Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1348

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ اُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ لَّم يغْزُ اَوْ يُجهِّزْ غَازِيًا اَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِی اَهْلِهِ بِخَيْرٍ اَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يوْمِ الْقِيَامَةِ.

عن ابی امامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:من لم يغز او يجهز غازيا او يخلف غازيا فی اهله بخير اصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو امامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” جس نےنہ جہاد کیا نہ کسی غازی کو سامان دیااورنہ غازی کے پیچھے اس کے گھر والوں کے ساتھ بھلائی کی تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس پر قیامت سے پہلے ایک بڑی مصیبت لائے گا۔“

شرح حدیث

اس وعید کے مستحق کون ہیں؟مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی جو شخص یا جو لوگ ان تینوں نعمتوں سے محروم رہے نہ جہاد کرے نہ مجاہد کو سامان دے نہ مجاہد کے بیوی،بچوں کی خدمت کرے۔غالبًا رُوئے سخن ان لوگوں سے ہے جن کے زمانہ میں جہاد ہو اور وہ یہ تینوں کام نہ کرے اور اگر کسی کو جہاد دیکھنا نصیب ہی نہ ہو وہ اس حکم سے علیٰحدہ رہے۔“مجاہدین کے گھر والوں سے بھلائی کرنے کی وضاحت:”جو مجاہد کو سامان مہیاکرےاوراس کے گھر والوں کے ساتھ بھلائی کرے۔“”(یعنی) اس کے لئے سفر کے کپڑے اور دیگر ضروریات کا سامان مہیا کرے تاکہ اس کو سفر میں تکلیف نہ ہو اور لڑائی کے لیے ضروری سامان بھی مہیا کرے اور اس کےبال بچوں کی دیکھ بھال کرے اور ان کو ضروریاتِ زندگی مہیا کرتا رہے اور اس کی بیوی سے خیانت نہ کرے۔“زندگی بھر جہاد کا ارادہ رکھے:علامہ ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْبَارِیفرماتے ہیں:”جس نےپوری زندگی نہ کبھی جہاد کیا اور نہ یہ خواہش رکھی کہ کاش! میں غازی ہوتا اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرتا اور شہید ہوتا پھر اسی حالت میں مرگیا تو منافقت کے ایک حصے پر مرا۔مطلب یہ ہے کہ ہر وقت جہا د کی نیت رکھےاور آلاتِ جہاد اور دیگر سازوسامان تیار رکھے ۔“ترکِ جہاد کا وبال:(1)حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو قوم جہاد چھوڑدیتی ہےاﷲعَزَّوَجَلَّان میں عذاب عام کردیتا ہے۔“(2)رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ”جب تم گائےکی دُمیں پکڑے کاشتکاری میں پڑجاؤگےاورجہادچھوڑ بیٹھوگےتواﷲعَزَّوَجَلَّتم پرذِلَّت و رُسوائی مُسَلَّط فرمادے گا اور اس سےتمہیں نہیںنکالےگا حتّٰی کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1348