Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1301

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبّاً وَبِالْاِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَجَبَتْ لَهُ الجَنَّةُ فَعَجِبَ لَهَا اَبُوْ سَعِيْدٍ فَقَالَ:اَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَاَعَادَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:وَاُخْرَى يَرْفَعُ اللهُ بِهَا الْعَبْدَ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَينِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رسولَ الله ؟ قَالَ:الْجِهَادُ في سَبِيْلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ .

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من رضي بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد رسولا وجبت له الجنة فعجب لها ابو سعيد فقال:اعدها علي يا رسول الله فاعادها عليه ثم قال:واخرى يرفع الله بها العبد مائة درجة في الجنة ما بين كل درجتين كما بين السماء والارض قال: وما هي يا رسول الله ؟ قال:الجهاد في سبيل الله، الجهاد في سبيل الله .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ذر غفاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو شخصاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ربّ ہونے،حضرت محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رسول ہونےاور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔حضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےاس پر تعجب کا اظہار کیا اورعرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ حدیث مجھے دوبارہ سنائیے۔رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےانہیں دوبارہ یہ بشارت سنائی پھر ارشاد فرمایا:” دوسری چیز بھی ہے جس کی برکت سے ﷲ تعالیٰ بندے کے سو درجے جنت میں بلند فرماتا ہےاور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ چیز کیا ہے ؟فرمایا: راہِ خدا میں جہاد،راہِ خدا میں جہاد۔“

شرح حدیث

جہاد اکثر فرضِ کفایہ ہوتا ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے:”اﷲ تعالٰیسے راضی ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ بندہ راضی بہ قضا رہے، نعمتوں میں رب تعالیٰ کا شکر کرے،مصیبتوں میں صبر کرے،اسی طرح اسلام کے دین ہونے پر راضی ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ اسلامی احکام پر راضی، دل سے انہیں پسند کرے خواہ سمجھ میں آویں یا نہ آویں اور حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے نبی ہونے پر راضی ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ حضور کے تمام اقوال،افعال،اعمال، احوال سے دلی محبت کرے۔جس چیز کو حضور سے نسبت ہو اسے دل سے محبوب رکھے۔شریعت،طریقت، حقیقت معرفت کو دل سے پسند کرے کیونکہ شریعت حضور انور (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے جسمِ اطہر کے حالات کا نام ہے، طریقت قلبِ پاکِ مصطفےٰ کی واردات ہے،یوں ہی حقیقت و معرفت روحِ پاکِ سِرِّ پاک کی واردات کا نام ہے۔غرضیکہ یہ سب حضور کی ادائیں ہیں ایسے شخص کے لیے دنیا میں ہی جنت واجب ہوچکی کہ جئے گا جنتی ہوکر،مرے گا جنتی ہوکر،اٹھے گا جنتیوں کے زُمرہ میں۔(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ ربّ تعالیٰ کافرمان:﴿وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)﴾(پ۲۷،الرحمٰن:۴۶)(ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔)میں دو جنتوں سے مراد دنیا و آخرت کی جنت ہے یعنی رب تعالیٰ سے ڈرنے والے کے لیے ایک جنت دنیا میں ہے اور دوسری جنت آخرت میں۔سُبْحَانَ اﷲ! کیسی پیاری بات کہی۔حضور کی شریعت، اطاعت،محبت دنیا کی جنت ہے۔(حضرت سیدنا ابو ذر غفاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا)یہ تعجب انتہائی خوشی کا تھا اور دوبارہ کہلوانا اس لیے تھا کہ ایسے ہمارے بشارت والے کلمے پھر ایسے بے مثال بشیرونذیر کے لبوں سے بہت لذیذ معلوم ہوئے۔شعر
وہ گُل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
اگرچہ اسلام میں جہاد بھی آ گیا تھا مگر چونکہ یہ دوسرے اعمال سے بہت افضل ہے اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے اس لیے اسے خصوصیت سے علیٰحدہ بیان فرمایا یا مطلب یہ ہے کہ جسے جہاد نصیب ہوجائے اسی کے یہ درجے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد اکثر فرضِ کفایہ ہوتا ہے۔“
جنتی درجات سے مراد:دلیل الفالحین میں ہے:حضرت سَیِّدُنَا قاضی عیاضرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول ہے اور درجات سے مراد منازل ہیں جوبعض بعض سے بلند ہیں اور جنت کی ایسی ہی صفت ہے جیساکہ حدیث میں آیا ہے جنتی اپنے بالاخانوں سے چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح نظر آئیں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ بلندی سے یہاں یہ مراد ہوکہ انہیں اتنی کثیر اور عظیم نعمتیں ملیں گی جن کا کوئی انسان تصور کر سکتا ہے نہ بیان کرسکتا ہے اور اُن کو عزت وکرامت کی اِس قدر اَنواع واَقسام حاصل ہوں گی جن کی بہت زیادہ فضیلت ہوگی یا یہ کہ اُن کی فضیلت کا ہر درجہ اتنا بڑا ہوگا جتنا زمین وآسمان میں فاصلہ ہے۔“حضرت سَیِّدُنَا امام قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”درجہ اونچی منزل ہے مراد اس سے جنتی بالاخانے اور مراتب ہیں جن میں سےسب سے اونچا مرتبہ جنت الفردوس ہے ۔ان سو جنتی درجات سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جنتی درجات کی تعداد صرف سو ہی ہےبلکہ اس کی تعداد بہت زیادہ ہے جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ایک حدیث پاک میں ہے کہ قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا:”قرآن پڑھتا جا اور جنتی درجات طے کرتا جا، تیری منزل وہ آخری آیت ہے جو تو تلاوت کرےگا۔“یہ حدیث پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے جنتی درجات کی تعداد قرآن پاک کی آیات کے برابر ہے اور قرآن پاک کی آیات کی تعداد چھ ہزار سے زائد ہے لہٰذا وہ انسان جسے جہاد اورقرآن دونوں کی فضیلت حاصل ہو اسے یہ تمام درجات حاصل ہوں گے اور اسی طرح اعمال کے بڑھنے سے بھی درجات میں اضافہ ہوتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) راہِ خدا میں جہاد کرنے والے کے لیے سو درجات ہیں اور ہر درجہ اتنا وسیع ہے کہ ان میں سے ایک درجہ میں تمام جہان والے جمع ہوجائیں تو سب کو کافی ہو۔
(2)
اﷲ تعالٰیسے راضی ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ بندہ تقدیرِ الٰہی پر راضی رہے،نعمتوں پر ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کرےاور مصیبتوں میں صبر کرے۔
(3) حضور ِانور
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اَطہرکے حالات کا نام شریعت،قلبِ پاکِ مصطفےٰ کی واردات کا نام طریقت اور روحِ پاکِ سِرِّ پاک کی واردات کا نام حقیقت و معرفت ہے۔
(4) جنت میں سب سے اونچا مرتبہ جنت الفردوس ہے۔
(5) جنتی درجات صرف سو ہی میں منحصر نہیں بلکہ بہت زیادہ ہیں جنہیں
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہی بہتر جانتا ہے ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1301