Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1317

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَال:غَابَ عَمِّي اَنَسُ بْنُ النَّضْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ غِبْتُ عَنْ اَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلْتَ الْمُشْرِكِينَ لَئِنِِ اللهُ اَشْهَدَنِيْ قِتَالَ الْمُشْرِكِيْنَ لَيَرَيَنَّ اللهُ مَا اَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَومُ اُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ:اَللَّهُمَّ اِنِّي اَعْتَذِرُ اِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هٰؤُلَاءِ (يَعْنِيْ اَصْحَابَهُ) وَاَبْرَاُ اِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هٰؤُلَاءِ (يَعْنِي الْمُشْرِكِيْنَ) ثُمَّ تَقَدَّمَ فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ: يَا سَعَدَ بْنَ مُعَاذٍ الْجَنَّةَ وَرَبِّ النَّضْرِ اِنِّيْ اَجِدُ رِيْحَهَا مِنْ دُوْنِ اُحُدٍ! فَقَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا صَنَعَ ! قَالَ اَنَسٌ: فَوَجدْنَا بِهِ بِضْعًا وَثَمَانِيْنَ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ اَوْطَعْنَةً برُمْحٍ اَوْرَمْيَةً بِسَهْمٍ وَوَجَدْنَاهُ قَدْ قُتِلَ وَمَثَّلَ بِهِ الْمُشْرِكُوْنَ فَمَا عَرَفَهُ اَحَدٌ اِلَّا اُخْتُهُ بِبَنَانِهِ قَالَ اَنَسٌ:كُنَّا نَـرَى اَوْ نَظُنُّ اَنَّ هٰذِهِ الْآيَةَ نَـزَلَتْ فِيْهِ وَفِي اَشْبَاهِهِ:﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳)﴾

عن انس رضي الله عنه قال:غاب عمي انس بن النضر رضي الله عنه عن قتال بدر فقال: يا رسول الله غبت عن اول قتال قاتلت المشركين لئن الله اشهدني قتال المشركين ليرين الله ما اصنع فلما كان يوم احد انكشف المسلمون فقال:اللهم اني اعتذر اليك مما صنع هؤلاء (يعني اصحابه) وابرا اليك مما صنع هؤلاء (يعني المشركين) ثم تقدم فاستقبله سعد بن معاذ فقال: يا سعد بن معاذ الجنة ورب النضر اني اجد ريحها من دون احد! فقال سعد: فما استطعت يا رسول الله ما صنع ! قال انس: فوجدنا به بضعا وثمانين ضربة بالسيف اوطعنة برمح اورمية بسهم ووجدناه قد قتل ومثل به المشركون فما عرفه احد الا اخته ببنانه قال انس:كنا نـرى او نظن ان هذه الآية نـزلت فيه وفي اشباهه:﴿ من المؤمنین رجال صدقوا ما عاهدوا الله علیه-فمنهم من قضى نحبه و منهم من ینتظر ﳲ و ما بدلوا تبدیلا(۲۳)﴾

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میرے چچا انس بن نضررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکےتو انہوں نے عرض کیا:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے مشرکین کےخلاف جو پہلا جہاد کیا میں اس میں شریک نہ ہوسکا ،اگراﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے لڑائی میں جانے کا موقع دیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّدیکھے گا میں کیا کرتا ہوں؟چنانچہ جب اُحد کا دن آیا اور مسلمانوں کو (بظاہر)شکست ہوئی تو انہوں نے کہا:اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!میں تیری بارگاہ میں اس کام سے معذرت خواہ ہوں جو میرے ان ساتھیوں نے کیا اور اس کام سے بَریُ الذِّمہ ہوں جو مشرکین نے کیا۔پھر وہ آگے بڑھےحضرت سعد بن معاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے:اے سعد بن معاذ!جنت،نضر کے ربّ کی قسم! میں اُحد سے جنت کی خوشبو محسوس کررہا ہوں۔حضرت سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جو انہوں نے کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔حضرت انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہم نے ان کے جسم پر اَسّی سے زائدتلوار کی ضربوں ،نیزے کے زخموں یا تیر کےنشانات پائےاور ہم نے دیکھا کہ وہ شہید ہوچکے ہیں اور مشرکین نے ان کامُثلہ کردیا (چہرہ بگاڑ دیا)ہے ۔ہم میں سے کوئی انہیں نہ پہچان سکا البتہ ان کی بہن نے انگلیوں کے پَوروں سے ان کی شناخت کی۔ہمارا خیال یا گمان ہے کہ یہ آیت ان کے یا ان جیسے لوگوں کےحق میں نازل ہوئی:﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳﴾(پ۲۱،الاحزاب:۲۳) (ترجمۂ کنزالایمان:مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہداﷲسے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی مَنّت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے۔)

شرح حدیث

طلب ِشہادت :شارِحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سب سے پہلا غزوۂ بدر لڑا تھا جو ہجرت کے دوسرے سال لڑا گیا تھا ۔اس میں حضرت انس بن نضررَضِیَ اﷲ عَنْہُشمولیت نہ کرسکے تھےاس لیے انہوں نے اپنے اوپر لازم کرلیا کہ آئندہ اگر کسی غزوہ میں ان کو حاضر ہونے کا موقعہ ملا تو وہ اپنی بہادری کے جواہر بروئے کار لائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ کفار کی صفوں میں گھس گئے اور ان کے ساتھ لڑتے ہوئے جان آفرین کو قربان کرکے شہید ہوگئے ۔انہوں نے گفتگو کے دوران کہا :میں جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں ۔ابنِ بطالرَحِمَہُ اﷲ تَعَالٰینے کہا:ممکن ہے کہ انہوں نے حقیقۃ ًجنت کی خوشبو پائی ہو یا جنت کی خوشبو جیسی خوشبو پائی ہواور یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ انہوں نے شُہدا کی جنت کا تصور کیا ہوجو ان کے لیے تیار کی گئی ہے اور یہ تصور کیا ہو کہ وہ جنت اسی مقامِ کارِ زار میں ہے جس کی وہ خوشبوپار ہے ہیں تو حدیث کا معنیٰ یہ ہوگا کہ میں جانتا ہوں کہ جنت اسی مقام میں حاصل کی جاسکتی ہے اس لیے ان کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد میں جان کی پروا ہ نہیں کرنی چاہیے اور عہد کو پورا کرنا چاہیےاگرچہ اس کی تکمیل میں جتنی بھی مشقت برداشت کرنی پڑے حتّٰی کہ اِیفائے عہد میں جان کی بازی لگادینی چاہیے اور طلبِ شہادت ممنوع نہیں۔“جنت کا سودا:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال کراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا جائز ہےاور یہ اس آیت کے منافی نہیں ہے:﴿وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِﳝ-﴾(پ۲،البقرۃ:۱۹۵)’’ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔‘‘جنہوں نے جہاد میں ثابت قدم رہنے کااﷲ عَزَّ وَجَلَّسے عہدکیا(جن میں حضرت انس بن نضررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے) تو انہوں نے مشرکین سے لڑائی میں اپنے آپ کو سخت مشقت اور شدت میں ڈال کراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے کیے ہوئے عہد کو پوراکیا یوں انہوں نے اپنی جانوں کے بدلے جنت کاسوداکیا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1317