Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1336

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَلَمةَ بْنِ الْاَ كْوَ عِ رَضِيَ اﷲ عَنْهُ قَالَ:مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم عَلٰی نَفَرٍ يَنْتَضِلُوْنَ فَقَالَ: ارْمُوا بَنِيْ اِسْمَاعِيْلَ فَاِنَّ اَبَا كُمْ كَانَ رَامِيًا.

عن سلمة بن الا كو ع رضي اﷲ عنه قال:مر النبي صلى الله عليه وسلم علی نفر ينتضلون فقال: ارموا بني اسماعيل فان ابا كم كان راميا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سَلَمہ بن اکوعرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے ،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اے اولادِ اسماعیل !تیر اندازی کرو !تمہارےوالد(حضرت اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَام)بھی تیر اندازتھے ۔“

شرح حدیث

مرآ ۃ المناجیح میں ہے:”یعنی اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَامتیر اندازی میں کمال رکھتے تھے تم ان کی اولاد ہو تم بھی اس میں کمال پیدا کرو تمہارے باپ کی میراث ہے۔“تمام عرب اولادِ اسماعیل ہیں:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حضرت سَیِّدُنا علی بن رباحرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”تمام عرب حضرت اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَامکی اولاد ہیں۔“حضرت سَیِّدُنا امام مکحولرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ رسول پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”چار قبائل کے سوا تمام عرب حضرت اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَامکی اولاد ہیں اوروہ چار قبائل سلف،اوزاع،حضرموت اور ثقیف ہیں۔“اہلِ انساب میں سے جس نے یہ کہا ہے کہ اہلِ یمن حضرت اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَامکی اولاد ہیں اور قبیلہ اسلم قحطان سے ہے تو یہ حدیث اس قائل کی تائید کرتی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دادا پر باپ کا اطلاق درست ہے اگرچہ وہ جدِّاعلیٰ ہی کیوں نہ ہونیز معلوم ہوا کہ سلطانِ اسلام لوگوں کو گُھڑ سواری سیکھنے کا حکم دےاور اس کی ترغیب دلائے بالخصوص تیراندازی کی۔ایک حدیث میں ہے جو کوئی عربی کمان اور ترکش اپنے پاس رکھےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس سے محتاجی دور کردیتا ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1336