باب:جہاد کی فرضیت کابیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی :کونسا عمل افضل ہے؟ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“عرض کیا گیا: پھرکون سا؟ارشادفرمایا:”راہِ خُدامیں جہادکرنا۔“پوچھاگیا:پھرکون سا؟ارشادفرمایا:”حجِ مبرور (مقبول)۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ : اِيْمَانٌ بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ، قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ:الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِِ اللهِ، قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ:حَجٌّ مَبرُوْرٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1285 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون ساعملاﷲ عَزَّ وَجَلَّکو زیادہ پیارا ہے؟ارشادفرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا۔“میں نے عرض کی:پھر کون سا؟ارشادفرمایا:”ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنا۔“میں نے عرض کی:پھر کون سا؟ارشاد فرمایا:”راہِ خدا میں جہاد کرنا۔“

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ:قُلْتُ:يَا رَسُوْلَ الله اَيُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ تَعَالَى؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قُلْتُ: ثُمَّ اَيُّ ؟ قَالَ:بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ: ثُمَّ اَيُّ ؟ قَالَ:الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1286 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غفاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون سا عمل افضل ہے؟‘‘ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانا اور راہِ خدا میں جہاد کرنا۔“

عَنِ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اَيُّ الْعَمَلِ اَفْضلُ ؟ قَالَ:الْاِ يْمَانُ بِاللهِ وَالْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1287 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صبح یا شام گزارنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔“

عَنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَغَدْوَةٌ في سَبِيْلِ اللهِ اَوْرَوْحَةٌ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1288 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی :لوگوں میں افضل کون ہے؟ارشاد فرمایا:”وہ مومن جو اپنی جان ومال کے ساتھ راہِ خدا میں جہاد کرے۔اس نےعرض کی:پھر کون؟ارشاد فرمایا:”وہ مومن جو کسی گھاٹی میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔“

عَنِ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَى رَجُلٌ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اَيُّ النَّاسِ اَفْضَلُ؟ قَالَ:مُؤْمِنٌ يُّجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ في سَبِيْلِ اللهِ قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:مُؤْمِنٌ في شِعَبٍ مِّنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1289 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ایک دن راہِ خدا میں اسلامی سرحد کی حفاظت کرنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہےاور جنت میں تم میں سے کسی ایک کےکوڑے رکھنے کی جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے اور بندے کا صبح یاشام راہِ خدا میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔“

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:رِبَاطُ يَوْمٍ فِيْ سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَمَوْضِعُ سَوْطِ اَحَدِكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَالرَّوْحَةُ يَرُوْحُهَا الْعَبْدُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ تَعَالٰی اَوِ الْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1290 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سیِّدُناسَلمان فارِسىرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ میں نےحضورپُرنور،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ ارشادفرماتےہوئے سنا:”اىک دن اور ایک رات راہِ خدا مىں اسلامی سرحد پر پہرا دینا ایک مہینہ دن بھر روزہ رکھ کر رات کو عبادت کرنے سےافضل ہےاور اگر وہ اسی حالت میں مرجائے تو اس کا وہ نیک عمل اور رزق جاری رہے گااور وہ قبر کے فتنےسے امن میں رہے گا۔ “

عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَ اِنْ مَاتَ جَرَىٰ عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ وَاُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَاَمِنَ الفَتَّانَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1291 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا فضالہ بن عبیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہر میت کا عمل ختم ہوجاتا ہے لیکن راہِ خدامیں اسلامی سرحد کی حفاظت کرنے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہےاور وہ قبر کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔“

عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلٰی عَمَلِهِ اِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيْلِ اللهِ فَاِنَّهُ يَنْمِىْ لَهُ عَمَلُهُ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فِتْنَةِ القَبْرِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1292 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”راہِ خدا میں ایک دن اسلامی سرحد کی حفاظت کرنا دیگر مقامات کی ہزار دن حفاظت کرنے سے افضل ہے۔“

عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:رِبَاطُ يَوْمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ يَوْمٍ فِيْمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1293 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جو شخص صرفاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہا د کی نیت سے گھر سے نکلے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کاضامن ہوتاہے کہ اسے میری راہ میں جہاد کے جذبے ، مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے نکالا ہے ۔ چنانچہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے ضمانت دیتاہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا یا اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس لوٹا ئے گا۔(پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:)اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے!جب راہِ خدا میں لگنے والے زخم کو قیامت کے دن لایاجائے گا تو اس کا رنگ خو ن جیسا اور بو مشک جیسی ہوگی اور اس ذا تِ پاک کی قسم جس کے دستِ قد رت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! اگر مجھے مسلمانو ں کے مشقت میں پڑجانے کا خو ف نہ ہوتا تو میں راہ ِخدا میں لڑنے والے کسی لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میرے پاس اتنی وُسعت نہیں ہے کہ سب کو سواری دوں اور نہ سب مسلمانوں کے پاس سواریاں ہیں کہ وہ میرے ساتھ جاسکیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی انہیں گراں گزرتا ہے۔ اس ذا ت پاک کی قسم جس کے دست ِقد رت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کر وں اور شہید کر دیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤ ں پھر جہاد کرو ں پھر شہیدکردیاجاؤں۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:تَضَمَّنَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِيْ سَبِيْلِهِ لَا يُخْرِجُهُ اِلَّا جِهَادٌ فِيْ سَبِيْلِيْ وَ اِيْمَانٌ بِيْ وَتَصْدِيْقٌ بِرُسُلِيْ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَيَّ اَنْ اُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ اَوْاُرْجِعَهُ اِلَى مَنْزِ لِهِ الَّذِيْ خَرَجَ مِنْهُ بِمَا نَالَ مِنْ اَجْرٍ اَوْ غَنِيْمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِم لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيْحُهُ ريْحُ مِسْكٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُوْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَبَداً وَلٰكِنْ لَا اَجِدُ سَعَةً فَاَحْمِلُهُمْ وَلَا يَجِدُوْنَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ اَنْ يَّتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ اَنِّیْ اَغْزُو فِيْ سَبِيْلِ اللهِ فَاُقْتَلُ ثُمَّ اَغْزُوُ فَاُقْتَلَ ثُمَّ اَغْزُوُ فَاُقْتَلُ

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1294 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس شخص کو راہِ خدا میں زخم آئے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئےگا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا جس کا رنگ خو ن جیسا اور بو مشک جیسی ہوگی۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا مِنْ مَكْلُوْمٍ يُكْلَمُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اِلَّاجَاءَ يَومَ الْقِيَامةِ وَكَلْمُهُ يَدْمَي:اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيْحُ ريْحُ مِسْكٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1295 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا مُعاذ بن جبلرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اَنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس مسلمان نےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اونٹنی کے دو دفعہ دوہنے کی مقدار جتنابھی جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں کوئی زخم یا تکلیف پہنچی تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ چمکدار ہوگا جیسا کہ تھا،اس کا رنگ زعفرانی اور اس کی خوشبو مشک جیسی ہوگی ۔“

عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِـمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَاِنَّهَا تَجِيْءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَاَغْزَرِ مَا كَانَتْ:لَوْنُهَا الزَّعْفَرَانُ وَرِيْحُهَا كَالْمِسْكِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1296 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےایک صحابی کا ایسی گھاٹی سے گزر ہوا جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا اسے وہ پسند آیا تو کہنے لگا اگر میں لوگوں سے الگ ہوکر اس گھاٹی میں ٹھہر جاؤں(تو کیسا ہے)؟لیکن میں حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا ۔چنانچہ اس نے بارگاہِ رسالت میں اس بات کا تذکرہ کیا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ایسا نہ کرو کیونکہ راہِ خدا میں تمہارا کھڑا ہونا گھر میں سترسال نماز ادا کرنے سے بہتر ہے،کیا تمہیں پسند نہیں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہیں بخش دے اور جنت میں داخل کرے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرو، جس نےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اونٹنی کے دو دفعہ دوہنے کی مقدار جتنابھی جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:مَرَّ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِيْهِ عُيَيْنَةٌ مِّنْ مَاءٍ عَذْبَۃٍ فَاَعْجَبَتْهُ فَقَالَ:لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَاَقَمْتُ فِيْ هَذَا الشِّعْبِ وَلَنْ اَفْعَلَ حَتَّى اَسْتَاْذِنَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَا تَفْعَلْ فَاِنَّ مُقَامَ اَحَدِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِيْ بَيْتِهِ سَبْعِينَ عَامًا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ ؟ اغْزُوا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ مَنْ قَاتَلَ في سَبِيلِ اللهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1297 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: ”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون سا عمل راہِ خدا میں جہاد کے برابر ہے؟“آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔“صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس جیسی ہے جودن میں روزہ دار اور رات کواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی آیات کے ساتھ قیام کرنے والا ہو۔نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حتّٰی کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنے والا لوٹ آئے۔“یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھےایسے عمل کے بارے میں بتایئے جو جہاد کے برابر ہو؟‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”میں ایسا عمل نہیں پاتا۔“پھرفرمایا:” کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد گھر سے نکلے اور تم مسجد میں داخل ہوکر عبادت کے لیے کھڑے ہوجاؤ اورکمی نہ کرواور روزے رکھو اور افطار نہ کرو۔“اس شخص نے عرض کی: اس کی طاقت کون رکھے گا ؟

