Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1294

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:تَضَمَّنَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِيْ سَبِيْلِهِ لَا يُخْرِجُهُ اِلَّا جِهَادٌ فِيْ سَبِيْلِيْ وَ اِيْمَانٌ بِيْ وَتَصْدِيْقٌ بِرُسُلِيْ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَيَّ اَنْ اُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ اَوْاُرْجِعَهُ اِلَى مَنْزِ لِهِ الَّذِيْ خَرَجَ مِنْهُ بِمَا نَالَ مِنْ اَجْرٍ اَوْ غَنِيْمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِم لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيْحُهُ ريْحُ مِسْكٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُوْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَبَداً وَلٰكِنْ لَا اَجِدُ سَعَةً فَاَحْمِلُهُمْ وَلَا يَجِدُوْنَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ اَنْ يَّتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ اَنِّیْ اَغْزُو فِيْ سَبِيْلِ اللهِ فَاُقْتَلُ ثُمَّ اَغْزُوُ فَاُقْتَلَ ثُمَّ اَغْزُوُ فَاُقْتَلُ

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:تضمن الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه الا جهاد في سبيلي و ايمان بي وتصديق برسلي فهو ضامن علي ان ادخله الجنة اوارجعه الى منز له الذي خرج منه بما نال من اجر او غنيمة والذي نفس محمد بيده ما من كلم يكلم في سبيل الله الا جاء يوم القيامة كهيئته يوم كلم لونه لون دم وريحه ريح مسك والذي نفس محمد بيده لولا ان اشق على المسلمين ما قعدت خلاف سرية تغزو في سبيل الله ابدا ولكن لا اجد سعة فاحملهم ولا يجدون سعة ويشق عليهم ان يتخلفوا عني والذي نفس محمد بيده لوددت انی اغزو في سبيل الله فاقتل ثم اغزو فاقتل ثم اغزو فاقتل

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جو شخص صرفاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہا د کی نیت سے گھر سے نکلے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کاضامن ہوتاہے کہ اسے میری راہ میں جہاد کے جذبے ، مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے نکالا ہے ۔ چنانچہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے ضمانت دیتاہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا یا اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس لوٹا ئے گا۔(پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:)اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے!جب راہِ خدا میں لگنے والے زخم کو قیامت کے دن لایاجائے گا تو اس کا رنگ خو ن جیسا اور بو مشک جیسی ہوگی اور اس ذا تِ پاک کی قسم جس کے دستِ قد رت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! اگر مجھے مسلمانو ں کے مشقت میں پڑجانے کا خو ف نہ ہوتا تو میں راہ ِخدا میں لڑنے والے کسی لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میرے پاس اتنی وُسعت نہیں ہے کہ سب کو سواری دوں اور نہ سب مسلمانوں کے پاس سواریاں ہیں کہ وہ میرے ساتھ جاسکیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی انہیں گراں گزرتا ہے۔ اس ذا ت پاک کی قسم جس کے دست ِقد رت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کر وں اور شہید کر دیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤ ں پھر جہاد کرو ں پھر شہیدکردیاجاؤں۔“

شرح حدیث

حدیث کا مقصد:شارحِ بخاری علّامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جو شخص جہاد کے لیے نکلےاﷲتعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ ہر حال میں خیر پائے گا اگر وہ شہید ہوگیا تو جنت میں داخل ہوگا یا صرف ثواب لے کر واپس آئے گا یا ثواب اور غنیمت دونوں حاصل کرے گا ۔سیدِ عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا محبت ومُوَدَّت کرنا مودت ترغیب ہے یعنی سیدِ عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اُمَّت کو جہاد کرنے اور اس میں شہید ہونےکی ترغیب دلائی ہے۔حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص جہاد کے لیے نکلتا ہے اوراﷲتعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق بھی کرتا ہے تو اس کا جہاد کے لیے خُروج ایمان ہے ۔“شُہدا کی تخصیص کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:” راہِ خدا میں جہاد کرنے والے مومن کواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے جنت کی ضمانت دے دی ہے،اس پر سوال ہے کہ عام مؤمنوں سے بھیاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے جنت کا وعدہ فرمایا ہے پھر شہدا کی اس میں کیاتخصیص ہے ؟ اس کے دو جواب ہیں۔ایک یہ کہ راہِ خدا میں لڑنے والے کو مرتے ہی جنت میں داخل کر دیا جاتا ہےجیسا کہ شہدا کے متعلق قرآنِ مجید میں ہے:﴿ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹)﴾(پ۴،آل عمران:۱۶۹)(ترجمۂ کنزالایمان:وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔)جبکہ دوسرے مسلمان قیامت کے دن حساب وکتاب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔دوسرا یہ کہ شہدا قیامت کے دن مقربین کے ساتھ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور ان سے کوئی حساب وکتاب نہیں ہوگا اور شہادت ان کے گناہوں کا کفارہ ہوگی کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ ”راہِ خدا میں شہید ہونے والے کا ہر گناہ مٹا دیاجاتا ہےسوائے قرض کے ۔“محشرمیں فضیلت کا اِظہار:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث پاک میں ہے کہ شہید قیامت کے دن اسی حال میں آئے گا جس حال میں شہید ہوا تھا، اس میں حکمت یہ ہے کہ طاعتِ الٰہی میں جان قربان کرنے والے کی فضیلت دوسروں کو معلوم ہواور اس کا بہتا ہوا زخم ظالم کے خلاف گواہ ہواورمیدانِ محشر میں شہید کے زخم سے مشک کی پاکیزہ خوشبو آنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اہلِ محشر کےسامنے اس کی فضیلت ظاہر ہوگی۔“حدیثِ مذکور سے ماخوذفوائد و مسائل:(1)حدیثِ مذکور میں جہاد اور راہِ خدامیں شہید ہونے کی فضیلت کابیان ہے۔(2) اچھی نیت کی ترغیب ہے ۔(3)حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اپنی اُمَّت پر شفقت اور نرمی کا بیان ہے۔(4)راہِ خدا میں شہادت طلب کرنامستحب ہے۔(5)جس نیکی کا حُصُول بظاہرممکن نظر نہ آتا ہو اس کے حُصُول کی نیت بھی کی جا سکتی ہے کیونکہ ”مومن کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے۔“(6)جب دو مصلحتوں میں تعارض ہوتو اہم یاراجح مصلحت اختیار کی جائے ،یونہی فساد کی وجہ سے کسی مصلحت کو ترک کیا جاسکتا ہے۔ (7) حدیثِ مذکور میں شہادت کی تمنا کا جواز اور اس پراجرِعظیم کا بیان ہے۔(8)غنیمت لینے سے اجر میں کوئی کمی نہیں آتی کیونکہ یہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا فضل ہے ۔(9)مسلمانوں سے تکلیف اور مشقت دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔(10)باغیوں کے خلاف جنگ کرنایااَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرکے لیے لڑنا بھی راہِ خدا میں شامل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1294