Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1330

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُر يْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِی سَبِيْلِ اللَّهِ اِيْمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيْقًا بِوَعْدِهِ فَاِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ ورَوْثَهُ وَبَـوْلَهُ فِيْ مِيْزَانِهِ يومَ الْقِيامَةِ.

عن ابي هر يرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من احتبس فرسا فی سبيل الله ايمانا بالله وتصديقا بوعده فان شبعه وريه وروثه وبـوله في ميزانه يوم القيامة.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے راہِ خدامیںاﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے گھوڑا تیار رکھا توبے شک بروزِقیامت گھوڑے کا چارہ ، لیدا ورپیشاب بندے کے میزان میں تولہ جائے گا۔ “

شرح حدیث

ثواب نیت پر موقوف ہے:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جو کوئی اپنے لیے گھوڑا روک رکھتا ہے تاکہ دشمن کے مقابلہ کی جب بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑے وہاں اس گھوڑے سے کام لیا جائے گا کیونکہاﷲتعالیٰ فرماتا ہے تم دشمن کے مقابلہ کے لیے قوت اور گھوڑے تیار رکھو!اس طرح تماﷲکے دشمن اور اپنے دشمن کو مرعوب کرسکو گے تو اس گھوڑے کے پیشاب اور لید وغیرہ کے برابر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔ گھوڑے کاکھانا ،پینا اور بول وبراز بِعَیْنہا(یعنی خاص ان)کا وزن نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے ذرات کے برابر حصولِ ثواب مقصود ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ثواب نیت پر موقوف ہے۔“
شارِحِ بخاری علّامہ سیدمحمود احمد رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جو گھوڑا جہاد کے لیے پالا جائے اسی طرح فی زمانہ آلاتِ حَرب وضَرب (جنگی آلات)جو جنگ میں کام آتے ہیں اور جہادفِیْ سَبِیْلِ اﷲکے لیے استعمال ہوتے ہیں سب کے سب باعثِ برکت وثواب ہیں جو یہ جدید ہتھیار اس لیے بناتے ہیں کہ ان کے ذریعے ملک وملت کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کا کام لیا جائے گا وہ بھی کارِ ثواب اور باعثِ رحمت وبرکت ہیں۔جس نے رضاء ِ الٰہی ،دین کی سربلندی کے لیے ایمان اِحتساب (یعنی ثواب)کی نیت سے گھوڑا رکھا تو اس کے فُضلات قیامت کے دن تولے جائیں گےتو اس کا ثواب بھی عطا ہوگا ۔“حدیث سے ماخوذ چندمسائل و فوائد:اِمَام اَبُو مُحَمَّد بْنِ اَبو جَمْرۃ اَنْدَلُسِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں :(1) باعثِ فضیلت وہی گھوڑا ہے جو دشمنانِ اِسلام سے جہاد کے لئےفقط رضائے الٰہی کےلئے پالا جائے۔(2)اﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانے پر مطلب یہ ہے کہ بندے کو یہ یقین ہو کہاﷲعَزَّ وَجَلَّہی عبادت کامستحق ہے اور اس کا یہ فعل صرفاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا جوئی کے لیے ہے اور اس کے وعدے کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ بندے نے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاﷲعَزَّ وَجَلَّکے اِحسانات اور نیک اعمال پر اجر وثواب عطا فرمانے کے متعلق جو کچھ سنا ہے اس میں کوئی شک نہ ہو۔(3)اس حدیث میں میزان کی حقیقت کا بیان اور اس کے وجود کی دلیل ہے کہ بروزِقیامت میزان قائم ہوگا اور اس میں ا عمال کا وزن کیا جائے گا۔(4)بروزِ قیامت نیکیوں کا وجود ہوگا، نیکیاں وزنی اور دِکھنے ومعلوم ہونے والی ہوں گی اور وہاں نیکیوں میں وزن حُسنِ نیت کے اعتبار سے ہوگا ایک حدیثِ پاک میں یوں ہے کہ ”اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کا اجر اس کی نیت کے مطابق عطا فرمائے گا ۔“(5) نیکیاں کئی طرح کی ہوتی ہیں کچھ وہ جو مقبول ہوتی ہیں اورباقی رہتی ہیں،کچھ وہ جو قبول نہیں کی جاتیں، بعض وہ جوان مظلوموں کو دے دی جائیں گی جن کےحقوق نیکیاں کرنے والوں کے ذمہ تھے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1330