Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1341

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَز ْوٍ مَاتَ عَلٰى شُعْبَةٍ مِّنَ النِّفَاقِ.

عن ابي هر يرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من مات ولم يغز ولم يحدث نفسه بغز و مات على شعبة من النفاق.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو شخص اس حال میں مرا کہ نہ تو اس نے جہاد کیا نہ اس کے دل میں جہاد کا خیال آیا تو وہ منافقت کے ایک حصہ پر مرا۔“

شرح حدیث

مرآۃ المناجیح میں ہے:”( جو جہاد کیے بغیر مر گیا )اس طرح کہ اس کی زندگی میں جہاد ہوا ہی نہیں یا اس طرح کہ جہاد تو ہو مگر یہ شریک نہ ہو یا نہ ہوسکے غرضیکہ اس فرمانِ عالی کی کئی صورتیں ہیں۔(دل میں جہاد کا) خیال کرنے سے مراد یا جہاد کی تمنا کرنا ہے یا تیاری جہاد کرنا ہے پہلے معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں نیکی کی تمنا بھی باعثِ ثواب ہے گناہ کی تمنا بھی گناہ۔“جہاد کے لیےہر وقت تیار رہے:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جس نے زندگی بھر نہ کبھی جہاد کا ارادہ کیا اور نہ آرزو رکھی کہ اے کاش! میں غازی ہوتا اوراﷲعَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرتا اور شہید ہوتا پھر وہ اسی حالت میں مرگیا تووہ منافقت کے ایک حصہ پر مرا۔بعض شارِحین نے کہا : مطلب یہ ہے کہ مومن ہر وقت جہاد کا ارادہ رکھے اور اس کی ظا ہر ی نشانی یہ ہے کہ آلات ِ جہاداور سازوسامان ہمیشہ تیار رکھے۔“منافقت کے ایک حصہ پر مرنے سےکیا مرادہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”منافقت کے ایک حصہ پر مرنے سے مرا د نفاق کی ایک قسم پر مرنا ہے یعنی جو اس حالت میں مرا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ اس کا ارادہ کیا تو اس نے اُن منافقین سے مشابہت اختیار کی جو جہاد سے پیچھے رہتے تھے اور جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہوگا۔معلوم ہوا جہاد کا ترک نفاق کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جس نے کسی عبادت کی نیت کی پھروہ عبادت کرنے سے پہلے فوت ہوگیاتو اس پر مذمت نہیں ہےمذمت تو اس پر ہے جو بغیر نیت کے مرجائے۔“
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی ایسا آدمی منافق سے مشابہ ہوگا۔حضرت عبدﷲبن مبارک وغیرہ محدثین نے فرمایا کہ یہ فرمانِ عالی زمانۂ نبویصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں جہاد سے بے گانہ رہنا منافقین کی علامت(تھی)۔ جیسے حدیث پاک میں ہے:”مَنْ تَرَكَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ“جو دانستہ طور پر نماز چھوڑے کافر ہے،یہ بھی اسی زمانہ پاک کے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں بے نمازی ہونا کفار کا نشان تھا،فرماتے ہیں کہ”مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نماز ہے“بعض محدثین فرماتے ہیں کہ یہ حکم ہر زمانہ کے متعلق ہے۔مطلب یہ ہے کہ جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لانا نفاق پیدا کرتا ہے۔ جیسے ارشاد ہوا کہ گانا بجانا بلکہ گانے کی آواز رغبت سے سننا دلی نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کا سَیل(بہاؤ) گھاس کو۔ اسی حدیث کی بنا پربعض علما نے فرمایا کہ جہاد فرضِ عین ہے مگر حق یہ ہے کہ بعض حالات میں فرضِ عین ہوتا ہے اکثر حالات میں فرضِ کفایہ۔“نیک عمل کی قدرت نہ ہوتوکم از کم نیت کرے:عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس اَحْمَد بِن عُمَر بِن اِبْرَاہِیم قُرْطُبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ اگر کسی نیک کام پر قدرت نہ ہو تو کم از کم اس کے کرنےکا پکا ارادہ کرلینا چاہیےیوں کہ اگر موقعہ ملےگا تو ضرور کرےگاتاکہ یہ نیت اس کے فعل کا بدل بن جائے اور اگر نیت وفعل دونوں سے بندہ خالی ہو تو یہ منافق کی حالت ہے جو نہ بھلائی کے کام کرتا ہے اور نہ اس کی نیت خصوصاً جہاد کی جبکہ جہاد وہ عمل ہے جس سےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے اسلام کو عزت عطا فرمائی اور دِین اسلام کو غالب کیا حتّٰی کہ دِین اسلام تمام اَدیان پر غالب آگیا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1341