Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1309

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ اِلَى بَنِيْ لَحْيَانَ فَقَالَ : لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ اَحَدُهُمَا وَالْاَجْرُ بَيْنَهُمَا.وَفِيْ رَوَايَةٍ لَهُ: لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ:اَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِيْ اَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ اَجْرِ الخَارِجِ.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث الى بني لحيان فقال : لينبعث من كل رجلين احدهما والاجر بينهما.وفي رواية له: ليخرج من كل رجلين رجل ثم قال للقاعد:ايكم خلف الخارج في اهله وماله بخير كان له مثل نصف اجر الخارج.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بنولَحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا تو فرمایا:”دو آدمیوں میں سے ایک جہاد کے لیے جائے اور ثواب دونوں کو ملے گا۔“مسلم کی ایک روایت میں ہے :”دو مَردوں میں سے ایک جہاد کے لیے جائے پھر پیچھے رہ جانے والے سے فرمایا:”تم میں سے جو جہاد میں جانے والے کے گھر اور مال کی اچھی طرح نگہبانی کرے گا اُس کے لیے جہاد پر جانے والے سے نصف ثواب ہے۔“

شرح حدیث

مجاہدکے اہل وعیال کی نگہبانی کرنے والے کی فضیلت:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”( دو میں سے ایک جہاد کے لئے جائے )یعنی گھر کے سارے آدمی لشکر میں نہ جائیں،باپ بیٹے،بھائی،چچا بھتیجے میں سے ایک شخص تو جہاد میں جائے دوسرا شخص گھر میں رہ کر اسے سنبھالے،نفسِ ثواب مشترک ہوگا۔معلوم ہوا کہ مجاہد کا خلیفہ(یعنی اس کے اہل و عیال کی نگہبانی کرنے والا) مجاہد کے ثواب میں شریک ہوتا ہے۔ “عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”دو مَردوں میں سے ایک مَرد جہاد کے لیے جائے یعنی ہر قبیلے کے آدھے لوگ جہاد پر جائیں ۔“مدنی گلدستہ’’طیبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مجاہد کے اہلِ خانہ کے ساتھ بھلائی کرنے والے کومجاہد کی طرح ثواب ملتاہے ،اگرچہ وہ حقیقۃً جہاد میں شریک نہیں ہوتا۔
(2) نیکی پرمدد واِعانت کرنے والے کو نیکی کرنے والےکی طرح ثواب ملتاہے۔
(3) جومال رضائے الٰہی والے کاموں میں خرچ نہ ہو اس میں برکت نہیں ہوتی ۔
(4) نیکی کےکام میں مال خرچ کی نیت کی پھر کسی مجبوری سے وہ کام نہ کر سکا تو مستحب ہے کہ وہ مال کسی دوسرے نیک کام میں خرچ کر دے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں خرچ کرنے، دِینِ اسلام کی سر بلندی کے لئے جہاد کرنے ، مجاہدین کی معاونت کرنےاور ان کےاہل وعیال کے ساتھ بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1309