Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1345

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی اُمَامَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا قَالَ :يَارَسُوْلَ اللَّهِ ائذَنْ لِی فِی السِّيَاحَةِ.فَقالَ النَّبِيُّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم :اِنَّ سِيَاحَةَ اُمَّتي الْجِهَادُ فِی سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عن ابی امامةرضي الله عنه ان رجلا قال :يارسول الله ائذن لی فی السياحة.فقال النبي صلى الله عليه وسلم :ان سياحة امتي الجهاد فی سبيل الله عز وجل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو امامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے سیرو سیاحت کی اجازت عطافرمائیے۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”میری اُمَّت کی سیر وسیاحت راہِ خدا میں جہاد کرنا ہے ۔“

شرح حدیث

جہاد کو سیاحت کہنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں:”زمین میں گھومنا اور وطن سے دوری اختیار کرنا سیاحت ہے ۔راہِ خدا میں جہاد کو سیاحت کہنا اس وجہ سے ہے کہ جس طرح حضرت سَیِّدُنَا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکی شریعت میں سیاحت مطلوب تھی اسی طرح جہاد اسلام میں مطلوب ہے اور اس کا ثواب نہ صرف اُس سیاحت کے برابر ہے بلکہ اس سے زیادہ ہے۔“شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یعنی میری امت کی سیاحت راہِ خدا میں جہاد کے لیے نکلنے اور کفار سے جنگ کرنے میں ہے ۔جہاد کی نیت سے زمین میں گھومنا پھرنا محمود ومستحسن ہے اس کے بغیر فضول اور لایعنی ہے جیساکہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ”اسلام میں سیاحت نہیں ہے۔“جہاد کی افضلیت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”بنی اسرائیل کے عبادت گزاروں کی طرح شہروں سے جُدائی اختیار کرنا اور زمین میں گھومنا پھرنا سیاحت ہے۔یہ بات اکابِر صوفیا کی اُس سیاحت کے مُنافی نہیں ہے جو وہ مشائخ کی زیارت،عُلُوم ومَعارِف کی تحصیل ،گوشہ نشینی کے حصول اور اِن کے علاوہ اُن مقاصد کی خاطر کرتے تھے جو شریعتِ محمدیہ میں پسندیدہ ہیں۔جہاد چونکہ نفس پر شاق ہے ،اس کا نفع دوسروں کو پہنچتا ہےاور یہ جہادِ اصغر اور اکبر دونوں کو شامل ہے لہٰذا یہ افضل ہے۔ “

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1345