- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- حدیث نمبر 1317
باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1317
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
- حدیث
-
- 1285
- 1286
- 1287
- 1288
- 1289
- 1290
- 1291
- 1292
- 1293
- 1294
- 1295
- 1296
- 1297
- 1298
- 1299
- 1300
- 1301
- 1302
- 1303
- 1304
- 1305
- 1306
- 1307
- 1308
- 1309
- 1310
- 1311
- 1312
- 1313
- 1314
- 1315
- 1316
- 1317
- 1318
- 1319
- 1320
- 1321
- 1322
- 1323
- 1324
- 1325
- 1326
- 1327
- 1328
- 1329
- 1330
- 1331
- 1332
- 1333
- 1334
- 1335
- 1336
- 1337
- 1338
- 1339
- 1340
- 1341
- 1342
- 1343
- 1344
- 1345
- 1346
- 1347
- 1348
- 1349
- 1350
- 1351
- 1352
- اگلا
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَال:غَابَ عَمِّي اَنَسُ بْنُ النَّضْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ غِبْتُ عَنْ اَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلْتَ الْمُشْرِكِينَ لَئِنِِ اللهُ اَشْهَدَنِيْ قِتَالَ الْمُشْرِكِيْنَ لَيَرَيَنَّ اللهُ مَا اَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَومُ اُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ:اَللَّهُمَّ اِنِّي اَعْتَذِرُ اِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هٰؤُلَاءِ (يَعْنِيْ اَصْحَابَهُ) وَاَبْرَاُ اِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هٰؤُلَاءِ (يَعْنِي الْمُشْرِكِيْنَ) ثُمَّ تَقَدَّمَ فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ: يَا سَعَدَ بْنَ مُعَاذٍ الْجَنَّةَ وَرَبِّ النَّضْرِ اِنِّيْ اَجِدُ رِيْحَهَا مِنْ دُوْنِ اُحُدٍ! فَقَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا صَنَعَ ! قَالَ اَنَسٌ: فَوَجدْنَا بِهِ بِضْعًا وَثَمَانِيْنَ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ اَوْطَعْنَةً برُمْحٍ اَوْرَمْيَةً بِسَهْمٍ وَوَجَدْنَاهُ قَدْ قُتِلَ وَمَثَّلَ بِهِ الْمُشْرِكُوْنَ فَمَا عَرَفَهُ اَحَدٌ اِلَّا اُخْتُهُ بِبَنَانِهِ قَالَ اَنَسٌ:كُنَّا نَـرَى اَوْ نَظُنُّ اَنَّ هٰذِهِ الْآيَةَ نَـزَلَتْ فِيْهِ وَفِي اَشْبَاهِهِ:﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳)﴾
عن انس رضي الله عنه قال:غاب عمي انس بن النضر رضي الله عنه عن قتال بدر فقال: يا رسول الله غبت عن اول قتال قاتلت المشركين لئن الله اشهدني قتال المشركين ليرين الله ما اصنع فلما كان يوم احد انكشف المسلمون فقال:اللهم اني اعتذر اليك مما صنع هؤلاء (يعني اصحابه) وابرا اليك مما صنع هؤلاء (يعني المشركين) ثم تقدم فاستقبله سعد بن معاذ فقال: يا سعد بن معاذ الجنة ورب النضر اني اجد ريحها من دون احد! فقال سعد: فما استطعت يا رسول الله ما صنع ! قال انس: فوجدنا به بضعا وثمانين ضربة بالسيف اوطعنة برمح اورمية بسهم ووجدناه قد قتل ومثل به المشركون فما عرفه احد الا اخته ببنانه قال انس:كنا نـرى او نظن ان هذه الآية نـزلت فيه وفي اشباهه:﴿ من المؤمنین رجال صدقوا ما عاهدوا الله علیه-فمنهم من قضى نحبه و منهم من ینتظر ﳲ و ما بدلوا تبدیلا(۲۳)﴾