عَنْ اَبِيْ هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قِيْلَ:يَارَسُوْلَ اللهِ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ؟ قَالَ:لَا تَسْتَطِيْعُوْنَهُ فَاَعَادُوْا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ اَوْ ثَلاَثاً كُلُّ ذٰلِكَ يَقُولُ:لَا تَسْتَطِيْعُوْنَهُ! ثُمَّ قَالَ:مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ كَمَثلِ الصَّائِـمِ الْقَائِـمِ الْقَانِتِ بِاٰيَاتِ اللهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَّلَا صَلَاةٍ حَتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.( ) وَهٰذَا لَفْظُ مُسْلِـمٍ.وَفِيْ رِوَايَةِ الْبُخَارِيْ:اَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَارَسُوْلَ اللهِ دُلَّنِيْ عَلٰی عَمَلٍ يَّعْدِلُ الْجِهَادَ ؟ قَالَ : لَا اَجِدُهُ ثُمَّ قَالَ :هَلْ تَسْتَطِيْعُ اِذَا خَرَجَ المُجَاهِدُ اَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتقومَ وَلاَ تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلَا تُفْطِرَ ؟ فَقَالَ : وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذٰلِكَ ؟

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1298 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول ِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ لوگوں میں سب سے بہتر زندگی والا وہ ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہے جب دشمن کی طرف سے شور یا خطرناک آواز سنتا ہے تو گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر اُڑتا ہوا وہاں پہنچتا ہے جہاں موت یا قتل کا گمان ہو،یاوہ شخص(بہتر زندگی والا ہے)جو بکریوں میں رہے پہاڑ کی چوٹیوں میں سےکسی چوٹی میں یا جنگلوں میں سے کسی جنگل میں رہےنماز قائم کرے، زکوٰۃ دیتا رہے اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا رہے حتّٰی کہ اسے موت آجائے تو یہ لوگ خیر ہی میں ہیں ۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُّمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ يَـطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً اَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ اَوْرَجُلٌ فِيْ غُنَيْمَةٍ فِيْ رَاْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذَا الشَّعَفِ اَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ ھٰذِہِ الْاَ وْدِيَةِ يُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَيُوْتِيْ الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَاْتِيَهُ الْيَقِيْنُ لَيْسَ مِّنَ النَّاسِ اِلَّا فِيْ خَيْرٍ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1299 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جنت میں سو درجے ہیں جن کواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے راہ ِخدا میں جہادکرنےوالوں کے لئے تیار کیاہے اوردو درجوں کے درمیان آسمان وزمین جتنا فاصلہ ہے۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ اَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1300 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ذر غفاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو شخصاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ربّ ہونے،حضرت محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رسول ہونےاور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔حضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےاس پر تعجب کا اظہار کیا اورعرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ حدیث مجھے دوبارہ سنائیے۔رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےانہیں دوبارہ یہ بشارت سنائی پھر ارشاد فرمایا:” دوسری چیز بھی ہے جس کی برکت سے ﷲ تعالیٰ بندے کے سو درجے جنت میں بلند فرماتا ہےاور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ چیز کیا ہے ؟فرمایا: راہِ خدا میں جہاد،راہِ خدا میں جہاد۔“

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبّاً وَبِالْاِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَجَبَتْ لَهُ الجَنَّةُ فَعَجِبَ لَهَا اَبُوْ سَعِيْدٍ فَقَالَ:اَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَاَعَادَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:وَاُخْرَى يَرْفَعُ اللهُ بِهَا الْعَبْدَ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَينِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رسولَ الله ؟ قَالَ:الْجِهَادُ في سَبِيْلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1301 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابوبکر بن موسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”میں نے اپنے والد کو دشمن کے مقابل یہ فرماتے ہوئے سناکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بے شک! جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں۔“ایک خستہ حال شخص نے اٹھ کر عرض کی:”اے ابو موسٰی! کیا آپ نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ بات فرماتے ہوئے سناہے؟“آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا:”ہاں۔“یہ سن کر وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا اور کہنے لگا:”میں تمہیں سلام کہتا ہوں ۔“پھر اپنی تلوار کے میان کو توڑ کر پھینکا اور تلوار لے کر دشمن کی جانب چل پڑا اور اس تلوار سے لڑتا رہا حتّٰی کہ شہید ہوگیا۔“

عَنْ اَبِيْ بَكْرِ بْنِ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ قَالَ:سَمِعْتُ اَبِيْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِحَضْرَةِ العَدُوِّ يَقُوْلُ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ: يَا اَبَا مُوسَى اَاَنْتَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ هٰذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ فَرَجَعَ اِلَى اَصْحَابِهِ فَقَالَ: اَقْرَاُ عَلَيْكُم ُالسَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيـْفِهِ فَاَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْـفِهِ اِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهٖ حَتّٰى قُتِلَ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1302 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو عبس عبد الرحمٰن بن جبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”یہ نہیں ہوسکتابندے کے قدماﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں غبار آلود ہوں پھر انہیں آگ چھوئے۔“

عَنْ اَبِيْ عَبْسٍ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جَبْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ في سَبِيْلِ اللهِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1303 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جائے گا حتّٰی کہ دودھ تھنوں میں واپس آجائے اور کسی بندے پر راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتا۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتَّى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ عَلَی عَبْدٍ غُبَارٌ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1304 ، باب:جہاد کی فرضیت کابیان