Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1351

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَ يْرَةَرضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْاَلُوا اﷲ الْعَافِیَۃَ فَاِذَا لَقِيْتُمُوْهُمْ فَاصْبِرُوْا.

عن ابی هر يرةرضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا تتمنوا لقاء العدو واسالوا اﷲ العافیۃ فاذا لقيتموهم فاصبروا.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”دشمن سے لڑنے کی تمنا نہ کرواوراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے عافیت مانگو پھر اگر دشمن سے لڑائی ہوجائے تو صبر سے کام لو۔“

شرح حدیث

اپنی طاقت پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے :فقیہِ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضرت صدیق اکبر (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)نے فرمایا:’’مجھے عافیت ملے اور میں شکر کروں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ بَلا میں مبتلا ہوں اور صبر کروں ۔‘‘حضرت علیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے صاحبزادے سے فرمایا:”اے بیٹے! کسی کو مقابلہ کے لیے نہ بلاؤ اور اگر تمہیں کوئی بلائے تو اس کا مقابلہ کرو اس لیے کہ وہ باغی ہے اور جس کے خلاف بغاوت کی جائے اس کی مدد کیاﷲنے ضمانت لی ہے۔‘‘جہاد کا ایک اہم رکن:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث میں جنگ کی حالت میں صبر کرنے اور ثابت قدم رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور جہاد میں صبرکرنا اور ثابت قدم رہنا جہاد کے اَرکان میں سے ایک اَہم رُکن ہے ۔“حدیثِ مذکور میں چونکہ عافیت کی دعا مانگنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لہٰذا اس ضمن میں تین روایات ملاحظہ فرمائیے۔(1)ایمان کے بعد سب سے بہتر چیز:امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمنبر پرکھڑے ہوئے پھر رونے لگےاور فرمایا:جبخاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپہلے سال ہمارے درمیان منبر پر تشریف فرماہوئے تو رونے لگے پھر فرمایا:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے عَفْو اور عافیت کا سوال کیا کرو کیونکہ یقین کے بعد کسی کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی ۔‘‘(2)دنیا وآخرت میں عافیت:تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:بندہ اس سے افضل کوئی دعا نہیں مانگتا:”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِیعنی ا ےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتاہوں۔“(3)عافیت کاسوا ل محبوب ہے:نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے عافیت کا سوال کرنا اُسے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘مدنی گلدستہ’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مصیبت طلب کرنا ممنوع ہے۔
(2) جنگ کی دعا نہ کی جائے مگرجب جنگ ہوجائے تو پھر خوب ہمت و اِستقلال سے کام لے۔
(3) جہاد میں صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا جہاد کے اَرکان میں سے ایک اَہم رُکن ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں امن وعافیت عطا فرمائے، اپنی حفظ و امان میں رکھے اور جب اس کی طرف سے کوئی آزمائش آجائے تو خوب صبر وہمت سے کام لینے کی توفیق عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1351