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میرے چچا انس بن نضررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکےتو انہوں نے عرض کیا:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے مشرکین کےخلاف جو پہلا جہاد کیا میں اس میں شریک نہ ہوسکا ،اگراﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے لڑائی میں جانے کا موقع دیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّدیکھے گا میں کیا کرتا ہوں؟چنانچہ جب اُحد کا دن آیا اور مسلمانوں کو (بظاہر)شکست ہوئی تو انہوں نے کہا:اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!میں تیری بارگاہ میں اس کام سے معذرت خواہ ہوں جو میرے ان ساتھیوں نے کیا اور اس کام سے بَریُ الذِّمہ ہوں جو مشرکین نے کیا۔پھر وہ آگے بڑھےحضرت سعد بن معاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے:اے سعد بن معاذ!جنت،نضر کے ربّ کی قسم! میں اُحد سے جنت کی خوشبو محسوس کررہا ہوں۔حضرت سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جو انہوں نے کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔حضرت انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہم نے ان کے جسم پر اَسّی سے زائدتلوار کی ضربوں ،نیزے کے زخموں یا تیر کےنشانات پائےاور ہم نے دیکھا کہ وہ شہید ہوچکے ہیں اور مشرکین نے ان کامُثلہ کردیا (چہرہ بگاڑ دیا)ہے ۔ہم میں سے کوئی انہیں نہ پہچان سکا البتہ ان کی بہن نے انگلیوں کے پَوروں سے ان کی شناخت کی۔ہمارا خیال یا گمان ہے کہ یہ آیت ان کے یا ان جیسے لوگوں کےحق میں نازل ہوئی:﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳﴾(پ۲۱،الاحزاب:۲۳) (ترجمۂ کنزالایمان:مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہداﷲسے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی مَنّت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے۔)
شرح حدیث
طلب ِشہادت :شارِحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سب سے پہلا غزوۂ بدر لڑا تھا جو ہجرت کے دوسرے سال لڑا گیا تھا ۔اس میں حضرت انس بن نضررَضِیَ اﷲ عَنْہُشمولیت نہ کرسکے تھےاس لیے انہوں نے اپنے اوپر لازم کرلیا کہ آئندہ اگر کسی غزوہ میں ان کو حاضر ہونے کا موقعہ ملا تو وہ اپنی بہادری کے جواہر بروئے کار لائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ کفار کی صفوں میں گھس گئے اور ان کے ساتھ لڑتے ہوئے جان آفرین کو قربان کرکے شہید ہوگئے ۔انہوں نے گفتگو کے دوران کہا :میں جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں ۔ابنِ بطالرَحِمَہُ اﷲ تَعَالٰینے کہا:ممکن ہے کہ انہوں نے حقیقۃ ًجنت کی خوشبو پائی ہو یا جنت کی خوشبو جیسی خوشبو پائی ہواور یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ انہوں نے شُہدا کی جنت کا تصور کیا ہوجو ان کے لیے تیار کی گئی ہے اور یہ تصور کیا ہو کہ وہ جنت اسی مقامِ کارِ زار میں ہے جس کی وہ خوشبوپار ہے ہیں تو حدیث کا معنیٰ یہ ہوگا کہ میں جانتا ہوں کہ جنت اسی مقام میں حاصل کی جاسکتی ہے اس لیے ان کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد میں جان کی پروا ہ نہیں کرنی چاہیے اور عہد کو پورا کرنا چاہیےاگرچہ اس کی تکمیل میں جتنی بھی مشقت برداشت کرنی پڑے حتّٰی کہ اِیفائے عہد میں جان کی بازی لگادینی چاہیے اور طلبِ شہادت ممنوع نہیں۔“جنت کا سودا:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال کراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا جائز ہےاور یہ اس آیت کے منافی نہیں ہے:﴿وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِﳝ-﴾(پ۲،البقرۃ:۱۹۵)’’ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔‘‘جنہوں نے جہاد میں ثابت قدم رہنے کااﷲ عَزَّ وَجَلَّسے عہدکیا(جن میں حضرت انس بن نضررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے) تو انہوں نے مشرکین سے لڑائی میں اپنے آپ کو سخت مشقت اور شدت میں ڈال کراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے کیے ہوئے عہد کو پوراکیا یوں انہوں نے اپنی جانوں کے بدلے جنت کاسوداکیا۔“
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1317