Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1296

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِـمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَاِنَّهَا تَجِيْءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَاَغْزَرِ مَا كَانَتْ:لَوْنُهَا الزَّعْفَرَانُ وَرِيْحُهَا كَالْمِسْكِ. ( )

عن معاذ رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قاتل في سبيل الله من رجل مسلـم فواق ناقة وجبت له الجنة ومن جرح جرحا في سبيل الله او نكب نكبة فانها تجيء يوم القيامة كاغزر ما كانت:لونها الزعفران وريحها كالمسك. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا مُعاذ بن جبلرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اَنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس مسلمان نےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اونٹنی کے دو دفعہ دوہنے کی مقدار جتنابھی جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں کوئی زخم یا تکلیف پہنچی تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ چمکدار ہوگا جیسا کہ تھا،اس کا رنگ زعفرانی اور اس کی خوشبو مشک جیسی ہوگی ۔“

شرح حدیث

دودھ دوہنے کی مقدار:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”شارِحین کہتے ہیں اس وقفے سے مراد یا تو صبح وشام دوہنے کا درمیانی وقفہ ہے کیونکہ اونٹنی کا دودھ ان دو وقتوں میں دوہا جاتا ہے یا ایک وقت میں دو مرتبہ دوہنے کا درمیانی وقفہ مراد ہے کیونکہ عادت یہ ہے کہ ایک مرتبہ اونٹنی کا دودھ دوہہ کر اسے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ تھنوں میں دودھ اتر آئے پھر دوبارہ دوہتے ہیں۔ظاہر یہی ہے کہ یہی دوسرا مطلب مراد ہے، اسی میں مُبالغہ ہے۔“اَوَّل ہی سےجنت میں داخلہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ( جس مسلمان نے اونٹنی کے دو دفعہ دوہنے کی مقدار جتنابھی راہِ خداجہاد میں کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی)”ربّ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر لازم فرمالیا کہ اسے اَوَّل ہی سے جنت میں داخل فرمائے گا گناہوں کی سزا کے لیے اسے دوزخ میں نہ رکھے گا کیونکہ اس کے گناہ اس جہاد کی برکت سے معاف ہوچکے،جب پل بھر کے جہاد کا یہ درجہ ہے تو غورکرو کہ جو ہمیشہ جہاد میں رہے اس کا مرتبہ کیا ہوگا۔(حدیثِ پاک کے الفاظ) جَراحت (اﷲکی راہ میں زخمی کیے جانے)سے مراد وہ زخم ہے جو کفار کے ہاتھوں غازی کوپہنچے اورنُـکْبَت(تکلیف دیے جانے)سے مراد وہ زخم ہے جو گھوڑے سے گر جانے یا اپنا ہتھیار لگ جانے سے غازی کو پہنچے۔(اورزخم چمکدار ہونے سے مراد ہے)یعنی تازہ زخم جتنا سرخ تھا اس سے زیادہ سرخ ہوگا۔مقصد یہ ہے کہ جب جہاد میں اتفافی لگی ہوئی چوٹ کا یہ درجہ ہے تو کفار کے ہاتھوں لگے ہوئے زخم یا قتل کا کیا مرتبہ ہوگا۔“خون کی رنگت زعفرانی ہونے سے مراد:حدیثِ پاک میں جو یہ فرمایا گیا کہ شہید کے زخم کا خون زعفرانی ہوگا اس کی شرح میں ”مرآۃ المناجیح“ میں ہے:”اس طرح کہ زخم کی سرخی میں زعفرانی زردی جھلکتی ہوگی جس سے اس کا حسن زیادہ ہوگا اور اس کی خوشبو سے وہ میدان مہکتا ہوگا جہاں جہاں یہ غازی کھڑا ہوگا۔یہ قیامت میں ہوگا اس علامت سے غازی پہچانا جائے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔“مدنی گلدستہ’’ حجرِاسود‘‘کے7حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) راہِ خدا میں جہا د کرنے والا
اﷲ تعالیٰکے فضل و کرم سے ہر حال میں خیر پاتاہے شہید ہوجائے تو جنت کا حقدار واپس آ ئے توغازی ۔
(2) راہِ خدا میں شہید ہونے والے کا قرض کے سوا ہر گناہ مٹا دیاجاتا ہے۔
(3) شہید بروزِ قیامت
مُقَرَّبِیْنکے ساتھ بِلا حساب وکتاب سب سے پہلے داخلِ جنت ہوگا اور شہادت اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی۔
(4) راہِ خدا میں شہادت کی طلب مستحب کام ہے۔
(5) جس نیکی کا حصول بظاہر ممکن نہ ہو اس کی بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ ”مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔“
(6) جب دو مصلحتوں میں تعارُض ہوتو اہم یاراجح مصلحت اختیار کی جائے ۔
(7) بروزِ قیامت راہِ خدا میں شہید ہونے والے کے زخم ہرے ہوں گے ان سے تازہ خون جاری ہوگا مگر ان میں تکلیف نہ ہوگی۔یہ خون جاری ہونا اس کے مجاہد ہونے کی نشانی ہوگی جس سے تمام محشر والے اس کی عزت کریں گے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے،ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1296