Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1344

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَا مِنْ غَازِيَةٍ اَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُوْ فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ اِلَّا كَانُوْا قَدْ تَعَجَّلُوْا ثُلُثَيْ اُجُو رِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ اَوْ سَرِ يَّةٍ تُخْفِقُ وتُصَابُ اِلَّا تَمَّ اُجُوْرُهُمْ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما من غازية او سرية تغزو فتغنم وتسلم الا كانوا قد تعجلوا ثلثي اجو رهم وما من غازية او سر ية تخفق وتصاب الا تم اجورهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”جہاد کرنے والی بڑی یا چھوٹی جماعت جو جہاد کرے پھر غنیمت پائے اور سلامت رہے توانہوں نے اپنے اجر کادوتہائی دنیا میں پالیا اورجہاد کرنے والی وہ بڑی یا چھوٹی جماعت جو ناکام رہےاور اسے (زخم یا شہادت کی صورت میں)تکلیف پہنچے توان کے لئے پورا اجرہے ۔“

شرح حدیث

جہاد میں تین نعمتیں:مرآۃ المناجیح میں ہے:” جہاد میں ربّ کی طرف سے تین نعمتیں ملتی ہیں،سلامتی ،غنیمت،ثواب و اجر ۔پہلی دو نعمتیں دنیا میں اور آخری نعمت ثواب و اجر آخرت میں۔غنیمت اور سلامتی کو اجر فرمانا اس لیے ہے کہ غزوہ میں یہ بھی رب تعالیٰ کا عطیہ ہوتا ہے ورنہ غازی کا جہاد سلامتی اور غنیمت کے لیے نہیں ہوتا وہ تو صرفاِعْلاءِکَلِمَۃُ اﷲکے لیے جہادکرتا ہے۔‘‘جہاد میں اجر حاصل کرنے والوں کی چار اقسام:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جس نے کفار سے جہاد کیا پھر غنیمت حاصل کرکے صحیح سلامت لوٹا تو اس نے سلامتی اور غنیمت کی صورت میں دو تہائی ثواب دنیا میں حاصل کرلیا باقی رہا ایک تہائی جہاد کے ارادے اور دین اسلام کی نصرت کا ثواب تویہ اسے آخرت میں ملے گا۔جو شخص بغیر غنیمت حاصل کئے شہید ہوجائے تو اسے اس کا پورا اجروثواب ملے گا کیونکہ اسے دنیا میں کچھ نہ ملا۔باقی پھر دو قسم کے لوگ رہ گئے ۔ایک وہ جو جہاد سے صحیح سلامت لوٹا لیکن اسے غنیمت نہیں ملی تو اس نے ایک تہائی ثواب دنیا میں حاصل کرلیااور باقی دو تہائی آخرت میں ملےگااور دوسرا وہ جو زخمی ہوکر واپس لوٹا تو اسےاس کے زخموں کے مطابق اجروثواب دیا جائے گا۔“مدنی گلدستہ’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6 مدنی پھول
(1) جو مجاہد غنیمت حاصل کئے بغیر شہید ہوجائےاسے جہاد کاپوراپورااجر دیاجائے گا۔
(2)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کے ذریعے بندوں کی خوشنودی کا ارادہ کرناریا ہے۔
(3) رضا ئے الٰہیکے لئے کفار کو اپنی شجاعت دکھانا، ان کے مقابلے میں اپنی شان و بہادری بیان کرنا عبادت ہے ۔
(4) جو جہاد سے صحیح سلامت لوٹا لیکن اسے غنیمت نہیں ملی تو اس نےجہادکا ایک تہائی اجر دنیا میں حاصل کرلیااور باقی دو تہائی آخرت میں ملےگا۔
(5) مجاہد کو جہاد میں ربّ تعالیٰ کی طرف سے تین نعمتیں ملتی ہیں:(1)سلامتی (2)غنیمت اور (3)اجر وثواب۔پہلی دو نعمتیں دنیا میں اورتیسری نعمت آخرت میں۔
(6) مجاہدین کا وہ لشکر جس میں چارسو افراد ہوں سریہ کہلاتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فقط اپنی رضا کے لئے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،ریا کاری جیسی مہلک بیماری سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1344