Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1300

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ اَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ان في الجنة مائة درجة اعدها الله للمجاهدين في سبيل الله ما بين الدرجتين كما بين السماء والارض.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جنت میں سو درجے ہیں جن کواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے راہ ِخدا میں جہادکرنےوالوں کے لئے تیار کیاہے اوردو درجوں کے درمیان آسمان وزمین جتنا فاصلہ ہے۔“

شرح حدیث

جنت کے بہت سے درجات ہیں:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اہلِ ایمان نمازی اور روزے دار ضرور جنت میں داخل ہوں گے اور دوزخ کی آگ سے نجات پائیں گے لیکن جنت کے بہت سے دوسرےدرجات اور فضائل ہیں جو جہاد اور راہِ خدا میں شہادت سے حاصل ہوتے ہیں ،لہٰذا جہاد کے ذریعے انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرو۔“مجاہدین سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ترمذی میں ہے کہ(جنت کا) ہر درجہ اتنا وسیع ہے کہ ان میں سے ایک درجہ میں عالمین جمع ہوجائیں تو سب کو کافی ہوجاوے۔(یہاں)مجاہدین سے مراد نمازی حاجی اورنفس سے مجاہدہ کرنے والے سب ہی ہیں بشرطیکہ یہ کام رضائے الٰہی کے لیے ہوں جیسا کہفِیْ سَبِیْلِ اﷲسے معلوم ہوا۔(زمین وآسمان کے درمیان ) پانچ سو سال کی راہ یہ سو درجےمجاہدینفِیْ سَبِیْلِ اﷲکے لیے خاص ہیں لہٰذا مجاہدہ کرو تاکہ یہ درجہ پاؤ۔ “

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1300