Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1329

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِ قِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :اَلْخَيْلُ مَعْقُوْدٌ فِيْ نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ اِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ الْاَجْرُ وَالْمَغْنَمُ.

عن عروة البار قي رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال :الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الاجر والمغنم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عروہ بارقیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک بھلائی رکھی گئی ہے اور وہ بھلائی اجر وغنیمت ہے ۔“

شرح حدیث

جہاد قیامت تک جاری رہے گا:شارِحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” گھوڑوں کے ماتھوں پر خیر باندھنے کا معنیٰ یہ ہے کہ خیر ان کو لازم ہے اور وہ جہاد کرنے والے گھوڑے ہیں عام گھوڑے مراد نہیں۔حدیث میں اجروغنیمت خیر کی تفسیر ہے یعنی دُنیا میں غنیمت اور آخرت میں ثواب ہے ۔اس میں جہاد کرنے کےلئے گھوڑا تیار کر رکھنے کی ترغیب ہے۔معلوم ہوا کہ جہاد قیامت تک جاری رہےگا اور حاکمِ وقت نیک ہو یا فاجر ہو وہ جہاد کو ختم نہ کرسکے گا اور اس کی مَعِیَّت میں لوگ جہاد کرتے رہیں گے اور گھوڑوں کے سبب جو مال حاصل کیا جائے وہ بہترین مال ہے ۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:”ظاہر یہ ہے کہ یہاں گھوڑے سے مراد جہاد کا گھوڑا ہے نہ کہ عام گھوڑے جو تانگہ میں چلانے،یا ریس میں جُوا کھیلنے کے لیے پالے جاتے ہیں۔ بعض شارحین نے فرمایاکہ یہاں جنس گھوڑا مراد ہے کیونکہ یہ آلۂ جہاد ہے اس پر جہاد ہوسکتاہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت تک گھوڑے جہاد میں کام آئیں گے دیکھ لو آج اس سائنس کے زمانہ میں گھوڑے خچر بہت کام آتے ہیں۔ “
دنیا اور آخرت کی خیر:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت کا ذکر ہے جبکہ ایک حدیث میں گھوڑوں میں نحوست کا ذکرہے،اس تعارض کا جواب یہ ہے کہ نحوست ان گھوڑوں میں ہے جو جہاد کے لیے نہ ہوں بلکہ فخرو تکبر کے لیے ہوں اور خیر وبرکت ان میں ہے جوجہاد کے لیے ہوں ۔حدیثِ مذکور سے استدلال کیا گیا ہےکہ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیروبرکت بندھی ہوئی ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ جہاد قیامت تک ہوتا رہے گا۔“گھوڑوں کی خصوصیت :شارِحِ بخاری علّامہ سیدمحموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورِ اقدسصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےفرمایاکہ گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک برکت ہے تواُس دور میں گھوڑے خچر ،گدھے ،اونٹ، تیر، نیزے ،برچھے اور تلوار وغیرہ آلاتِ حَرب و ضَرب تھے،اس ضمن میں گھوڑا میدان کارزار میں شجاعت وفاداری اوردیگر اوصاف کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا تھا اس لئے نبیعَلَیْہِ السَّلَامنے خصوصی طور پر فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک برکت رہے گی۔“مدنی گلدستہ’’جہاد‘‘کے4حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جہاد قیامت تک جاری رہےگا اور حاکمِ وقت نیک ہو یا فاجر ہو وہ جہاد کو ختم نہ کرسکے گا۔
(2) جہاد میں گھوڑوں کے سبب جو مال حاصل کیا جائے وہ بہترین مال ہے ۔
(3) جہاد کے لئے تیار کئے جانے والے گھوڑے دنیا وآخرت میں خیر و برکت کا باعث ہیں۔
(4) جو گھوڑےنام ونمود اور تکبر کے لئے پالے جائیں ان میں نحوست و بے برکتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں جہاد کرنے کی توفیق عطا کرے اور دین ودنیا میں بھلائیاں عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1329