Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1299

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُّمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ يَـطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً اَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ اَوْرَجُلٌ فِيْ غُنَيْمَةٍ فِيْ رَاْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذَا الشَّعَفِ اَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ ھٰذِہِ الْاَ وْدِيَةِ يُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَيُوْتِيْ الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَاْتِيَهُ الْيَقِيْنُ لَيْسَ مِّنَ النَّاسِ اِلَّا فِيْ خَيْرٍ .

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من خير معاش الناس لهم رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله يـطير على متنه كلما سمع هيعة او فزعة طار عليه يبتغي القتل والموت مظانه اورجل في غنيمة في راس شعفة من هذا الشعف او بطن واد من ھذہ الا ودية يقيم الصلاة ويوتي الزكاة ويعبد ربه حتى ياتيه اليقين ليس من الناس الا في خير .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول ِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ لوگوں میں سب سے بہتر زندگی والا وہ ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہے جب دشمن کی طرف سے شور یا خطرناک آواز سنتا ہے تو گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر اُڑتا ہوا وہاں پہنچتا ہے جہاں موت یا قتل کا گمان ہو،یاوہ شخص(بہتر زندگی والا ہے)جو بکریوں میں رہے پہاڑ کی چوٹیوں میں سےکسی چوٹی میں یا جنگلوں میں سے کسی جنگل میں رہےنماز قائم کرے، زکوٰۃ دیتا رہے اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا رہے حتّٰی کہ اسے موت آجائے تو یہ لوگ خیر ہی میں ہیں ۔“

شرح حدیث

اسلام کا فدائی:” ویسے تو(ایسا شخص) لوگوں سے بے نیاز رہتا ہے مگر جب مسلمانوں کو اس کی جانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے یا مسلمانوں پر کفار ٹوٹ پڑیں یا ڈاکو حملہ کریں اسے خبر لگے کہ فلاں جگہ مسلمان کمزور ہیں مصیبت میں ہیں تو فوراً وہاں پہنچ جائے پرندہ کی طرح یا اڑ کر وہاں پہنچ جائے،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں کہ جب کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو یہ وہاں پہنچ جائے اسلام کی خدمت مسلمانوں کی مدد کے لیے۔یعنی وہ اسلام کا ایسا فدائی ہو مسلمانوں کا ایسا مددگار ہو کہ خدمتِ اسلام و مُسلمین میں قتل ہوجانا یا مرجانا جینے سے بہتر سمجھے،خطرناک موقعوں کی تلاش میں رہتا ہو جہاں لوگ جاتے ہوئے گھبراتے ہوں یہ وہاں شوق سے پہنچتا ہو بہادرجانباز ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اول نمبر کامیاب زندگی والا تووہ پہلا شخص ہے اس کے بعد نمبر دوم کا اعلیٰ زندگی والا وہ ہے( جو کسی پہاڑ پر بکریاں چَرائے ،نماز وزکوٰۃ اد اکرے اور عبادت میں مشغول رہے)۔خیال رہے کہ عرب میں بکریاں بہترین ذریعۂ معاش تھیں اور بعض متقی حضرات دنیا کے جھگڑے سے بچنے کے لیے شہر سے دور جنگل میں ڈیرہ ڈال لیتے تھے کسی پانی والے سر سبز مقام پر رہنے سہنے لگتے تھے، بکریوں کے دودھ پرگزاراکرتے،فتنوں سے الگ رہتے،اب بھی بعض جگہ ایسے بدو دیکھے جاتے ہیں اس لیے بکریوں کا ذکر فرمایا ورنہ جو شخص فتنوں سے بچنے کے لیے آبادی سے دور رہے گزارہ کے لیے کوئی چیز پنشن، جانور، زمین وغیرہ اختیار کرے وہ بھی اس فرمانِ عالی میں داخل ہے۔اگرچہ عبادات میں نمازوزکوٰۃ بھی داخل تھیں مگر چونکہ نماز و زکوٰۃ اعلیٰ درجہ کی عبادت ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر علیٰحدہ فرمایا۔ اس حدیث کی بنا پر بعض زاہدین نے فرمایا کہ گوشہ نشینی افضل ہے،جلوت سے خلوت بہتر مگر حق یہ ہے کہ خلوت سے جلوت افضل،حضرات انبیاءِ کرام لوگوں میں رہے،تبلیغ کرتے رہے،نیز جس رہنے سے جمعہ عیدَیْن نماز باجماعت نصیب ہوتی ہےجنگل میں یہ نعمتیں کہاں،شہر میں علم ہے،ذکر کے حلقے ہیں،اچھوں کی صحبتیں ہیں۔حدیث فتنوں کے ظہور کے زمانہ کے متعلق ہے جب شہروں میں امن نہ رہے یا اس کمزور آدمی کے لیے ہے جو بستی اور اِختلاط(میل جول)کی تکالیف پر صبر نہ کرسکے۔“حاصلِ حدیث:اس حدیث کا حاصل دِین کے دشمنوں کے خلاف جہاد،نفس وشیطان کے مقابلہ کے لیے مجاہدہ، خواہشوں اور لذتوں میں ڈوب جانے سے اِعراض کی ترغیب اور اس بات پر تنبیہ ہے کہ اگر لوگوں سے میل جول رکھے تو دین کی تائید اور شریعت کی تَقوِیَّت کے لیےرکھے ورنہ علیحدگی اختیار کرے اور گوشہ نشین ہوجائے ۔اس حدیث میں میل جول کی نسبت گوشہ نشینی کا افضل ہونا معلوم ہوتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں اصل دارومدار فوائد اورنقصانات پر ہے۔مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) راہِ خدا میں جہاد کرنے والےکے لیے اس کے ہرکام پر بلکہ آرام پربھی ثواب لکھا جاتا ہے۔
(2) مسلمانوں کی امداد کرنا انہیں خوف سے امن میں رکھنا ان کے کام آنا انہیں مشکلات سے بچانا بہادر اور متقی لوگوں کا کام ہے۔
(3) لوگوں سے میل جول دین کی تائید اور شریعت کی تقویت کے لیے ہونی چاہیے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بہتر زندگی والا بنائے اور اپنی راہ میں شہادت کی موت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1299