- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- حدیث نمبر 1294
باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1294
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
- حدیث
-
- 1285
- 1286
- 1287
- 1288
- 1289
- 1290
- 1291
- 1292
- 1293
- 1294
- 1295
- 1296
- 1297
- 1298
- 1299
- 1300
- 1301
- 1302
- 1303
- 1304
- 1305
- 1306
- 1307
- 1308
- 1309
- 1310
- 1311
- 1312
- 1313
- 1314
- 1315
- 1316
- 1317
- 1318
- 1319
- 1320
- 1321
- 1322
- 1323
- 1324
- 1325
- 1326
- 1327
- 1328
- 1329
- 1330
- 1331
- 1332
- 1333
- 1334
- 1335
- 1336
- 1337
- 1338
- 1339
- 1340
- 1341
- 1342
- 1343
- 1344
- 1345
- 1346
- 1347
- 1348
- 1349
- 1350
- 1351
- 1352
- اگلا
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:تَضَمَّنَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِيْ سَبِيْلِهِ لَا يُخْرِجُهُ اِلَّا جِهَادٌ فِيْ سَبِيْلِيْ وَ اِيْمَانٌ بِيْ وَتَصْدِيْقٌ بِرُسُلِيْ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَيَّ اَنْ اُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ اَوْاُرْجِعَهُ اِلَى مَنْزِ لِهِ الَّذِيْ خَرَجَ مِنْهُ بِمَا نَالَ مِنْ اَجْرٍ اَوْ غَنِيْمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِم لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيْحُهُ ريْحُ مِسْكٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُوْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَبَداً وَلٰكِنْ لَا اَجِدُ سَعَةً فَاَحْمِلُهُمْ وَلَا يَجِدُوْنَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ اَنْ يَّتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ اَنِّیْ اَغْزُو فِيْ سَبِيْلِ اللهِ فَاُقْتَلُ ثُمَّ اَغْزُوُ فَاُقْتَلَ ثُمَّ اَغْزُوُ فَاُقْتَلُ
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:تضمن الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه الا جهاد في سبيلي و ايمان بي وتصديق برسلي فهو ضامن علي ان ادخله الجنة اوارجعه الى منز له الذي خرج منه بما نال من اجر او غنيمة والذي نفس محمد بيده ما من كلم يكلم في سبيل الله الا جاء يوم القيامة كهيئته يوم كلم لونه لون دم وريحه ريح مسك والذي نفس محمد بيده لولا ان اشق على المسلمين ما قعدت خلاف سرية تغزو في سبيل الله ابدا ولكن لا اجد سعة فاحملهم ولا يجدون سعة ويشق عليهم ان يتخلفوا عني والذي نفس محمد بيده لوددت انی اغزو في سبيل الله فاقتل ثم اغزو فاقتل ثم اغزو فاقتل
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جو شخص صرفاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہا د کی نیت سے گھر سے نکلے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کاضامن ہوتاہے کہ اسے میری راہ میں جہاد کے جذبے ، مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے نکالا ہے ۔ چنانچہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے ضمانت دیتاہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا یا اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس لوٹا ئے گا۔(پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:)اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے!جب راہِ خدا میں لگنے والے زخم کو قیامت کے دن لایاجائے گا تو اس کا رنگ خو ن جیسا اور بو مشک جیسی ہوگی اور اس ذا تِ پاک کی قسم جس کے دستِ قد رت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! اگر مجھے مسلمانو ں کے مشقت میں پڑجانے کا خو ف نہ ہوتا تو میں راہ ِخدا میں لڑنے والے کسی لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میرے پاس اتنی وُسعت نہیں ہے کہ سب کو سواری دوں اور نہ سب مسلمانوں کے پاس سواریاں ہیں کہ وہ میرے ساتھ جاسکیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی انہیں گراں گزرتا ہے۔ اس ذا ت پاک کی قسم جس کے دست ِقد رت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کر وں اور شہید کر دیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤ ں پھر جہاد کرو ں پھر شہیدکردیاجاؤں۔“
