Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1305

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:عَيْنَانِ لَا تَمسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:عينان لا تمسهما النار عين بكت من خشية الله وعين باتت تحرس في سبيل الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہ چھوئے گی :(1)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والی آنکھ اور (2)راہِ خدا میں پہرہ دینے والی آنکھ۔“

شرح حدیث

عشقِ مصطفےٰ میں رونے والی آنکھ بخشی جائےگی:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” خیال رہے کہ جب اس آنکھ کو دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی تو آنکھ والے کو بھی نہ چھوئے گی،یہ مطلب نہیں کہ صرف آنکھ تو آگ سے بچی رہے باقی جسم آگ میں جائے،اگر ایک عضو بخشا جاوے تو اس کے صدقہ سے سارے اَعضا بخشے جائیں گے۔مُصنفین علماءِ دِین کی اگر انگلیاں بخش دی گئیں تواِنْ شَآءَ اﷲسارا جسم بخش دیا جائے گا۔اسی طرح جو آنکھ عشقِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں روئےاِنْ شَآءَ اﷲبخشی جائے گی،دو نعمتیں بڑی شاندار ہیں خوفِ خدا،عشقِ مصطفےٰ(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)۔“
شیخ محقق عبدالحق مُحَدِّثِ دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”وہ آنکھ بھی جہنم سے محفوظ رہے گی جو راہِ خدا میں پہرہ دیتی ہے یعنی جو آنکھ مجاہدین اور ان کے اموال کی دشمنوں سے حفاظت کرتے ہوئے پہرہ داری کرتی ہو وہ آنکھ جہنم سے محفوظ رہے گی ۔“مدنی گلدستہ’’غارِ حرا‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکور ہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ۔
(2) جس کے قدم راہِ خدا میں غبار آلود ہوں اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی ۔
(3) حج،طلبِ علم،جنازہ کی حاضری،بیمارکی تیمارداری اور نماز باجماعت کے لئے سفر کرنا یہ سب راہِ خدا میں شامل ہیں مگر مطلقًا راہِ خدا سے مراد سفرِ جہاد ہے۔
(4) خوفِ خدا سے بہنے والا آنسو اور راہِ خدا کا غباردوزخ کی آگ بجھانے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔
(5) راہِ خدا میں پہر ہ دینے والی آنکھ کو جہنم کی آنکھ نہ چھوئے گی ۔
(6) جو آنکھ عشق ِمصطفےٰ
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں روئےاِنْ شَآءَاﷲوہ بخشی جائے گی اور دو نعمتیں بڑی شاندار ہیں :(1)خوفِ خدا (2)عشقِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ کا مسافر بنائے اور ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1305