1297