شرح حدیث
حدیث کا مقصد:شارحِ بخاری علّامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جو شخص جہاد کے لیے نکلےاﷲتعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ ہر حال میں خیر پائے گا اگر وہ شہید ہوگیا تو جنت میں داخل ہوگا یا صرف ثواب لے کر واپس آئے گا یا ثواب اور غنیمت دونوں حاصل کرے گا ۔سیدِ عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا محبت ومُوَدَّت کرنا مودت ترغیب ہے یعنی سیدِ عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اُمَّت کو جہاد کرنے اور اس میں شہید ہونےکی ترغیب دلائی ہے۔حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص جہاد کے لیے نکلتا ہے اوراﷲتعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق بھی کرتا ہے تو اس کا جہاد کے لیے خُروج ایمان ہے ۔“شُہدا کی تخصیص کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:” راہِ خدا میں جہاد کرنے والے مومن کواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے جنت کی ضمانت دے دی ہے،اس پر سوال ہے کہ عام مؤمنوں سے بھیاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے جنت کا وعدہ فرمایا ہے پھر شہدا کی اس میں کیاتخصیص ہے ؟ اس کے دو جواب ہیں۔ایک یہ کہ راہِ خدا میں لڑنے والے کو مرتے ہی جنت میں داخل کر دیا جاتا ہےجیسا کہ شہدا کے متعلق قرآنِ مجید میں ہے:﴿ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹)﴾(پ۴،آل عمران:۱۶۹)(ترجمۂ کنزالایمان:وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔)جبکہ دوسرے مسلمان قیامت کے دن حساب وکتاب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔دوسرا یہ کہ شہدا قیامت کے دن مقربین کے ساتھ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور ان سے کوئی حساب وکتاب نہیں ہوگا اور شہادت ان کے گناہوں کا کفارہ ہوگی کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ ”راہِ خدا میں شہید ہونے والے کا ہر گناہ مٹا دیاجاتا ہےسوائے قرض کے ۔“محشرمیں فضیلت کا اِظہار:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث پاک میں ہے کہ شہید قیامت کے دن اسی حال میں آئے گا جس حال میں شہید ہوا تھا، اس میں حکمت یہ ہے کہ طاعتِ الٰہی میں جان قربان کرنے والے کی فضیلت دوسروں کو معلوم ہواور اس کا بہتا ہوا زخم ظالم کے خلاف گواہ ہواورمیدانِ محشر میں شہید کے زخم سے مشک کی پاکیزہ خوشبو آنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اہلِ محشر کےسامنے اس کی فضیلت ظاہر ہوگی۔“حدیثِ مذکور سے ماخوذفوائد و مسائل:(1)حدیثِ مذکور میں جہاد اور راہِ خدامیں شہید ہونے کی فضیلت کابیان ہے۔(2) اچھی نیت کی ترغیب ہے ۔(3)حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اپنی اُمَّت پر شفقت اور نرمی کا بیان ہے۔(4)راہِ خدا میں شہادت طلب کرنامستحب ہے۔(5)جس نیکی کا حُصُول بظاہرممکن نظر نہ آتا ہو اس کے حُصُول کی نیت بھی کی جا سکتی ہے کیونکہ ”مومن کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے۔“(6)جب دو مصلحتوں میں تعارض ہوتو اہم یاراجح مصلحت اختیار کی جائے ،یونہی فساد کی وجہ سے کسی مصلحت کو ترک کیا جاسکتا ہے۔ (7) حدیثِ مذکور میں شہادت کی تمنا کا جواز اور اس پراجرِعظیم کا بیان ہے۔(8)غنیمت لینے سے اجر میں کوئی کمی نہیں آتی کیونکہ یہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا فضل ہے ۔(9)مسلمانوں سے تکلیف اور مشقت دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔(10)باغیوں کے خلاف جنگ کرنایااَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرکے لیے لڑنا بھی راہِ خدا میں شامل ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1294