Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1291

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَ اِنْ مَاتَ جَرَىٰ عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ وَاُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَاَمِنَ الفَتَّانَ.

عن سلمان رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:رباط يوم وليلة خير من صيام شهر وقيامه و ان مات جرى عليه عمله الذي كان يعمل واجري عليه رزقه وامن الفتان.

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُناسَلمان فارِسىرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ میں نےحضورپُرنور،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ ارشادفرماتےہوئے سنا:”اىک دن اور ایک رات راہِ خدا مىں اسلامی سرحد پر پہرا دینا ایک مہینہ دن بھر روزہ رکھ کر رات کو عبادت کرنے سےافضل ہےاور اگر وہ اسی حالت میں مرجائے تو اس کا وہ نیک عمل اور رزق جاری رہے گااور وہ قبر کے فتنےسے امن میں رہے گا۔ “

شرح حدیث

منکر نکیر،شیطان اور دجال کے فتنوں سے حفاظت:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:سُبْحَانَ اﷲ! کیا کرم نوازی ہےکہ مُرابِط (اسلامی سرحد پر پہرا دینے والا)جو جو نیکیاں زندگی میں کرتا تھا ان سب کا ثواب قیامت تک اسے پہنچتا رہتا ہے اس کا ہر عمل جاری بن جاتا ہے۔ شہید کی طرح اسے بھی قبر میں ہمیشہ جنتی رزق ملتا رہے گا۔مُرابِط بڑے فتنہ سے یا فتنہ گری سے محفوظ رہے گا یا محفوظ رکھا جائے گا،بڑے فتنہ سے مراد حسابِ قبر کا فتنہ و آزمائش ہے اور فتنہ گری یعنی آزمائش کرنے والوں سے مراد عذاب کے فرشتے،منکر نکیر یا دجال اور شیطان ہیں۔مُرابِط حسابِ قبر عذابِ قبر سے بھی محفوظ ہے،دوزخ کی آگ اور وہاں کے ملائکہ کے عذاب سے امن میں رہے گا،نیز شیطان اور اگر اس کی زندگی میں دجال نکلے تو اس کے شر سے محفوظ رہے۔فقہافرماتے ہیں کہ مجاہد اور مُرابِط سے حسابِ قبر بھی نہیں ہوگا اور تنگیٔ قبر و حسابِ قبر سے محفوظ رہے گا،اس فقہی فرمان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”راہِ خدا میں ایک دن رات کا پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہےکیونکہ سرحدوں پر پہرہ دینے کانفع عام اوردوسروں تک پہنچتا ہے جبکہ روزوں اور قیام کا نفع اپنی ذات تک محدود ہے۔ اگر پہرہ دینے والاپہرہ دیتے ہوئے فوت ہوجائے تو اس کا عمل جاری رہتاہے۔ یعنی اس کا وہ عمل جاری رہتا ہے جو وہ دورانِ پہرہ کیا کرتا تھا اور اسے پہرہ دینے کا ثواب بھی دیا جاتاہےنیز اس پر اس کا رزق جاری کردیا جاتاہے،چنانچہ اسے جنتی رزق دیا جاتاہے جیساکہ ان شُہدا کو دیا جاتاہے جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہوتی ہیں اور وہ جنتی پھل کھاتی ہیں۔ وہ قبرکے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے، اس سے یہ اِستدلال کیا گیا ہےکہ سرحدوں پر پہرہ دینے والے سے قبر میں کوئی سوال نہ ہوگا جیسا کہ شہید کامعاملہ ہے ۔ شیخ ولی الدینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْمُبِیْننے فرمایا: قبر کے فتنہ سے مرادمنکر نکیر کے سوالات ہیں۔یہ احتمال بھی ہےکہ منکر نکیر اس کے پاس آئیں گے ہی نہیں، اس سے بالکل سوال ہی نہ ہوگا ، اس کا بالکل بھی امتحان نہ لیا جائے گا اور راہ ِ خدا میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے موت آجانا ہی اس کے ایمان کی دلیل ہوگی۔یہ بھی احتمال ہے کہ منکر نکیر اس کے پاس آئیں مگر وہ ان سے اُنسِیّت پائے گا اس طرح کہ وہ اسے نہ کوئی نقصان پہنچائیں گے نہ ہی اسے ڈرائیں گے اور ان کے آنے سے صاحبِ قبر کوکوئی فتنہ درپیش نہ ہو گا۔ “

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1291