Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1314

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ:اَيْنَ اَنَا يَارَسُوْلَ اللهِ اِنْ قُتِلْتُ؟ قَالَ: فِي الْجَنَّةِ فَاَلْقٰى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِيْ يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتّٰى قُتِلَ.

عن جابر رضي الله عنه قال:قال رجل:اين انا يارسول الله ان قتلت؟ قال: في الجنة فالقى تمرات كن في يده ثم قاتل حتى قتل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک شخص نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی : یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں شہید ہوجاؤں تو کہاں ہوں گا؟ارشاد فرمایا: ”جنت میں۔“ یہ سنا تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں پھینک دیں پھر جہاد کرنے لگا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔“

شرح حدیث

شہید ہونے والےشخص کا نام:تفہیم البخاری میں ہے:”اُسُدُ الْغَابَہمیں ذکر کیا کہ یہ شخص عمیر انصاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھےجو بدر کی جنگ میں شہید ہوئے اور اِسلام میں سب سے پہلے انہیں شرفِ شہادت نصیب ہوا۔ابنِ اسحاقصاحب الْمَغازِینے بھی اس طرح ذکر کیا ہے لیکن ابنِ بشکوال نے کہا:یہ شخص عمیر بن حمام ابنِ جموح انصاری ہے۔“خاتمہ بالخیر کی نوید:”اگر میں شہید ہوجاؤں تو کہاں ہوں گا؟ارشاد فرمایا:جنت میں۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی جنت کے اس اعلیٰ مقام میں جو شہیدوں کے لیے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس بزرگ کا خاتمہ بالخیر ہونے والا تھا اور تمام گناہوں کی معافی اس کے نصیب میں تھی شہادت اس کے مقدر ہوچکی تھی اس لیے یہ جواب عطا ہوا۔معنی یہ ہیں تو شہید ہوتے ہی جنت میں پہنچے گا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1314