Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1334

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا اَوْ فَقَد عَصٰى.

عن عقبة بن عامر الجهني رضي اﷲ عنہ انه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من علم الرمي ثم تركه فليس منا او فقد عصى.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عقبہ بن عامرجہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جو تیر اندازی سیکھےپھر اسے چھوڑ دے تووہ ہم میں سے نہیں یا(فرمایا:) اس نے نافرمانی کی۔“

شرح حدیث

کُفرانِ نعمت:”جو تیر اندازی سیکھے پھر چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی ہم سے ملا ہوا نہیں ،ہم سے قریب نہیں یااس جماعت سے نہیں جن سے ہم راضی ہیں کیونکہ اس نے کُفرانِ نعمت کیا ہے کہ تیر اندازی جیسی عبادت سیکھ کر بُھلا دی ہرعبادت کا یہی حال ہے کہ اسے حاصل کرکے سُستی سے بھلا دیا۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حدیثِ مذکور میں تیر اندازی سیکھنے کے بعداسےترک کر دینے کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے،تیر اندازی سیکھنے کے بعداسے بِلا عذر چھوڑدینا شدید مکروہ ہے۔“عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر مَکِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے بے رغبتی سے یوں چھوڑ دینا کہ دشمن کا غلبہ ہوجائے اور اہلِ اسلام کو حقیر جانا جائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں:”تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دینا گویا اسےحقیر اور ہلکا جاننا ہے اور یہ ایک بڑی نعمت کی ناقدری ہے لہٰذا یہ شدید مکروہ ہےاور اسی وجہ سے اس بارے میں شدید وعید مذکور ہوئی ہے ۔“مدنی گلدستہ’’مجاہد‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جہاد کی تیاری عبادت اور عبادت کے اسباب جمع کرنا بھی عبادت ہےاور گناہ کے اسباب جمع کرنا گناہ ہےجیسے فرض حج کے لیے سفر کرنا فرض ہے اور چوری کے لیے سفر کرنا حرام ہے۔
(2) کافروں کے دل میں رعب ڈالنے کے لیے غازی اپنی سفید داڑھی کو سیاہ کرسکتا ہے ورنہ ویسے سیاہ خضاب ناجائز وگناہ ہے۔
(3) قرآنِ پاک میں کفار کے مقابلے میں جو قوت تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مرادہروہ چیز ہے جس سے جنگ میں طاقت حاصل کی جائےمثلاً آج کے دور میں ٹینک،جنگی طیارے،طیارہ شکن توپیں، آب دوزیں اور ایٹمی اسلحہ وغیرہ۔
(4) بچوں کو ایسے کھیل کھلائے جائیں جو کھیل بھی ہوں اور ہنر بھی جیسے گُھڑ دوڑ اور نشانہ بازی وغیرہ ۔
(5) جس علم و ہنرسے دِین ومِلَّت کو فائدہ ہوتا ہو اسے سیکھ کر چھوڑ دینا قابلِ مذمت ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں جہاد کےلیے ہروقت تیار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1334