Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1288

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَغَدْوَةٌ في سَبِيْلِ اللهِ اَوْرَوْحَةٌ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا.

عن انس رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:لغدوة في سبيل الله اوروحة خير من الدنيا وما فيها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صبح یا شام گزارنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔“

شرح حدیث

دنیا کی نعمتوں سے افضل:تفہیم البخاری میں ہے:”مقصد یہ ہےکہ آخرت میں تھوڑا سا وقت اور چھوٹاسا مکان دنیا میں طویل زمانہ اور بہت بڑے مکان سے بدرجہا بہتر افضل ہے۔ اس سے دنیا میں عدمِ رغبت دلانا مقصود ہے اور جہاد کی ترغیب دلانا ہے کیونکہاﷲتعالیٰ مجاہد کو تھوڑا سا جہاد کرنے کے عوض آخرت میں اجرِ عظیم عطا فرماتا ہے تو جو شخص جہاد میں اپنی جان ومال صَرف کردے اس کے اجرو ثواب کی کوئی حد نہیں ۔بعض علما نے یہ معنیٰ بھی ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی ساری دنیا کا مالک ہوجائے اور جہاد کے سوا دنیا کی ہر شےاﷲکی راہ میں خرچ کردے تووہ تھوڑا سا جہاد کرنے کو نہیں پہنچ سکتا اور جہاد میں تھوڑا چلنے سے جو ثواب حاصل ہوتا ہے وہ دنیا کی ہر شےاﷲکی راہ میں خرچ کردینے سے افضل ہے یعنیاﷲکی راہ میں ہر قدم دنیا کی نعمتوں سے افضل ہے۔“
دلیل الفالحین میں ہے :”یہ ثواب
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صبح یا شام میں سے ہر ایک پر مُرتَّب ہوتا ہے اور اَحادیث میں وارد ہوا کہ جنت کا کم سے کم درجہ جسے ملے گا وہ دنیا سے دس گُنا زیادہ ہو گا، پھر درمیانی درجے کا کیا مقام ہوگا پھر اِس اعتبار سے سب سے اعلیٰ مرتبہ کا کیا کہنا۔دنیا اورثوابِ آخرت کے درمیان فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت ہوتی ہے اور وہ اسے اچھا سمجھتے ہیں ورنہ دنیا اور آخرت کے عظیم ثواب کے درمیان کوئی مناسبت نہیں کیونکہ ثواب باقی رہنے والا اور دنیا فانی ہے۔حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہماری حالت کا اعتبار کرتے ہوئے مثال بیان فرمائی ۔ “

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1288