Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1306

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ :اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِيْ اَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا.

عن زيد بن خالد رضي الله عنه :ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في اهله بخير فقد غزا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا زید بن خالدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسول اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے راہِ خدا میں کسی غازی کو سامان فراہم کیا تو اس نے جہاد کیا اور جس نے کسی غازی کے پیچھے اس کے گھر والوں کے ساتھ بھلائی کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔“

شرح حدیث

مجاہد کو سامان دینے کی وضاحت:شارِحِ بخاری علّامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیمجاہد کو سامان فراہم کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اس کے لیے سفر کے کپڑے اور دیگر ضروریات کا سامان مہیا کرے تاکہ اس کو سفر میں تکلیف نہ ہو اور لڑائی کے لیے ضروری سامان بھی مہیا کرے اور اس کےبال بچوں کی دیکھ بھال کرے اور ان کو ضروریاتِ زندگی مہیا کرتا رہے اور اس کی بیوی سے خیانت نہ کرے۔ایسا کرنے والا یقیناً خود شریکِ جنگ ہے اور اس کو غازی جیسا ثواب حاصل ہوگا ،اگرچہ اس نے حقیقۃً غزوہ میں شرکت نہیں کی، اسی طرح جو کوئی بُرے کاموں میں مدد دے اس کو گناہ کرنے والے جیسا گناہ ہوگا اور وہ شریکِ معاصی ہوگا۔“مجاہد جیسا ثواب:شارح بخاری علّامہ سید محمود احمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:امام ابنِ حبانعَلَیْہ الرَّحْمَۃنے ”فَقَدْ غَزَا“کے معنیٰ یہ کیے ہیں کہ جتنا اجروثواب راہِ خدا کے غازی کو ہوگا اتناہی ثواب غازی کو سامانِ جہاد مہیا کرنے والے کو ملے گا۔چنانچہ ابنِ حبان نے دوسری سند کے ساتھ حضرت بسر بن سعید سے جوروایت کی ہےاس کے الفاظ یہ ہیں:”غازی کو سامانِ جہاد مہیا کرنے والے کو غازی کے برابر ہی اجر عطا ہوگا اور غازی کے اجر سے کچھ کم نہ ہوگا۔“امام طبریعَلَیْہ الرَّحْمَۃنے اس حدیث کے تحت فرمایا:”جو شخص کسی نیکی کرنے والے کی مدد واِعانت کرے تو اس کے لیے بھی نیکی کرنے والے جیسا ثواب عطا ہوگا اور جو کوئی بُرائی کرنے والے کا معاون ہوگا اس کے نامۂ اعمال میں بھی بُرائی کرنے والے جتنا گناہ لکھا جائے گا ۔“حکمی جہاد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”غازی کو سامانِ سفر، سامانِ جنگ یا روٹی،کپڑا،سواری دینے والے کو بھی جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، یہاں جہاد سے حکمی جہاد مراد ہے یعنی ثواب۔ جو مجاہد کے پیچھے اس کے بال بچوں کی خدمت اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے وہ بھی ثوابِ جہاد میں شریک ہوگیا کیونکہ اُس کی اِس خدمت سے غازی کا دل مطمئن ہوگا جس سے وہ جہاد اچھی طرح کرسکے گا تو گویا یہ شخص غازی کے اطمینانِ دل کا ذریعہ بنا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1306