Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1350

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِْ اَبِیْ عَمْروٍ وَیُقَالُ اَبُوْحَکِیْمٍ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:شَهِدْتُّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا لَمْ يُقَاتِلْ مِنْ اَ وَّلِ النَّهَارِ اَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُوْلَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّ يَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ .

عن ابی عمرو ویقال ابوحکیم النعمان بن مقرن رضي الله عنه قال:شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا لم يقاتل من ا ول النهار اخر القتال حتى تزول الشمس وتهب الر ياح وينزل النصر .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوعَمرو ابوحکیم بھی کہا جاتاہےنعمان بن مُقَرِّنرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےساتھ جہاد میں شریک رہا ،آپ اگر دن کے ابتدائی وقت میں لڑائی شروع نہ کرتے توانتظار فرماتے یہاں تک کہ دن ڈھل جاتا ،ہوائیں چل پڑتیں اور مدد اترتی۔“

شرح حدیث

لڑائی کو سورج ڈھلنے تک مُؤخر کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملڑائی کو سورج ڈھلنے تک اس لیے مؤخر فرماتے کہ اس وقت رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں ،موسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے،لڑنے والوں کو اسلحہ سےلیس ہونا آسان ہوجاتاہے، گھوڑوں پر سامنے سے حملہ کرنے اور پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے میں دشواری نہیں ہوتی اور اس مدد کے ساتھ تائیدِ الٰہی بھی شامل ہوجاتی ہے ۔“
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”چونکہ بیچ دوپہری میں کفار سورج کی پوجا کرتے ہیں اس لئے اس وقت نماز نہیں ہے اور حضور اس وقت جہاد بھی نہ کرتے تھے،سورج ڈھلے سورج کی پوجا ختم ہوجاتی ہے،نماز ظہر پڑھنے لگتے ہیں نمازیوں کے لئے دعائیں شروع ہوجاتی ہیں،دوپہری کی شدت جاتی رہتی ہے،قدرے ٹھنڈی ہوا بھی چلنے لگتی ہے اس لیے حضور (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اس وقت جہاد فرماتے تھے۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں: ”سورج ڈھلنے کے بعدجنگ کرنے میں حکمت یہ ہےکہ جب سورج ڈھل جاتاہے تو ایسی ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں جو جنگ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں اورٹھنڈےوقت اور ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے جنگ لڑنا آسان ہو جاتاہے کیونکہ جب جنگ میں گرمی آتی ہے تولڑنےوالوں کی حرکت اور اسلحہ کی وجہ سے گرمی اور حرارت مزید بڑھ جاتی ہے پھرجب شام کو ہوا چلتی ہے تو گرمی کو ٹھنڈاکر دیتی ہے ،لڑنے والوں کو فرحت وتازگی دیتی ہے اور ان کے جسموں کو ہلکا کر دیتی ہے بخلاف گرمی کی شدت کے وقت۔“جنگ کی ابتدا حکمتِ عملی سے کی جائے :شارِحِ بخاری علامہ سیدمحموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے کفار سے جہاد میں انتظار فرمایا حتّٰی کہ سورج ڈھل گیا ۔یہ کوئی ضروری ضابطہ نہیں ہے کہ ایسا ضرور کیا جائے بلکہ مقصود یہ ہے کہ فوج کے کمانڈر کو حالات کے مطابق جنگ کی ابتدا کرنی چاہیےاور ایسی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں کہ کھلے میدان میں موسمِ گرما میں مجاہدوں کو سورج کی سخت وشدید گرمی اور دیگر تکلیف دہ اُمور سے محفوظ رکھا جائے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1350