Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1290

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:رِبَاطُ يَوْمٍ فِيْ سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَمَوْضِعُ سَوْطِ اَحَدِكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَالرَّوْحَةُ يَرُوْحُهَا الْعَبْدُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ تَعَالٰی اَوِ الْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.

عن سهل بن سعد رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها وموضع سوط احدكم من الجنة خير من الدنيا وما عليها والروحة يروحها العبد في سبيل الله تعالی او الغدوة خير من الدنيا وما عليها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ایک دن راہِ خدا میں اسلامی سرحد کی حفاظت کرنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہےاور جنت میں تم میں سے کسی ایک کےکوڑے رکھنے کی جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے اور بندے کا صبح یاشام راہِ خدا میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔“

شرح حدیث

رِباط کی وضاحت:مرآۃ المناجیح میں ہے:”(رِباط)شریعت میں بَہ نیتِ جہاد گھوڑا پالنے کوبھی کہتے ہیں اور اسلامی سرحد باڈر پر کفار کے مقابل رہنے کو بھی جب کہ سرحد پر ہر وقت خطرہ ہو اور یہ مقابلہ کفار کے لیے ہر وقت وہاں تیار رہے ،یہاں رباط کے معنیٰ دونوں بن سکتے ہیں۔“کوڑے برابر جگہ سے مراد:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” جنت میں کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا اورمافیہا سے بہترہے یعنی جنت کی تھوڑی سی اور معمولی جگہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے ۔کوڑے کا ذِکر عربوں کی اس عادت کے مطابق ہے کہ سوار جب کسی جگہ اترنا چاہتا تو اپنا کوڑا پھینک دیتا تاکہ اس کی نشانی رہے اور دوسرا شخص وہاں نہ اترے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1290