Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1349

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ:جَاهِدُواالْمُشْرِكِيْنَ بِاَمْوالِكُمْ واَنْفُسِكُمْ واَلْسِنَتِكُمْ .

عن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:جاهدواالمشركين باموالكم وانفسكم والسنتكم .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مشرکوں سے اپنے مال ، جان اور زبان سے جہاد کرو۔“

شرح حدیث

مال،جان اور زبان سے جہاد کی وضاحت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مشرکوں سے اپنے مال کے ذریعے جہاد کرو اس طرح کہ مجاہدین کی تیاری اورجنگی سازوسامان مثلاً گھوڑوں اور ہتھیاروں پر مال خرچ کرو۔ جان سے یوں کہ تم ان سے لڑائی کرو اور زبان سےاس طرح کہ ان کے کفر پر انہیں زبانی چوٹ پہنچاؤ اور انہیں شرک سے ڈراؤیا ان کی گمراہی پر دلیل قائم کرو اور ان کے اعمال کا باطل ہونا بیان کرو۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:”مشرکین سے مراد کفارِ حَربی ہیں خواہ عرب کے ہوں یا عجم کے اور جہاد خواہ محترم مہینہ میں ہو یا ان کے علاوہ۔خیال رہے کہ کفارِعرب سے جزیہ قبول نہیں،صرف اسلام ہی ان کے لیے ذریعۂ امان ہے اور کفارِ عجم سے جزیہ بھی قبول ہے کہ وہ ہمارے رعایا بن کر رہیں،ہم کو حقِ حفاظت میں جزیہ دیں اور ہمارے ملک میں امان سے رہیں،نیز جہاد کے لیے یہ لازم نہیں کہ کفار ابتداکریں،ہم مسلمان مُدافعانہ اور جارحانہ ہر طرح کا جہاد کر سکتے ہیں،ربّ تعالیٰ فرماتاہے:
﴿ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةًؕ-﴾(پ۱۰، التوبۃ:۳۶)(ترجمۂ کنز الایمان:مشرکوں سے ہر وقت لڑوجیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں)اس آیت اور اس حدیث نے ترکِ جہاد اور نرمی کی تمام آیات اور اَحادیث کو منسوخ فرمادیا چنانچہ آیت:﴿ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْؕ-﴾(پ۲، البقرۃ:۱۹۱)(ترجمۂ کنزالایمان: اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو۔)بھی منسوخ ہے۔ جان کا جہاد تو مشہور ہے میدانِ جنگ میں شمشیر یا تدبیر سے جنگ۔مال کا جہاد،غازیوں کو سامان دینا۔زبان کا جہاد کفار کی زبانی قلمی تردید دلائل سے کرنا،ان کی شکست کی دعا کرنا،انہیں ڈرانا دھمکانا۔ “کفار کی ہجو زبان سے جہاد ہے:عَلَّامَہ عَبْدُ الْعَظِیْم مُنْذِرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” ممکن ہے یہاں زبان سے جہاد کرنے سے مراد کفار کی برائیاں بیان کرنا ہو جیساکہ حدیث پاک سے بھی اس کی تائید ہوتی ہےکہ حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کفار کی ہجوکرنا(یعنی اَشعار میں ان کی برائی بیان کرنا) ان کے لیے نیزے کی مار سے زیادہ سخت ہے۔“یہ بھی احتمال ہے کہ زبان سے جہاد کرنے سے مرادلوگوں کو جہادپر ابھارنا،اس کی ترغیب دلانا اور اس کے فضائل بیان کرنا ہو۔“مدنی گلدستہ’’طیبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کفار ومشرکین کے خلاف ہر طرح سے جہاد کرنے کا حکم ہے مال خرچ کر کے ،زبان سے انہیں للکارکران کی برائیاں بیان کر کے اورمیدانِ جنگ میں اپنی جان ہتھیلی پر لےکر۔
(2) کفار کے دلائل کی تردید کرنا،ان کی شکست کی دعا کرنا، ڈرانا دھمکانا،ہجو کرنا،لوگوں کو جہادپر اُبھارنا، اس کی ترغیب دلانا اور اس کے فضائل بیان کرنایہ سب چیزیں زبان سے جہاد کرنے میں داخل ہیں۔
(3) کفارِعرب سے جزیہ قبول نہیں،صرف اسلام ہی ان کے لیے ذریعۂ امان ہے اورکفارِ عجم سے جزیہ بھی قبول ہے کہ وہ ہمارے رعایا بن کر رہیں،ہم کو حقِ حفاظت میں جزیہ دیں اور ہمارے ملک میں امان سے رہیں۔
(4) جہاد کے لیے کفارکاابتداکرنا ضروری نہیں بلکہ مسلمان مدافعانہ اور جارحانہ ہر طرح کا جہاد کر سکتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی جان،مال اور زبان سے جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1349